اتوار 1 نومبر 2026 - 14:05
علی پور میں دینی و تعلیمی امور کا منظم نظام؛ علمائے کرام کی مشاورت سے امامِ جمعہ، ائمۂ جماعت اور دینی و تعلیمی ذمہ داران کا انتخاب

حوزہ/ کرناٹک کے معروف قصبہ علی پور میں علمائے کرام کی سرپرستی اور باہمی مشاورت سے دینی، مذہبی، تعلیمی اور سماجی امور کا ایک منظم نظام قائم ہے، جس کے تحت امامِ جمعہ، ائمۂ جماعت، حوزہ ہائے علمیہ کے مدیران اور دینی و تعلیمی سرگرمیوں کے ذمہ داران کا انتخاب اجتماعی مشاورت سے عمل میں آتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کرناٹک کے معروف قصبہ علی پور میں علمائے کرام کی سرپرستی اور باہمی مشاورت سے دینی، مذہبی، تعلیمی اور سماجی امور کا ایک منظم نظام قائم ہے، جس کے تحت امامِ جمعہ، ائمۂ جماعت، حوزہ ہائے علمیہ کے مدیران اور دینی و تعلیمی سرگرمیوں کے ذمہ داران کا انتخاب اجتماعی مشاورت سے عمل میں آتا ہے۔ اس نظام کا مقصد دینی اداروں کے درمیان ہم آہنگی، ذمہ داریوں کی واضح تقسیم اور مذہبی و سماجی سرگرمیوں کو بہتر انداز میں آگے بڑھانا ہے۔

علی پور میں دینی و تعلیمی امور کا منظم نظام؛ علمائے کرام کی مشاورت سے امامِ جمعہ، ائمۂ جماعت اور دینی و تعلیمی ذمہ داران کا انتخاب

علی پور میں اس نظام کی سرپرستی حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید محمد زکی الباقری کر رہے ہیں، جبکہ ناظرینِ شریعت کی حیثیت سے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید اظہر حسین، مولانا علی باقر اور مولانا علی رضا اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ البلاغ فاؤنڈیشن کے صدر مولانا سید دلاور حسین اور معتمد مولانا سید مدبر حسین بھی ان کی رہنمائی میں دینی، تعلیمی اور اجتماعی امور کی نگرانی کرتے ہیں۔

اسی سلسلے میں ایامِ فاطمیہ کے موقع پر حجۃ الاسلام مولانا سید محمد یوشع کی دو سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد، اگلی دو سالہ مدت کے لیے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید منظور رضا عابدی کو امامِ جمعہ منتخب کیا گیا ہے۔ ان کا انتخاب علمائے علی پور کی باہمی مشاورت اور سرپرستِ اعلیٰ و ناظرینِ شریعت کی رہنمائی میں عمل میں آیا ہے۔

علی پور کے مختلف مقامات پر نمازِ جماعت کی ذمہ داریاں بھی علماء کی مشاورت سے مقرر کی گئی ہیں۔ مسجد زین العباء میں مولانا سید مدبر حسین، عبادت خانۂ زینبیہ میں مولانا عزادر حسین نرسی پوری، عبادت خانۂ مکتبِ رسولِ خدا میں مولانا جوہر علی اور عبادت خانۂ القائم میں مولانا تشکر حیدر امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

علی پور میں دینی و تعلیمی امور کا منظم نظام؛ علمائے کرام کی مشاورت سے امامِ جمعہ، ائمۂ جماعت اور دینی و تعلیمی ذمہ داران کا انتخاب

دینی تعلیم کے فروغ کے لیے قائم حوزۂ علمیہ باقر العلوم اور حوزۂ علمیہ الزہراء کے تعلیمی و انتظامی امور بھی علمائے البلاغ کی نگرانی اور مشاورت میں انجام پاتے ہیں۔ اس نظام کے تحت ہر ادارے کو اپنی ذمہ داریوں کے مطابق کام کرنے کا موقع دیا گیا ہے، جبکہ اجتماعی معاملات میں مشترکہ مشاورت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

اسی طرح علی پور کے شیعہ تعلیمی اداروں اور اسکولوں میں دینیات کی تعلیم اور طلبہ و طالبات کی اخلاقی و دینی تربیت کے لیے بھی مختلف سرگرمیاں جاری ہیں۔ ان میں سمر کیمپ، دسیرہ کیمپ، الزہراء یوتھ کیمپ اور دیگر تربیتی پروگرام شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں کی نگرانی اور انتظامی ذمہ داری حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سجاد مہدی کو بطور مدیر سونپی گئی ہے

علی پور کے اس اجتماعی نظام کی ایک نمایاں خصوصیت مذہبی اور سماجی معاملات کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش ہے۔ علمائے البلاغ کی سرپرستی اور انجمنِ جعفریہ کے اجتماعی نظام کے تحت مقامی مسائل کو علماء اور متعلقہ ذمہ داران کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، اس اجتماعی طریقۂ کار کے نتیجے میں مقامی مذہبی و سماجی معاملات میں پولیس مقدمات کی نوبت نہیں آئی۔

علی پور میں دینی و تعلیمی امور کا منظم نظام؛ علمائے کرام کی مشاورت سے امامِ جمعہ، ائمۂ جماعت اور دینی و تعلیمی ذمہ داران کا انتخاب

یہ نظام اس بات کی مثال ہے کہ علماء کی اجتماعی قیادت، مشاورت، ذمہ داریوں کی واضح تقسیم اور اداروں کے درمیان تعاون کے ذریعے دینی و تعلیمی سرگرمیوں کو بہتر انداز میں منظم کیا جا سکتا ہے۔ علی پور میں امامِ جمعہ سے لے کر ائمۂ جماعت، دینی مدارس اور تربیتی پروگراموں تک مختلف شعبوں کی ذمہ داریاں اسی مشترکہ نظام کے تحت انجام دی جا رہی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha