بدھ 16 ستمبر 2026 - 12:21
فقاہت اور تبلیغ؛ حوزہ علمیہ کے دو بنیادی فرائض ہیں، ڈگری کے لیے تعلیم حاصل نہ کریں: حجۃالاسلام قرائتی

حوزہ/ حجۃ الاسلام والمسلمین محسن قرائتی نے فقہ و دینی تعلیم میں تفقہ اور دین کی تبلیغ کو حوزہ علمیہ کے دو بنیادی فرائض قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ کو صرف ڈگری حاصل کرنے کے لیے تعلیم حاصل نہیں کرنی چاہیے، بلکہ حوزہ علمیہ کا مقصد ایسے عالمِ دین کی تربیت ہونا چاہیے جو علم حاصل کرنے، اسے دوسروں تک پہنچانے اور اپنی زندگی میں اس پر عمل کرنے والا ہو۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین محسن قرائتی نے قم میں مؤسسۂ آموزش عالی حوزوی امام مہدی علیہ السلام (مرکز تخصصی مہدویت و نماز) کے نئے تعلیمی سال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طلبہ کی علمی اور تبلیغی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ طلبہ کا علمی سفر تین مرحلوں پر مشتمل ہوسکتا ہے: علم کی پیداوار، دینی معارف کی ترویج اور حاصل شدہ علم پر عمل۔ اعلیٰ درجے پر ایک طالب علم تحقیق، اجتہاد اور علمی تصنیف کے ذریعے علم کی پیداوار میں کردار ادا کرتا ہے، جبکہ ہر طالب علم قرآن کریم اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو قلم، بیان اور تبلیغ کے ذریعے معاشرے تک پہنچا سکتا ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین قرائتی نے امام رضا علیہ السلام کی اس روایت کا حوالہ دیا کہ اگر لوگ اہل بیت علیہم السلام کے کلام کی خوبیاں جان لیں تو ان کی پیروی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دینی علم کا حقیقی مقصد یہ ہے کہ وہ انسان کے کردار اور عمل میں بھی ظاہر ہو۔

انہوں نے طلبہ کو مسلسل علم حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو خود کو علم سے بے نیاز یا مکمل فارغ التحصیل نہیں سمجھنا چاہیے۔ قرآن کریم میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی دعا سکھائی گئی: «رَبِّ زِدْنِي عِلْماً» یعنی ’’اے میرے پروردگار! میرے علم میں اضافہ فرما۔‘‘

حوزہ علمیہ کے مقصد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ طلبہ کو ڈگری حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ علم حاصل کرنے کے لیے پڑھنا چاہیے۔ ڈگری ضروری ہوسکتی ہے، لیکن اسے تعلیم کا مقصد نہیں بنانا چاہیے۔ اصل مقصد ایسے عالمِ ربانی کی تربیت ہے جو قرآن و معارفِ الٰہی سے وابستہ ہو اور علم حاصل کرنے کے ساتھ اسے دوسروں تک بھی پہنچائے۔

انہوں نے تبلیغ دین میں استقامت اور بے خوفی پر زور دیتے ہوئے آیت «الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَالاتِ اللَّهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَداً» کا حوالہ دیا اور کہا کہ دینی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے انسان کو اللہ کے سوا کسی سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین قرائتی نے کہا کہ حوزہ علمیہ کو ایسے علماء تیار کرنے چاہئیں جو معاشرے کے دینی سوالات اور شبہات کا علمی اور منطقی جواب دے سکیں۔ اس کے لیے مسلسل مطالعہ، تحقیق اور علمی تربیت ضروری ہے۔

انہوں نے تعطیلات کے دوران بھی علمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ تعطیلات کو مطالعہ، تحقیق اور تصنیف کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ’’تفسیر نمونہ‘‘ کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اس کی 27 جلدوں میں سے بیشتر کام تعطیلات کے دوران مکمل کیا گیا۔

انہوں نے آخر میں طلبہ پر زور دیا کہ وہ حوزوی تعلیم کو سنجیدگی سے لیں اور علم، تبلیغ اور عمل کو اپنی دینی زندگی کا مستقل حصہ بنائیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha