حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کا جدید جنگی جہاز شہید مہدوی کروز میزائلوں، جدید دفاعی نظام اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے ڈرونز سے لیس ہے۔ 2100 ٹن سے زائد وزنی یہ اسٹریٹیجک جہاز بیک وقت 5 ہیلی کاپٹر لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جسے خطے میں بحری توازن کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ناوگروہ شہید مہدوی، جو نیروی دریایی سپاه پاسداران انقلاب اسلامی کا اہم حصہ ہے، 57 روز سے زائد مسلسل سمندری سفر اور جنوبی افریقہ میں بریکس بحری مشقوں میں شرکت کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کی سمندری حدود میں واپس پہنچ گیا۔ واپسی پر نیروی کمانڈر نے اس کا استقبال کیا۔
یہ طویل مشن اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ سپاہ کی بحریہ اب دور دراز سمندری علاقوں میں طویل عرصے تک مؤثر موجودگی برقرار رکھنے کی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔ اس دوران اس کی لاجسٹک اور سپورٹ صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ناو شہید مہدوی کی نمایاں خصوصیات
ناو شہید مہدوی کا وزن 2100 ٹن سے زائد، لمبائی 240 میٹر اور چوڑائی 27 میٹر ہے۔ اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ صرف ایک جنگی جہاز ہی نہیں بلکہ ایک تیرتے ہوئے بحری اڈے کے طور پر بھی کام کر سکتا ہے۔
جہاز میں جدید تھری ڈی ریڈار، مواصلاتی نظام اور نگرانی کے آلات نصب ہیں، جو وسیع سمندری علاقے کی مسلسل نگرانی اور آپریشنل کنٹرول کو ممکن بناتے ہیں۔
میزائل اور دفاعی نظام
یہ جہاز سطح بہ سطح اور سطح بہ فضا میزائلوں کے ساتھ دفاعی نظام "سوم خرداد" سے بھی لیس ہے۔ ناو شہید مہدوی 300 سے 750 کلومیٹر تک مار کرنے والے کروز میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ بعض صورتوں میں اس کی رینج تقریباً 1000 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔
اس کی ایک اہم خصوصیت عرشے سے بیلسٹک میزائل داغنے کی صلاحیت ہے، جس کا کامیاب تجربہ مشق “پیامبر اعظم 18” کے دوران کیا گیا تھا۔ ماہرین اسے بحری دفاعی حکمت عملی میں اہم پیش رفت قرار دیتے ہیں۔

ڈرون اور ہیلی کاپٹر کی صلاحیت
ناو شہید مہدوی مختلف اقسام کے نگرانی اور حملہ آور ڈرون لے جا سکتا ہے۔ ان میں عمودی پرواز کرنے والا “سپہر 7” ڈرون شامل ہے، جس کی پرواز کا دورانیہ 8 گھنٹے اور رینج 200 کلومیٹر ہے۔ بعض حملہ آور ڈرونز کی رینج 1300 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔
یہ جہاز بیک وقت 5 ہیلی کاپٹر لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور میزائل بردار کشتیوں کی معاونت اور نقل و حرکت بھی ممکن بناتا ہے۔ اس طرح یہ ایک کثیر المقاصد بحری پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔

دور دراز سمندری علاقوں تک رسائی
اپنے ایک مشن کے دوران یہ ناو پہلی بار جزیرہ ڈیاگو گارسیا کے قریب تک پہنچا، جہاں امریکی افواج تعینات ہیں۔ اسے اس کی بڑھتی ہوئی عملیاتی رسائی اور کھلے سمندروں میں موجودگی کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ناو شہید مہدوی حالیہ برسوں میں سپاہ کی بحری صلاحیت میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔ میزائل، دفاعی نظام، ڈرون، فضائی سہولت اور جدید نگرانی کے آلات کی موجودگی اسے ایک ہمہ جہت تیرتے ہوئے بحری اڈے میں تبدیل کرتی ہے۔
57 روزہ حالیہ مشن سے واضح ہوتا ہے کہ سپاہ کی بحریہ کھلے سمندروں میں مستقل موجودگی اور علاقائی حدود سے باہر آپریشنل دائرہ کار کو وسعت دینے کی سمت آگے بڑھ رہی ہے، جو سمندری سلامتی کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
17:07 - 2026/02/24









آپ کا تبصرہ