حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کی اربعین کمیٹی کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید جعفر موسوی زادہ نے اربعین کے موقع پر کمیٹی کی سرگرمیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کے 13 راستوں اور صوبوں میں تقریباً 600 تبلیغی مقامات کی نشاندہی کرکے وہاں حوزہ علمیہ کے مبلغین کو متعین کیا گیا۔
انہوں نے حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اربعین صرف چند دنوں کی ایک مذہبی رسم نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم تمدنی تحریک اور حوزات علمیہ کے لیے بین الاقوامی سطح پر اپنی ذمہ داری ادا کرنے کا اہم موقع ہے۔ اربعین کے ذریعے اہل بیت(ع) کی تعلیمات کو عام کرنے، امت مسلمہ کے اتحاد کو مضبوط بنانے اور مختلف قوموں کے درمیان رابطے بڑھانے کا بہترین موقع ملتا ہے۔
موسوی زادہ نے بتایا کہ آیت اللہ اعرافی کی ہدایت پر ’’بلاغ مبین‘‘ مرکز کے زیرِ نگرانی اربعین کمیٹی قائم کی گئی، جس کا مقصد اربعین کے حوالے سے حوزات علمیہ کی مختلف تبلیغی صلاحیتوں کو ایک منظم اور مربوط نظام کے تحت لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ذمہ داری صرف چند مبلغین کو عراق بھیجنا نہیں، بلکہ اربعین کے لیے ایک مضبوط اور منظم تبلیغی نیٹ ورک قائم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال عراق کے 13 راستوں اور صوبوں میں تقریباً 600 تبلیغی مقامات کی نشاندہی کی گئی اور ان مقامات پر مبلغین کو تعینات کیا گیا۔ اس سلسلے میں عراقی عوام، مواکب اور مختلف دینی و ثقافتی اداروں کے ساتھ پہلے سے رابطہ اور ضروری انتظامات کیے گئے تاکہ ہر مبلغ کو مخصوص مقام، میزبان اور ذمہ داری دی جا سکے۔

بین الاقوامی مبلغ کے لیے صرف چند زبان جاننا کافی نہیں
حوزات علمیہ کی اربعین کمیٹی کے سربراہ نے مبلغین کے انتخاب کے بارے میں کہا کہ صرف کسی زبان پر عبور حاصل کرنا ایک اچھے بین الاقوامی مبلغ کے لیے کافی نہیں۔ مبلغ کو مخاطب معاشرے کی ثقافت، سماجی مسائل، فکری ماحول اور وہاں کے حالات سے بھی واقف ہونا چاہیے تاکہ وہ لوگوں کے ساتھ مؤثر اور قابلِ اعتماد گفتگو کرسکے۔
انہوں نے بتایا کہ مبلغین کے انتخاب کے لیے پہلے رجسٹریشن اور پھر خصوصی جانچ اور انٹرویو کا مرحلہ مکمل کیا گیا۔ منتخب افراد کے لیے تربیتی اور مہارتی کورسز بھی منعقد کیے گئے تاکہ وہ زبان کے ساتھ ساتھ اربعین کے تبلیغی ماحول اور مختلف علاقوں کے حالات سے بھی واقف ہوسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حوزہ کی کوشش ہے کہ تبلیغ کے معیار کو تعداد پر ترجیح دی جائے اور ہر مبلغ کو اس کی صلاحیت اور علاقے کی حقیقی ضرورت کے مطابق ذمہ داری دی جائے۔
عراقی عوام اور مواکب کے ساتھ تعاون
موسوی زادہ نے عراقی فریق کے ساتھ رابطے کو اس منصوبے کی کامیابی کا اہم سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اربعین سے کافی پہلے عراقی حکام، دینی و ثقافتی اداروں، مواکب، قبائلی شیوخ اور دیگر بااثر افراد سے رابطے کیے گئے۔ ان رابطوں کا مقصد صرف مبلغین کے لیے جگہ حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ حقیقی اور دوطرفہ تعاون کا ماحول پیدا کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بصرہ، عماره اور دیگر علاقوں کے دوروں کے دوران مقامی شیوخ اور معززین سے ملاقاتیں کی گئیں اور اربعین کی تبلیغی و ثقافتی صلاحیتوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان کے مطابق حوزہ علمیہ کا مقصد عراقی عوام کی میزبانی اور عوامی صلاحیتوں کی جگہ لینا نہیں، بلکہ ان کے ساتھ مل کر اپنی علمی اور تبلیغی صلاحیتوں کو اربعین کی خدمت میں پیش کرنا ہے۔
میدان میں موجودگی سے حقیقی مسائل کا بہتر اندازہ
موسوی زادہ نے کہا کہ صرف مرکزی سطح پر منصوبہ بندی کافی نہیں، بلکہ ذمہ داران کی براہِ راست میدان میں موجودگی بھی ضروری ہے۔ بصرہ، عماره اور عراق کے دیگر علاقوں میں مبلّغین، موکب منتظمین، عراقی میزبانوں اور زائرین سے براہِ راست گفتگو کے ذریعے مختلف علاقوں کی حقیقی ضروریات اور مسائل کا بہتر اندازہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات مرکزی سطح پر کوئی مسئلہ آسان دکھائی دیتا ہے، لیکن میدان میں ثقافتی، جغرافیائی اور مقامی حالات کی وجہ سے اس کی صورت حال مختلف ہوتی ہے۔ اسی لیے تبلیغی پروگراموں کو ہر علاقے کے حالات اور لوگوں کی حقیقی ضروریات کے مطابق ترتیب دینے کی کوشش کی گئی۔
فلسطین اور مزاحمت بھی گفتگو کا اہم موضوع
اربعین کے دوران لوگوں کے سوالات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ گفتگو ہمیشہ کسی ایک موضوع تک محدود نہیں رہتی۔ ایک زائر شرعی مسئلے سے بات شروع کرتا ہے اور گفتگو اعتقادی، سماجی یا علاقائی مسائل تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سال خطے کی صورت حال، غزہ کی جنگ، فلسطین، اسرائیلی جرائم اور مزاحمتی محاذ کے اہم رہنماؤں کی شہادت کے حوالے سے بھی لوگوں میں متعدد سوالات اور گفتگو ہوئی۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں مبلغ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مستند اور درست معلومات کے ذریعے علاقائی حالات، فلسطینی عوام کے مسائل اور مزاحمت کے فلسفے کو واضح کرے۔
موسوی زادہ نے کہا کہ اربعین عاشورا کے پیغام، ظلم کے خلاف جدوجہد، مظلوموں کی حمایت اور ظلم و قبضے کے خلاف مزاحمت کے درمیان تعلق واضح کرنے کا بھی ایک اہم موقع ہے۔ مبلغین اس موقع کو امت مسلمہ کے درمیان ہمدردی، اتحاد اور علاقائی مسائل کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔
مواکب تبلیغ کے لیے بہترین جگہ
انہوں نے کہا کہ موکب صرف زائرین کے آرام کی جگہ نہیں بلکہ لوگوں سے براہِ راست اور دوستانہ گفتگو کا ایک بہترین ماحول بھی ہے۔ یہاں مبلغین شرعی سوالات کے جوابات دینے، اعتقادی مسائل سمجھانے، شبہات دور کرنے اور لوگوں کی رہنمائی کے ساتھ ان کے مسائل اور خدشات سن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ مبلغ صرف تقریر کرنے والا شخص نہ ہو بلکہ لوگوں کے لیے ایک ثقافتی اور دینی ساتھی بنے۔ جب لوگ محسوس کرتے ہیں کہ مبلغ ان کی بات سننے اور ان کے مسائل سمجھنے کے لیے موجود ہے تو ایک گہرا اور مؤثر تعلق قائم ہوتا ہے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین موسوی زادہ نے آخر میں کہا کہ اس سال کی سرگرمیوں کا اہم ترین نتیجہ حوزہ علمیہ اور عراق کے عوامی، دینی اور ثقافتی اداروں کے درمیان ایک مضبوط تبلیغی و ارتباطی نیٹ ورک کا قیام ہے۔ اربعین کے یہ روابط صرف چند دنوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں، بلکہ بین الاقوامی مبلغین کی تربیت، مخاطب کی بہتر شناخت، مسلسل جائزے اور عراقی اداروں کے ساتھ مستقل روابط کے ذریعے انہیں مزید مضبوط کیا جانا چاہیے۔ اربعین حوزہ علمیہ کے لیے بین الاقوامی تبلیغ کی ایک بڑی تربیت گاہ اور امت مسلمہ کے درمیان ثقافتی روابط مضبوط بنانے کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔









آپ کا تبصرہ