حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ جوادی آملی کا ہفتہ وار درس اخلاق مسجد اعظم قم میں لوگوں کے مختلف طبقات کی موجودگی میں منعقد ہوا۔
انہوں نے نہج البلاغہ کی حکمت نمبر 192 کو بیان کرتے ہوئے کہا: حضرت امیرالمؤمنين علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "یَا ابْنَ آدَمَ، مَا کَسَبْتَ فَوْقَ قُوتِکَ، فَأَنْتَ فِیهِ خَازِنٌ لِغَیْرِکَ" یعنی اے فرزند آدم! تو نے اپنی غذا سے جو زیادہ کمایا ہے اس میں دوسرے کا خزانچی ہے۔ پس جو شخص بھی اپنی ضرورت سے زیادہ فراہم کرتا ہے تو اس نے گویا اسے دوسروں کے لیے ذخیرہ کیا ہے اور ان کے لیے چھوڑ دیا ہے۔
اس مرجع تقلید نے مزید کہا: اس فرمان سے یہ بھی نتیجہ لیا جا سکتا ہے کہ آپ اپنی ضرورت سے زائد دوسروں کے لئے بھی کام کر سکتے ہیں اور معاشرے کو غربت سے بچانے کے لیے کوشش کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کام، پیداوار اور روزگار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: کام اور پیداوار وہ بہترین نعمت اور خدمت ہے جو معاشرے کو غربت سے بچاتی ہے۔ جب تک ہم زندہ ہیں، ہمیں کام اور پیداوار کو آگے بڑھانا چاہیے اور معاشرے سے غربت کا خاتمہ کرنا چاہیے کیونکہ غریب معاشرہ غیروں کا آلہ بن جاتا ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے آخر میں کہا: جمہوری اسلامی ایران کے پاس باوقار اور شان و شوکت کے حامل لوگ ہیں، جنہوں نے بزرگوں اور علماء کے ساتھ مل کر اس شان و شوکت کو حاصل کیا ہے۔ خداوند متعال ایران کے اس عظمت و وقار کو دعا و توسل کے ذریعے محفوظ رکھے گا۔









آپ کا تبصرہ