اتوار 13 ستمبر 2026 - 20:59
انجمنِ شرعی شیعیان کے تحت یال کنزر میں تعلیمی کانفرنس:متوازن نسل کی تربیت کے لیے دینی تعلیم کو جدید علوم کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ناگزیر: علماء کا خطاب

حوزہ/جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے زیر اہتمام امام بارگاہ حضرت زہرا (س)، یال  کنزر، بارہمولہ میں ایک تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں حوزات علمیہ اور درجنوں دینی مکاتب میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کے علاوہ عقیدت مندوں، دینی علماء، اساتذہ اور مقامی افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کانفرنس سے ممتاز دینی علماء نے خطاب کرتے ہوئے قرآن مجید اور تعلیمات اہل بیت (ع) کی روشنی میں تعلیم، اخلاقی تربیت اور کردار سازی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

انجمنِ شرعی شیعیان کے تحت یال کنزر میں تعلیمی کانفرنس:متوازن نسل کی تربیت کے لیے دینی تعلیم کو جدید علوم کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ناگزیر: علماء کا خطاب

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ نوجوان نسل کی فکری، روحانی اور اخلاقی نشوونما کے لیے مضبوط تعلیمی بنیاد کا قیام ناگزیر ہے۔

جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے جنرل سیکریٹری، حجۃ الاسلام سید مجتبیٰ عباس موسوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے نوجوان نسل کو دینی علم، اخلاقی اقدار اور جدید سائنسی و پیشہ ورانہ تعلیم سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

حجت الاسلام سید مجتبیٰ عباس نے کہا کہ مکتب بچوں کی فکری، اخلاقی اور دینی تربیت کے بنیادی مراکز ہیں، اس لیے بدلتے ہوئے حالات اور معاشرتی تقاضوں کے مطابق مکتب کے نظام کو مزید مضبوط اور جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔

انجمنِ شرعی شیعیان کے تحت یال کنزر میں تعلیمی کانفرنس:متوازن نسل کی تربیت کے لیے دینی تعلیم کو جدید علوم کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ناگزیر: علماء کا خطاب

انہوں نے مکتبوں میں معیاری نصاب، تربیت یافتہ اساتذہ اور جدید تدریسی طریقۂ کار متعارف کرانے پر زور دیا، تاکہ بچوں کو قرآن مجید، اسلامی عقائد، احکام دین، سیرت اور تعلیمات اہل بیت (ع) سے مستند آگاہی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم کے حصول اور عملی و پیشہ ورانہ صلاحیتیں پیدا کرنے کی ترغیب بھی دی جاسکے۔

جدید تعلیم کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے مولانا سید مجتبیٰ عباس نے کہا کہ معاشرے کو ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنس دانوں، ٹیکنالوجی ماہرین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ماہر پیشہ ور افراد کی ضرورت ہے، تاہم پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ مضبوط کردار، اخلاقی اقدار اور دینی شعور کا ہونا بھی ناگزیر ہے۔

انجمنِ شرعی شیعیان کے تحت یال کنزر میں تعلیمی کانفرنس:متوازن نسل کی تربیت کے لیے دینی تعلیم کو جدید علوم کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ناگزیر: علماء کا خطاب

انہوں نے والدین، دینی علماء، اساتذہ اور مخیر حضرات پر زور دیا کہ مکتبوں اور دینی تعلیمی اداروں کے فروغ کو اجتماعی سماجی ذمہ داری سمجھتے ہوئے بچوں اور نوجوانوں کی دینی، تعلیمی اور اخلاقی تربیت سے متعلق اقدامات کو مستقل بنیادوں پر تعاون فراہم کریں۔

جامعہ باب العلم سمیت مختلف تعلیمی اداروں کی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دینی تعلیم کو جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور ہنرمندی کے فروغ کے ساتھ مربوط کرنے سے نوجوان نسل کو مستقبل کے چیلنجز کا اعتماد، قابلیت اور احساس ذمہ داری کے ساتھ سامنا کرنے کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے منتظمین پر زور دیا کہ وہ تعلیم کو محض ایک پیشہ نہ سمجھیں بلکہ اسے خدمت، رہنمائی اور کردار سازی کا مقدس فریضہ تصور کریں۔

انہوں نے کہا کہ علم و شعور سے آراستہ، نظم و ضبط کی پابند اور اخلاقی ذمہ داریوں کا احساس رکھنے والی نسل کی تربیت کے لیے اجتماعی کوششیں، باہمی احترام اور اتحاد و یکجہتی ناگزیر ہیں، تاکہ نوجوان نسل اپنے دینی و اخلاقی تشخص سے جڑی رہتے ہوئے معاشرے کی تعمیر وترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکے۔

کانفرنس سے خطاب کرنے والے دیگر دینی علماء میں حجۃ الاسلام سید محمد حسین موسوی ، حجۃ الاسلام مولانا غلام محمد گلزار اور حجۃ الاسلام مولانا گوہر حسین شامل تھے۔ مقررین نے نچلی سطح پر تعلیمی سرگرمیوں کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ بچوں اور نوجوانوں کی دینی، فکری اور اخلاقی تربیت کے لیے سرگرم دینی و تعلیمی اداروں کی بھرپور سرپرستی اور معاونت کریں۔

انجمنِ شرعی شیعیان کے تحت یال کنزر میں تعلیمی کانفرنس:متوازن نسل کی تربیت کے لیے دینی تعلیم کو جدید علوم کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ناگزیر: علماء کا خطاب

کانفرنس کی نظامت کے فرائض حجۃ الاسلام سید تصدق حسین نقوی نے انجام دیے۔

مقررین نے جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کی جانب سے خطے بھر میں دینی بیداری اور تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے انجام دی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے معاشرے کی تعلیمی اور اخلاقی بنیادوں کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مسلسل اجتماعی کاوشوں کی ضرورت پر زور دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha