جمعرات 19 فروری 2026 - 11:01
عالمِ اسلام کے خلاف فکری یلغار کا نیا مرحلہ؛ دفاع کے ساتھ جارحانہ حکمتِ عملی ناگزیر

حوزہ/ مدیر حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ آیت‌اللہ علی رضا اعرافی نے خبردار کیا ہے کہ اسلام اور دینی اقدار کے خلاف عالمی سطح پر منظم فکری و تہذیبی جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس کے مقابلے کے لیے عالمِ اسلام کو دفاعی اقدامات کے ساتھ جارحانہ علمی و تبلیغی حکمتِ عملی بھی اپنانا ہوگی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدیر حوزہ علمیہ ایران نے کہا کہ آج عالمِ اسلام ایک نئے اور ہمہ جہت فکری و تہذیبی معرکے سے دوچار ہے، جس میں صرف دفاعی حکمتِ عملی کافی نہیں بلکہ قرآن و سنت کی بنیاد پر جارحانہ فکری حکمتِ عملی بھی اپنانا ناگزیر ہوچکا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ماہِ رمضان المبارک میں پچاس ہزار سے زائد مبلغین کو ملک بھر میں روانہ کیا جائے گا، جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی تبلیغی سرگرمیوں کو وسعت دی جا رہی ہے۔

عالمِ اسلام کے خلاف فکری یلغار کا نیا مرحلہ؛ دفاع کے ساتھ جارحانہ حکمتِ عملی ناگزیر

مدرسۂ فیضیہ قم میں اساتذہ، مبلغین اور طلاب سے خطاب کرتے ہوئے آیت‌الله اعرافی نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں اسلام، دینی اقدار اور انقلاب اسلامی کے خلاف منظم مہم ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ سوشل میڈیا اور فکری یلغار کے ذریعے نوجوان نسل کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ پورا عالمِ اسلام اس چیلنج سے متاثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ حوزہ اور علماء کو میدان میں اتر کر کردار ادا کرنا ہوگا، خواہ ایک فرد کی ہدایت ہی کیوں نہ ہو۔ ان کے مطابق آج کا معرکہ ایک سخت تہذیبی جنگ ہے جس میں مغربی مادی ثقافت پوری قوت سے اسلامی افکار پر حملہ آور ہے، اس لیے مبلغ کو علم، بصیرت، اخلاق، اخلاص اور دشمن کی فکری بنیادوں کی گہری شناخت سے لیس ہونا چاہیے۔

عالمِ اسلام کے خلاف فکری یلغار کا نیا مرحلہ؛ دفاع کے ساتھ جارحانہ حکمتِ عملی ناگزیر

آیت‌ اللہ اعرافی نے کہا کہ فقہ، کلام، تفسیر اور معتبر علمی مصادر سے مضبوط ربط کے بغیر مؤثر تبلیغ ممکن نہیں۔ انہوں نے مختلف تبلیغی منصوبوں جیسے “طرح امین” اور “طرح هجرت” کی توسیع کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اسکولوں اور محروم علاقوں میں مبلغین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

سربراہ حوزہ علمیہ نے بین الاقوامی تبلیغ کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج حوزہ کا مخاطب آٹھ ارب انسان ہیں اور عالمِ اسلام کو مشترکہ فکری چیلنجز کا سامنا ہے، لہٰذا عالمی سطح پر منظم اور مؤثر حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حوزہ دیگر دینی و ثقافتی اداروں کے لیے متخصص افرادی قوت کی تربیت کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ موجودہ حالات میں مسجد کو مرکز بنا کر دینی بیداری کو فروغ دینا اور نوجوان نسل کی فکری حفاظت کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور علماء ہر مشکل کے باوجود دینِ خدا کی خدمت کے لیے ثابت قدم ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha