بدھ 21 اکتوبر 2026 - 20:24
حریت، غیرت اور شجاعت اسلامی اخلاق کے اہم اصول ہیں: آیت اللہ جوادی آملی

حوزہ/ آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے اخلاق اسلامی میں حریت، غیرت اور میدان جنگ میں شجاعت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسان کو بدعنوانی اور ناجائز مالی فائدے سے دور رہنا چاہیے، جبکہ ملک اور معاشرے کی حفاظت کے لیے دشمن کی جارحیت کے مقابلے میں ثابت قدمی اور دفاعی ذمہ داریوں کی ادائیگی ضروری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے قم المقدسہ کی مسجد اعظم میں ہفتہ وار درس اخلاق سے خطاب کرتے ہوئے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات کی روشنی میں اخلاق اسلامی کے تین بنیادی اصولوں، یعنی حریت و آزادی، غیرت اور میدان جنگ میں شجاعت کی وضاحت کی۔ انہوں نے موجودہ حالات میں ملک کی سلامتی، عزت اور دفاع کرنے والے فوجیوں کی حمایت پر بھی زور دیا۔

آیت اللہ جوادی آملی نے کہا کہ آزادی و حریت کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے مفادات کے لیے غلط راستہ اختیار نہ کرے اور اپنی عزت و شرافت کو معمولی دنیاوی فائدوں کے بدلے فروخت نہ کرے۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسان کی حقیقی قدر و قیمت جنت ہے، اس لیے اسے اپنی زندگی رشوت، مالی بدعنوانی، اختلاس اور گراں فروشی جیسے غلط کاموں سے آلودہ نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ انسان کو حلال اور جائز طریقے سے اپنی زندگی گزارنی چاہیے اور دوسروں کے حقوق پامال کرکے فائدہ حاصل کرنے سے بچنا چاہیے۔ آزادی و حریت اسلامی اخلاق کا ایک اہم اصول ہے، جس پر معاشرے میں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

غیرت کا تقاضا ہے کہ ملک کی حفاظت کی جائے

آیت اللہ جوادی آملی نے غیرت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی تعلیمات میں انسان کی جان، مال اور اس کے حریم پر حملے کے مقابلے میں دفاع کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہونے والی روایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غیرت کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو ناحق اپنے حریم میں مداخلت اور تجاوز کی اجازت نہ دی جائے۔

انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی سرزمین پر جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے ملک کی سرحدوں اور قومی عزت و سلامتی کی حفاظت اور اس جارحیت کے مقابلے میں استقامت کی ضرورت پر زور دیا۔

فوجیوں کے لیے ہوشیاری ضروری ہے

انہوں نے نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر 11 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے فوجیوں کو میدان جنگ میں بیدار اور چوکس رہنے کی تاکید کی ہے۔ دفاعی ذمہ داری ادا کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ڈیوٹی کے دوران غفلت سے بچیں اور دشمن کے ممکنہ حملے کے مقابلے کے لیے تیار رہیں۔

آیت اللہ جوادی آملی نے فوجیوں کی خدمات اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آرام ضروری ہے، لیکن پہرے اور نگرانی کی ذمہ داری کے وقت ایسی غفلت نہیں ہونی چاہیے جس سے دفاعی تیاری متاثر ہو۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی پر زور

آیت اللہ جوادی آملی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بت شکنی اور بت پرستی کے خلاف جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم نے مسلمانوں کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے طریقے کی پیروی کی دعوت دی ہے۔ ان کے مطابق، مسلمانوں کو بھی دین، عزت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے حالات کے تقاضوں کے مطابق ضروری وسائل کے ساتھ مزاحمت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

آخر میں انہوں نے ایران کے عوام، فوجیوں، علماء اور معاشرے کی خدمت کرنے والوں کے لیے دعا کی اور اللہ تعالیٰ سے عزت، شرافت اور دنیا و آخرت کی کامیابی عطا کرنے کی درخواست کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha