حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی جریدے فارن پالیسی کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں واشنگٹن فوجی دباؤ کو سفارتی فائدہ سمجھ رہا ہے جبکہ تہران اسے نظریاتی بقا کی جنگ تصور کرتا ہے جس سے محدود حملہ بھی بے قابو تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ایران نے گزشتہ برسوں میں اپنی عسکری حکمت عملی کو نمایاں طور پر تبدیل کیا ہے اور کم لاگت مگر بڑی تعداد میں استعمال ہونے والے ڈرونز، میزائلوں اور کثیر محاذی کارروائیوں پر مبنی جنگی ماڈل تیار کیا ہے۔
دوسری جانب یوکرین جنگ کے دوران روس کو ایرانی شاہد ڈرونز کی فراہمی کو مغربی دنیا نے ایران کی عالمی سطح پر اثر انداز ہونے کی حکمت عملی کا اہم موڑ قرار دیا ہے۔









آپ کا تبصرہ