منگل 1 ستمبر 2026 - 23:14
علم اور شعور کے ساتھ تعلیمات صادقین پر عمل ناگزیر ہے: آغا سید حسن موسوی الصفوی

حوزہ/میلاد النبیؐ کی مناسبت سے اور سلسلۂ امامت کی چھٹی کڑی حضرت امام جعفر صادقؑ کے یوم ولادت باسعادت کے موقع پر جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے حوزۂ علمیہ جامعہ باب العلم میرگنڈ بڈگام میں ایک پروقار محفل میلاد منعقد ہوئی، جس میں بڑی تعداد میں علمائے کرام اور دینی شخصیات نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، میلاد النبیؐ کی مناسبت سے اور سلسلۂ امامت کی چھٹی کڑی حضرت امام جعفر صادقؑ کے یوم ولادت باسعادت کے موقع پر جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے حوزۂ علمیہ جامعہ باب العلم میرگنڈ بڈگام میں ایک پروقار محفل میلاد منعقد ہوئی، جس میں بڑی تعداد میں علمائے کرام اور دینی شخصیات نے شرکت کی۔

علم اور شعور کے ساتھ تعلیمات صادقین پر عمل ناگزیر ہے: آغا سید حسن

اس موقع پر انجمن شرعی شیعیان کے زیر اہتمام مکاتب کے لیے تیار کی گئی کتاب ’’باغ خدا‘‘ کی رسم رونمائی بھی انجام دی گئی۔

کتاب کی رونمائی کو دینی تعلیم کے فروغ اور نئی نسل کی بہتر مذہبی و اخلاقی تربیت کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔

علم اور شعور کے ساتھ تعلیمات صادقین پر عمل ناگزیر ہے: آغا سید حسن

محفل میلاد کے بعد تنظیم کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی الصفوی کی قیادت میں حسب روایت ایک عظیم الشان جلوس میلاد برآمد ہوا، جو مرکزی امام باڑہ بڈگام پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔

جلوس میلاد میں جامعہ باب العلم اور اس کی مختلف شاخوں سے وابستہ مکاتب کے ہزاروں طلبہ و طالبات، معلمین و معلمات، انجمن شرعی شیعیان کے اراکین و کارکنان اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے عقیدت و احترام کے ساتھ شرکت کی۔ شرکائے جلوس نے درود و سلام اور نعتیہ کلام کے ذریعے بارگاہ رسالتؐ میں اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کیا۔

علم اور شعور کے ساتھ تعلیمات صادقین پر عمل ناگزیر ہے: آغا سید حسن

اس سے قبل حوزۂ علمیہ جامعہ باب العلم میرگنڈ میں منعقدہ محفل میلاد سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے جنرل سیکریٹری حجۃ الاسلام سید مجتبیٰ عباس موسوی نے کہا کہ سیرت طیبۂ حضرت محمد مصطفیٰؐ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک جامع اور مکمل نظام حیات اور سرچشمۂ ہدایت ہے، جس میں اتحاد، اخوت، علم، اعلیٰ اخلاقی اقدار، عدل و انصاف اور ظلم و ناانصافی کے خلاف ثابت قدمی کی تعلیم دی گئی ہے۔

انہوں نے میلاد النبیؐ اور حضرت امام جعفر صادقؑ کی ولادت باسعادت کے موقع پر امت مسلمہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ہفتۂ وحدت کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ موجودہ دور میں دینی تعلیم، فکری شعور اور نئی نسل کی مؤثر اخلاقی و تعلیمی تربیت پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔

مولانا سید مجتبیٰ عباس موسوی نے کہا کہ معاشرے میں پھیلائی جانے والی غلط معلومات، بے بنیاد پروپیگنڈے اور فکری گمراہی کا مؤثر مقابلہ حقائق، علم اور سچائی کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے نئی نسل کی ایسی تربیت کی ضرورت پر زور دیا جو انہیں دینی و اخلاقی اقدار سے وابستہ کرنے کے ساتھ ساتھ علم و شعور سے بھی آراستہ کرے، تاکہ وہ قرآن شناس، باکردار اور حضرت محمد مصطفیٰؐ اور اہل بیتؑ کی تعلیمات کے حقیقی پیروکار بن کر معاشرے اور امت مسلمہ کی تعمیر میں مثبت اور مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

علم اور شعور کے ساتھ تعلیمات صادقین پر عمل ناگزیر ہے: آغا سید حسن

صدر جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان، حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰؐ کی ولادت باسعادت کا حقیقی جشن محض خوشی، جذبات اور عقیدت کے اظہار تک محدود نہیں، بلکہ اس کا اصل تقاضا یہ ہے کہ رسول اکرمؐ کے پیغام اور تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔

انہوں نے میلاد النبیؐ اور حضرت امام جعفر صادقؑ کی ولادت باسعادت کے موقع پر امت مسلمہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ میلاد کا حقیقی پیغام علم، شعور، اخلاق اور کردار کی تعمیر ہے۔ بالخصوص نوجوان نسل کو علم و آگہی سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، کیونکہ ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور باکردار نسل ہی ایک مضبوط، باوقار اور بہتر معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔

آغا سید حسن موسوی نے کہا کہ علم اور فکری شعور ظلم، ناانصافی اور استحصال کے مقابلے کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم، علم، تحقیق، اعلیٰ اخلاق اور بہترین کردار کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور عدل، مساوات، اخوت اور اسلامی اقدار پر مبنی ایک بہتر معاشرے کے قیام کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

علم اور شعور کے ساتھ تعلیمات صادقین پر عمل ناگزیر ہے: آغا سید حسن

انہوں نے کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰؐ کی سیرت طیبہ اور حضرت امام جعفر صادقؑ کی علمی و فکری میراث آج بھی انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے اور اگر ان عظیم ہستیوں کی تعلیمات کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کیا جائے تو جہالت، نفرت، ظلم اور ناانصافی سے پاک ایک بہتر معاشرے کی تشکیل ممکن ہے۔

محفل میلاد اور جلوس کے اختتام پر ملک و ملت کی سلامتی، امت مسلمہ کے اتحاد اور امن و بھائی چارے کے فروغ کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha