حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے استادِ درس خارج حجت الاسلام والمسلمین محمد ابراہیم کفیل نے ایک گفتگو میں رہبرِ شہید کی نمازِ جنازہ میں آیت الله العظمیٰ جوادی آملی کی تلاوت کردہ دعاؤں کے مختلف فقروں اور ان میں پوشیدہ اہم پیغامات کی وضاحت کی ہے۔

بسم الله الرحمٰن الرحیم
الحمد لله رب العالمین، و صلی الله علی محمد و آله الطاهرین، و لعنة الله علی أعدائهم أجمعین.
اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِمَّنْ تَنْتَصِرُ بِهِ لِدِینِکَ، وَلَا تَسْتَبْدِلْ بِنَا غَیْرَنَا.
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں اور درود و سلام حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور ان کی پاک آل پر، نیز اللہ کی لعنت ان کے تمام دشمنوں پر۔
اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جن کے ذریعے تو اپنے دین کی نصرت فرماتا ہے، اور ہماری جگہ کسی اور کو نہ لے آ۔
اللہ تعالیٰ ہمارے مجاہد و شہید رہبر کو حضرت امام حسینؑ کا خصوصی مہمان قرار دے، ہمارے امامِ راحلؒ کی روح کو بھی شاد فرمائے، بحقِ محمد و آلِ محمدؑ۔
رہبرِ شہید کی قم میں تشییع کے موقع پر ایک نہایت شاندار منظر دیکھنے میں آیا۔ عظیم الشان عوامی اجتماع نے اپنی بھرپور شرکت کے ذریعے رہبرِ انقلابِ اسلامی کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
گزشتہ شب بلکہ گزشتہ روز ہی سے لوگ مسجدِ مقدس جمکران کی جانب روانہ ہونا شروع ہو گئے تھے۔ پوری رات جمکران کا صحن زائرین سے کھچا کھچ بھرا رہا، اور جمکران جانے والے تمام راستوں پر بھی غیر معمولی ہجوم تھا۔ خود ہمارا حال یہ تھا کہ ہم رات دو بجے جمکران کے لیے روانہ ہوئے، کوہِ خضر والے راستے سے گئے، مگر کثرتِ ازدحام کی وجہ سے نمازِ فجر کی اذان کے تقریباً تیس سے چالیس منٹ بعد جمکران پہنچ سکے۔
انسان جب اطراف کے میدانوں کو دیکھتا تو منظر اربعین کی یاد تازہ کر دیتا تھا۔ ہر طرف گاڑیاں ہی گاڑیاں اور جمکران کی جانب بڑھتا ہوا عاشقان کا سیلاب تھا۔
صبح تقریباً چھ بجے نماز کے قیام کا اعلان ہوا۔ مکبر نے درست طور پر اعلان کیا کہ نماز کی صفیں مسجدِ جمکران سے حضرت فاطمہ معصومہؑ کے حرمِ مطہر تک متصل ہیں؛ یعنی نمازیوں کی صفیں مسلسل حرم تک پھیلی ہوئی تھیں۔
یہ عظمت، یہ شان اور یہ بے مثال اجتماع، ہمارے مجاہد، مخلص اور عالی قدر رہبرِ شہید کی پاکیزہ روح کی برکت کے سوا کچھ نہ تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَٰنُ وُدًّا.
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، عنقریب رحمٰن ان کے لیے لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی محبت لوگوں کے دلوں میں اس طرح راسخ کر دی کہ عوام نے والہانہ انداز میں ان کی آخری رخصتی میں شرکت کرکے اپنی عقیدت و وفاداری کا بے مثال اظہار کیا۔
نمازِ میت کے بارے میں چند اہم نکات
اگرچہ اسے نمازِ میت کہا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک دعا ہے؛ کیونکہ اس میں نماز کے بنیادی ارکان موجود نہیں ہوتے۔ نہ اس میں رکوع ہے، نہ سجدہ، اور نہ ہی سورۂ حمد کی قراءت، حالانکہ یہ سب عام نماز کے لازمی ارکان ہیں۔ اسی لیے اگرچہ اسے نماز کہا جاتا ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ میت کے لیے دعا ہے۔
دوسری اہم بات
یہ ہے کہ بعض جلیل القدر فقہاء، جیسے مرحوم صاحبِ شرائعؒ، کے نزدیک نمازِ میت میں صرف پانچ تکبیریں واجب ہیں۔ یعنی اگر کوئی شخص شرائط کی رعایت کرتے ہوئے میت کے پاس پانچ مرتبہ "اللہ اکبر" کہہ دے تو نمازِ میت ادا ہو جاتی ہے۔
البتہ متأخر فقہاء کی اکثریت کے نزدیک ہر تکبیر کے بعد کم از کم مختصر اذکار بھی پڑھے جائیں:
پہلی تکبیر کے بعد شہادتین پڑھی جائیں:
أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمداً رسول الله۔
دوسری تکبیر کے بعد درود شریف پڑھا جائے:
اللهم صل على محمد وآل محمد۔
تیسری تکبیر کے بعد تمام مؤمن مردوں اور عورتوں کے لیے دعا کی جائے:
اللهم اغفر للمؤمنين والمؤمنات۔
چوتھی تکبیر کے بعد میت کے لیے دعا کی جائے: مثلاً: "اللهم اغفر لهذا الميت" (مرد کے لیے) یا اللهم اغفر لهذه الميتة (عورت کے لیے)
اس کے بعد پانچویں تکبیر کہی جاتی ہے اور نمازِ میت مکمل ہو جاتی ہے۔
لہٰذا واجب مقدار یہی ہے، تاہم چوتھی تکبیر کے بعد نماز پڑھنے والے کو اختیار ہے کہ میت کے حق میں مزید دعائیں بھی کرے۔ اسی وجہ سے شہداء، علماء یا دیگر مرحومین کی نمازِ میت میں ان کے مقام و منزلت کے مطابق مختلف دعائیں اور تعبیرات استعمال کی جاتی ہیں۔
مثال کے طور پر رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ خامنہای کی جانب سے شہید حاج قاسم سلیمانی کی نمازِ میت میں پڑھی گئی دعا کو یاد کیجیے، یا وہ نمازیں جنہیں خود رہبرِ معظم نے مختلف شخصیات کی میت پر ادا کیا۔ اگر ان دعاؤں کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو نماز پڑھانے والے کے احساسات، نگاہ اور مرحوم یا شہید کے مقام و منزلت کا اندازہ بخوبی ہو جاتا ہے۔
رہبرِ شہید کی نمازِ میت میں آیت اللہ جوادی آملی کی دعا کے چند اہم نکات

آیت اللہ جوادی آملی جب چوتھی تکبیر پر پہنچے اور رہبرِ شہید کے لیے دعا شروع کی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کو غیر معمولی انداز میں بیان کیا۔
انہوں نے دعا کے آغاز میں فرمایا:
اللهم إنَّ هذا المُسَجّی قُدّامَنا عبدُکَ، وابنُ عبدِکَ، وابنُ أَمَتِکَ.
یعنی:
اے اللہ! یہ بندہ، جو ہمارے سامنے کفن میں لپٹا ہوا ہے، تیرا بندہ، تیرے بندے کا بیٹا اور تیری بندی کا بیٹا ہے۔
یہ نمازِ میت کی معروف تعبیر ہے جو انسان کے والدین کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔
اس کے بعد آیت اللہ جوادی آملی نے ایک منفرد انداز اختیار کیا۔ انہوں نے لفظ "نَزَلَ" کو تین مرتبہ دہرایا:
"نَزَلَ، نَزَلَ، نَزَلَ"
پھر صرف "نَزَلَ بِکَ" کہنے کے بجائے فرمایا:
نَزَلَ بِعِزِّ جَلَالِکَ، وَجَبَرُوتِکَ، وَعَظَمَتِکَ، وَمَلَکُوتِکَ.
یعنی:
وہ تیری بارگاہ میں، تیری عزت، تیرے جلال، تیرے جبروت، تیری عظمت اور تیری سلطنتِ الٰہی کے سائے میں حاضر ہوا ہے۔
یہ تعبیر اللہ تعالیٰ کی عظیم صفات کی طرف خاص توجہ دلاتی ہے۔ گویا انہوں نے تین مرتبہ اس حقیقت پر زور دیا کہ یہ بندہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو چکا ہے، اور صرف حاضر ہی نہیں بلکہ اللہ کی عزت، جلال، جبروت، عظمت اور ملکوت کے دائرۂ رحمت میں داخل ہوا ہے۔
شاید اس تعبیر کا راز یہ ہے کہ رہبرِ شہید نے اپنی پوری زندگی عزت، عظمت اور سربلندی کے راستے میں گزاری۔ اگرچہ ہر انسان کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے، جیسا کہ قرآن فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ.
اے انسان! بے شک تو اپنے رب کی طرف مسلسل محنت و مشقت کے ساتھ بڑھ رہا ہے، پھر آخرکار اسی سے ملاقات کرے گا۔
لیکن ہر شخص اللہ سے ایک ہی شان کے ساتھ ملاقات نہیں کرتا۔ گناہگار ممکن ہے اللہ کو منتقم یا شدید العقاب کی صفت کے ساتھ پائے، جبکہ مؤمن اور صالح بندہ اللہ کی رحمت، کرامت اور لطف کے دسترخوان پر حاضر ہوتا ہے۔
چونکہ رہبرِ شہید نے اپنی زندگی عزت، کرامت اور مؤمنین کی سربلندی کے لیے وقف کر دی تھی اور ہمیشہ الٰہی اخلاق کو اپنانے کی کوشش کی، اس لیے آیت اللہ جوادی آملی نے دعا میں اللہ تعالیٰ کی عزت، جلال، جبروت، عظمت اور ملکوت جیسی صفات کو نمایاں فرمایا؛ گویا عرض کیا:
پروردگار! تیرا یہ بندہ تیری بارگاہ میں حاضر ہوا ہے، تیری عزت، تیرے جلال، تیرے جبروت، تیری عظمت اور تیرے ملکوت میں وارد ہوا ہے۔
ایک اور قابلِ توجہ تعبیر جو آیت اللہ جوادی آملی نے استعمال کی، اور جیسا کہ عرض کیا گیا، یہ تعبیرات متوفی یا شہید کے بارے میں دعا کرنے والے کے احساسات اور نظرئیے کی بھی عکاسی کرتی ہیں، یہ تھی:
اللهم إنه نَزَلَ عندك مجاهداً، مُبالِغاً، وَرِعاً، موحِّداً...
یعنی:
اے اللہ! یہ تیرا بندہ تیری بارگاہ میں ایک مجاہد، کامل کوشش کرنے والا، نہایت پرہیزگار اور خالص موحد بن کر حاضر ہوا ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے ان الفاظ میں ایک مؤمن کی بلند ترین صفات کو بیان فرمایا۔
"وَرَع" تقویٰ کے اعلیٰ ترین درجے کو کہتے ہیں۔ وَرِع وہ شخص ہے جو نہ صرف گناہوں سے بچتا ہے بلکہ ہر اس چیز سے بھی اجتناب کرتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے قریب لے جا سکتی ہو۔
اسی حقیقت کی طرف قرآنِ کریم رہنمائی کرتا ہے:
وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى.
اور زادِ راہ تیار کرو، بے شک بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔
اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ
یقیناً اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔
اس بنا پر آیت اللہ جوادی آملی نے رہبرِ شہید کو مجاہد، بلند ہمت، صاحبِ ورع اور موحد قرار دے کر ان کی ایمانی، اخلاقی اور معنوی عظمت کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا۔
"وَرَع" کا لفظ بعض روایات میں تقویٰ کے ہم معنی استعمال ہوا ہے، جبکہ بعض روایات میں اسے تقویٰ سے بھی بلند مقام قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ ایک روایت میں ہے:
الوَرَعُ الوُقوفُ عِندَ الشُّبهَة.
یعنی ورع یہ ہے کہ انسان مشتبہ امور سے بھی احتیاط کرے۔
اس اعتبار سے ورِع وہ شخص ہے جو یا تو کامل متقی ہوتا ہے یا تقویٰ کے بلند ترین درجے پر فائز ہوتا ہے۔ جب قرآن فرماتا ہے: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ.
اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔
تو جو شخص ورع کے مقام تک پہنچ جائے، اس کا مقام و مرتبہ کس قدر بلند ہوگا!
اسی لیے آیت اللہ جوادی آملی نے فرمایا کہ رہبرِ شہید اللہ کی بارگاہ میں "ورعاً" حاضر ہوئے، یعنی وہ تقویٰ کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز تھے۔
اس کے بعد انہوں نے فرمایا:
مجاهداً، مُبالِغاً
یعنی وہ ایک مجاہد کی حیثیت سے، اور جہاد کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہو کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ قرآن کریم فرماتا ہے: وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ.
اللہ کی راہ میں ایسا جہاد کرو جیسا جہاد کرنے کا حق ہے۔
جس طرح حقِ تقویٰ کا ذکر قرآن و حدیث میں آیا ہے، اسی طرح حقِ جہاد بھی یہ ہے کہ انسان صرف اللہ کی عبادت کرے، غیر اللہ سے نہ ڈرے، اس کی نافرمانی نہ کرے اور ہمیشہ اس کی نعمتوں کا شکر گزار رہے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے پھر فرمایا:
موحِّداً
یعنی رہبرِ شہید خالص توحید کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ توحید وہ بلند ترین مقام ہے جس تک ایک عارفِ الٰہی پہنچ سکتا ہے۔
اس کے بعد آیت اللہ جوادی آملی نے مسلسل کئی مرتبہ "اللهم" فرمایا۔ جس طرح پہلے انہوں نے "نزل" کو تین مرتبہ دہرایا تھا، اسی طرح یہاں "اللهم، اللهم، اللهم" کی تکرار دعا میں عاجزی، التجا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کی طرف مکمل توجہ کا اظہار ہے۔
پھر انہوں نے فرمایا:
اللهم إنه نزل عندك شهيدَ الإسلامِ والقرآنِ والعترة.
یعنی:
اے اللہ! یہ تیرے حضور اسلام، قرآن اور عترت کا شہید بن کر حاضر ہوا ہے۔
اسلام میں شہادت انسان کے لیے بلند ترین مقام ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ہر نیکی سے بڑھ کر ایک اور نیکی ہے، یہاں تک کہ انسان اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے، اور اس کے بعد کوئی نیکی اس سے بڑھ کر نہیں رہتی۔
اسی مناسبت سے آیت اللہ جوادی آملی نے رہبرِ شہید کے لیے ایسے القابات استعمال کیے جیسے:
اسلام کے شہید
امتِ اسلامیہ کے شہید
اسلام کی عزت و سیادت کے شہید
اسلام کی حفاظت کے شہید
اسلام کے نظام اور عظمت کے محافظ و شہید
یعنی ان کی شہادت اسلام کی سربلندی، امتِ مسلمہ کے اتحاد، اسلامی معاشرے کے تحفظ اور اسلام کی عزت و اقتدار کے لیے تھی، تاکہ یہ قرآنی و اسلامی حقیقت ہمیشہ قائم رہے:
الإسلامُ يَعلو ولا يُعلى عليه.
اسلام ہمیشہ سربلند ہے اور کوئی چیز اس پر غالب نہیں آ سکتی۔
آیت اللہ جوادی آملی کی یہ تعبیرات اس بات کی گواہی ہیں کہ رہبرِ شہید نے اپنی پوری زندگی اسلام، اس کی عزت، اس کے اقتدار، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور اسلامی معاشرے کے دفاع کے لیے وقف کر دی، اور اسی راہ میں جامِ شہادت نوش کیا۔ لہٰذا وہ یقیناً شہداء کے بلند ترین مراتب کے مستحق ہیں۔
آخر میں آیت اللہ جوادی آملی نے نہایت عاجزی کے ساتھ دعا کی:
يا مَن يَقبَلُ اليسيرَ ويَعفُو عَنِ الكثير، اقبَلْ مِنّا اليسير.
یعنی:
اے وہ ذات! جو تھوڑے عمل کو قبول کرتی ہے اور بہت سے گناہوں سے درگزر فرماتی ہے، ہمارے اس قلیل عمل کو بھی قبول فرما۔
اس کے بعد انہوں نے عرض کیا کہ رہبرِ شہید اللہ کی مغفرت کے دسترخوان پر وارد ہوئے ہیں۔ وہ اللہ کے بندے ہیں اور اس کی رحمت کے محتاج ہیں۔ یہی حقیقت قرآن کریم بھی بیان کرتا ہے: وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَىٰ مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ أَبَدًا.
اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاکیزہ نہ ہو سکتا۔
اس طرح آیت اللہ جوادی آملی کی دعا نہ صرف رہبرِ شہید کی عظمت و منزلت کی عکاس ہے بلکہ انسان کو اخلاص، تقویٰ، جہاد، توحید اور اللہ کی رحمت کی محتاجی جیسے گہرے قرآنی معارف کی بھی یاد دلاتی ہے۔
اگر اللہ کا فضل اور رحمت نہ ہوتی تو کوئی بھی پاکیزہ نہ ہو سکتا۔ قیامت کے دن بھی اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت انسان کو شاملِ حال نہ ہو تو کوئی شخص اس کے حساب سے بخیریت نہیں گزر سکتا۔ روایات میں بھی آیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ بندوں کا محاسبہ صرف عدل کے تقاضوں کے مطابق کرے اور اپنی رحمت کا دامن نہ پھیلائے تو کوئی بھی نجات نہیں پا سکے گا۔ اسی لیے دعا کی گئی کہ رہبرِ شہید بھی اللہ کی رحمت کے دسترخوان پر وارد ہوں۔
اس کے بعد آیت اللہ جوادی آملی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں ائمۂ ہدیٰؑ اور اہلِ بیتِ عصمت و طہارتؑ کے ساتھ محشور فرمائے۔ یہ ایک مؤمن کے لیے بلند ترین مقامات میں سے ہے کہ وہ رسولِ اکرم اور اہلِ بیتؑ کی معیت نصیب کرے۔
پھر آپ نے ان کے پسماندگان کے لیے دعا کرتے ہوئے فرمایا:
وَاخْلُفْ عَلَى أَهْلِهِ فِي الْغَابِرِينَ.
یعنی:
اے اللہ! جو لوگ ان کے بعد دنیا میں باقی رہ گئے ہیں، تو خود ان کا سرپرست، مددگار اور کفیل بن جا۔
اس دعا میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کی گئی کہ وہ رہبرِ شہید کے اہلِ خانہ اور تمام پسماندگان کو اپنی خاص رحمت، لطف اور عنایت سے نوازے۔
اس کے بعد رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور اہلِ بیتِ اطہارؑ پر درود بھیجتے ہوئے دعا کی گئی کہ یہ تمام برکتیں اور عنایات اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور محمد و آلِ محمدؑ کے وسیلے سے عطا فرمائے۔
یہ وہ بابرکت دعائیں تھیں جو حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے نہایت روحانی کیفیت میں رہبرِ شہید کی نمازِ میت میں ادا فرمائیں۔
نمازِ میت میں بعض معروف جملے کیوں نہیں پڑھے گئے؟
ممکن ہے بعض لوگوں نے توقع کی ہو کہ نمازِ میت کے معروف جملے بھی پڑھے جائیں، مثلاً: اللهم إنا لا نعلم منه إلا خيراً
(اے اللہ! ہم اس کے بارے میں خیر ہی جانتے ہیں۔)
یا
اللهم إن كان محسناً فزد في إحسانه، وإن كان مسيئاً فتجاوز عنه.
(اے اللہ! اگر یہ نیکوکار تھا تو اس کی نیکیوں میں اضافہ فرما، اور اگر اس سے کوئی لغزش ہوئی ہو تو اسے معاف فرما۔)
لیکن آیت اللہ جوادی آملی نے یہ تعبیرات استعمال نہیں کیں، کیونکہ انہوں نے رہبرِ شہید کے لیے اس سے کہیں بلند مقام بیان کیا۔ انہوں نے انہیں اسلام، قرآن اور عترت کا شہید، حقِ جہاد ادا کرنے والا مجاہد، تقویٰ کے اعلیٰ درجے پر فائز صاحبِ ورع، اور کامل موحد قرار دیا؛ ایسا انسان جو اللہ تعالیٰ کی توحید اور قرب کے بلند ترین مراتب تک پہنچا ہو۔
جب کسی کے لیے یہ بلند مقامات بیان کیے جائیں تو امید یہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تمام اوصاف کو ان کے حق میں ثابت فرمائے، انہیں کامل کرے اور آخرت میں بھی ان بلند مراتب سے سرفراز فرمائے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اس عظیم رہبر کی مجاہدانہ خدمات کی حقیقی قدر شناسی اور ان کے راستے پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ نیز ان کے فرزندِ صالح، حضرت آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہای (حفظہ اللہ)، کو ظہورِ حضرت ولیِ عصرؑ تک استقامت، عزت، اثر و نفوذِ کلام، صحت و سلامتی اور طولِ عمر کے ساتھ اپنی خاص حفاظت و تائید میں رکھے۔ آمین۔









آپ کا تبصرہ