حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے قم کی مسجد اعظم میں اپنے ہفتہ وار درس اخلاق میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے نہج البلاغہ میں موجود ارشادات کی روشنی میں توحید اور اس کے انفرادی و اجتماعی اثرات بیان کیے۔
انہوں نے کہا کہ موحد وہ شخص نہیں جو صرف زبان سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرے، بلکہ اس کے اعمال اور زندگی کے تمام معاملات میں توحید کے آثار نمایاں ہونے چاہئیں۔ انسان کو اپنی زندگی کے تمام شعبوں کو «لا حول ولا قوة إلا بالله» کے سائے میں دیکھنا چاہیے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے علم پر عمل کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں: «لَا تَجْعَلُوا عِلْمَکُمْ جَهْلًا، وَیَقِینَکُمْ شَکّاً»؛ اپنے علم کو جہالت اور یقین کو شک نہ بناؤ۔ جب حق کو جان لو تو اس پر عمل کرو۔ انہوں نے خاص طور پر حوزوی طلبہ اور علما کو اپنے علمی سرمایہ کو ضائع نہ کرنے کی نصیحت کی۔
انہوں نے کہا کہ انسان کی کتاب، تحریر، گفتگو اور تقریر اس کی علمی شخصیت کی نمائندگی کرتی ہے، اس لیے ہر بات سوچ سمجھ کر کہنی اور لکھنی چاہیے۔
سماجی تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ضرورت مند کے سامنے عزت کے ساتھ پیش آنا چاہیے، کیونکہ «المسکین رسول الله»؛ ضرورت مند گویا خدا کا فرستادہ ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے رزق کے بارے میں بھی امید دلائی اور کہا کہ انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ کے پاس موجود رزق محفوظ ہے۔
انہوں نے ظلم کے مقابلے میں عزت و استقامت پر زور دیتے ہوئے امیرالمؤمنین علیہ السلام کا فرمان نقل کیا: «لَا یَمْنَعُ الضَّیْمَ الذَّلِیلُ»؛ ذلت قبول کرنے والا ہی ظلم برداشت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا: عزت و سربلندی کے ساتھ زندگی گزاریں اور ستم پذیر نہ بنیں۔ مردانہ زندگی گزارنے کا مطلب شجاعت اور ہنرمندی کے ساتھ زندگی گزارنا ہے۔
انہوں نے عوام کی استقامت اور قربانیوں کو قوم کی عظمت اور اتحاد کا مظہر قرار دیا اور آخر میں مرحومین، شہداء اور حاضرین کے لیے دعا کی۔










آپ کا تبصرہ