ہفتہ 29 اگست 2026 - 19:50
وحدت کا مطلب عقائد سے دستبرداری نہیں، اسلامی اخوت اور باہمی احترام کا فروغ ہے: آغا سید حسن موسوی

حوزہ/انجمنِ شرعی شیعیان جموں وکشمیر کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی نے مرکزی امام باڑہ بڈگام میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے مسلمانوں سے اتحاد کو مضبوط بنانے، باہمی احترام قائم رکھنے اور فرقہ وارانہ تعصب سے اجتناب کرنے کی اپیل کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انجمنِ شرعی شیعیان جموں وکشمیر کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی نے مرکزی امام باڑہ بڈگام میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے مسلمانوں سے اتحاد کو مضبوط بنانے، باہمی احترام قائم رکھنے اور فرقہ وارانہ تعصب سے اجتناب کرنے کی اپیل کی۔

انہوں نے ہفتۂ وحدت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 12 سے 17 ربیع الاول کا عرصہ، جو رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ؐ اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت سے منسوب ہے، امت مسلمہ کے مشترکہ دینی و اخلاقی اصولوں کو مستحکم کرنے کا اہم موقع فراہم کرتا ہے۔

آغا موسوی الصفوی نے کہا کہ وحدت محض سیاسی ضرورت نہیں بلکہ قرآنی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق اتحاد کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مختلف مکاتب فکر اپنے عقائد سے دستبردار ہو جائیں، بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنے اپنے عقائد پر قائم رہتے ہوئے اسلامی اخوت، باہمی حرمت اور پُرامن معاشرت کی حفاظت کریں۔

آغا سید حسن موسوی کا خطبۂ جمعہ میں مسلم اتحاد، اخلاقی کردار اور قومی عزم پر زور

انہوں نے سیرت رسول اکرم ؐ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آنحضرت ؐ نے ایک منتشر معاشرے کو ایمان، عدل اور اخوت کی بنیاد پر متحد امت میں تبدیل کیا۔

انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی سیرت کو بھی مشعل راہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تعلیمات اصولوں پر استقامت کے ساتھ صداقت، عدل، حسن معاشرت اور دوسروں کے احترام کی تلقین کرتی ہیں۔

انجمنِ شرعی شیعیان کے صدر نے علما، خطبا اور ذاکرین کو ایسے طرز بیان سے گریز کی تلقین کی جو نفرت، اشتعال یا سماجی دوریوں کو جنم دے۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی وابستگی کا اظہار کسی دوسرے مسلمان کی تحقیر یا تذلیل کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے اور مذہبی خطابات کا مقصد معاشرے میں معرفت، اخلاق اور اتحاد کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔

آغا موسوی نے ویت نام، افغانستان اور عراق میں امریکہ کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محض فوجی طاقت کسی قوم کے عزم، ثقافتی اعتماد اور خودمختاری کے جذبے پر غالب نہیں آ سکتی۔

انہوں نے کہا کہ قوموں کی حقیقی قوت دفاعی صلاحیت کے ساتھ ساتھ فکری بیداری، عوامی اتحاد، عدل، ایمان اور قومی ارادے میں بھی مضمر ہوتی ہے۔

ایران کے حوالے سے انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی استعداد اور داخلی یکجہتی نے ملک کی مزاحمتی صلاحیت کو مضبوط بنایا ہے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ کسی بھی قوم کو بیرونی دباؤ اور جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے عسکری تیاری کے ساتھ اخلاقی، فکری اور اجتماعی قوت کو بھی مستحکم بنانا ہوگا۔

خطبے کے اختتام پر آغا سید حسن موسوی الصفوی نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اصولی ایمان، اعلیٰ اخلاق، باہمی احترام اور اتحاد کی بنیاد پر ایک مضبوط اور پُرامن معاشرہ تشکیل دیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha