حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے حوزات علمیہ میں نہج البلاغہ کی تدریس اور علوم عقلی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام میں انقلابی سوچ پیدا کرنا صرف نصیحت اور وعظ سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے مضبوط علمی بنیاد ضروری ہے۔
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے کہا کہ حوزہ علمیہ میں فقہ کے ساتھ علم کلام، فلسفہ، تفسیر، نہج البلاغہ اور صحیفہ سجادیہ جیسے علوم پر بھی توجہ ضروری ہے۔ ان کے بقول، انقلابی سوچ کو مضبوط بنانے کے لیے نہج البلاغہ کی تعلیم اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ نہج البلاغہ کو حوزہ میں مختلف سطحوں پر پڑھایا جائے۔ رسائل و مکاسب پڑھنے والے طلبہ کو نہج البلاغہ کے نسبتاً آسان حصے اور کفایہ و اعلیٰ سطح کی درسی کتابیں پڑھنے والے طلبہ کو اس کے مشکل مباحث پڑھائے جائیں۔
آیت اللہ جوادی آملی نے کہا کہ نہج البلاغہ کے بعض مباحث کو سمجھنے کے لیے علوم عقلی سے واقفیت ضروری ہے۔ انہوں نے نہج البلاغہ میں موجود مسئلہ علت و معلول کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مباحث کو سمجھنے کے لیے فلسفے اور علم کلام کا گہرا مطالعہ ضروری ہے۔
انہوں نے اسلام کی سیاسی اور اجتماعی تاریخ سے واقفیت کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ جو شخص موجودہ حالات اور سیاسی مسائل کو سمجھنا چاہتا ہے، اسے سقیفہ، جنگ جمل اور صدر اسلام کے دیگر اہم واقعات کا درست علم ہونا چاہیے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے ’’کنزالفوائد‘‘ میں موجود رسالہ ’’العَجَب‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے لوگوں کو حضرت علی علیہ السلام کی حمایت کے لیے بلایا، لیکن کسی نے ساتھ نہیں دیا، جبکہ بعد میں بعض لوگوں کی جانب سے حضرت علیؑ کے خلاف جنگ کے لیے لوگوں کو بلانے پر بڑی تعداد میں افراد جمع ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی معاشرے کو حقائق سے دور کرنے اور باطل کو غالب کرنے کے لیے صرف سیاسی اقدامات نہیں بلکہ فکری اور علمی عوامل بھی مؤثر ہوتے ہیں۔
آیت اللہ جوادی آملی نے مزید کہا کہ حوزہ اور یونیورسٹی کو اپنے علمی نظام کے ذریعے لوگوں کو دشمن کی فکری اور سیاسی سرگرمیوں سے آگاہ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، نہج البلاغہ کی باقاعدہ تدریس اور علوم عقلی کی مضبوط تعلیم اس سلسلے میں اہم ضرورت ہے۔










آپ کا تبصرہ