حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے "تفسیر تسنیم" میں اس بات پر زور دیا ہے کہ الفاظ؛ معانی کی منتقلی کا ایک محدود ذریعہ ہیں۔ انہوں نے معارفِ قرآن کے فروغ کے لیے فلم اور کیمرے کو بہترین ’’لسانِ قوم‘‘ قرار دیا ہے۔
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے کہا: قرآن کریم کا پیغام ہر دور میں عصرِ حاضر کی زبان میں دنیا کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے۔ وحیِ الٰہی کے مفاہیم و معانی اور الفاظ کے درمیان کوئی لازمی تعلق نہیں ہے۔ الفاظ انسان کے فہم کا آسان ترین ذریعہ ہیں، ورنہ لغت، ثقافت اور ادب کے وجود میں آنے اور ان کی اہمیت متعین ہونے سے پہلے ایک دوسرے کے مقاصد کو سمجھنے کے لیے اشارے، آوازیں اور چہرے اہم ذرائع تھے۔
انہوں نے کہا: الفاظ کی زبان کے علاوہ معانی کی منتقلی کے دیگر ذرائع بھی موجود ہیں۔ آج کی دنیا کی زبانوں میں سے ایک، جسے اصطلاحاً ’’لسانِ قوم‘‘ کہا جاسکتا ہے، فلم، تصویر اور کیمرے کی زبان ہے۔ جو معانی اور معارف کی منتقلی کے بہترین اور مؤثر ترین ذرائع میں شمار ہوتی ہے۔ اس لیے قرآن کا پیغام منتقل کرنے کے لیے اس زبان سے استفادہ کرنا چاہیے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے مزید کہا: قرآن کریم میں موجود داستانیں بہترین فلمی اور ٹیلی ویژن اسکرپٹس کا مواد بن سکتے ہیں، بشرطیکہ فلم سازوں کے لیے تخیل اور وہم ہی اصل ماخذ نہ ہوں بلکہ وہ فلم بنانے میں فہم و عقل کی قوت سے مدد لیں اور وہم و خیال کو کام کے وسیلے کے طور پر عقل کی رہنمائی میں استعمال کریں تو ان کی فلم کا اثر زیادہ ہوگا کیونکہ موجودہ دنیا میں فلم کی زبان سب سے زیادہ لوگوں تک پہنچتی ہے۔
اس شیعہ مرجع تقلید نے کہا: متن، معانی اور مفاہیم کا پیغام فلم کی زبان کے ذریعہ کتاب کی نسبت بہتر طور پر انسان کے ذہن اور دل تک منتقل ہوسکتا ہے۔ آج اگر نئی نسل سے فلم اور فن کی زبان میں گفتگو کی جائے تو اس کا اثر کتابوں اور تقاریر سے کم نہیں بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے مزید کہا: یقینا ایک فلم علوی (ع) بنانے کے لیے بہت زیادہ محنت درکار ہے؛ ایسی فلم جو صرف تاریخ بیان کرنے، واقعات کی رپورٹ پیش کرنے اور جنگِ جمل، صفین اور نہروان کے واقعات دہرانے تک محدود نہ ہو بلکہ لوگوں کو ایسے امام سے متعارف کرائے جو زمینی راستوں کے مقابلے میں آسمانی راستوں سے زیادہ آگاہ ہیں۔[نہج البلاغہ، خطبہ ۱۸۹] ایسی فلم جو فن کی زبان میں ان خطبات کو پیش کرے جن میں سے ایک کے بارے میں ابن ابی الحدید کہتے ہیں: ’’میں نے پچاس سال سے اب تک اس خطبے کو ایک ہزار سے زیادہ مرتبہ پڑھا ہے اور ہر بار اس نے میرے اندر ایک نئی ہیبت اور نصیحت پیدا کی۔‘‘
ماخذ: تفسیر تسنیم، جلد ۴۰، صفحات ۸۴ تا ۸۵









آپ کا تبصرہ