منگل 24 فروری 2026 - 10:40
سمندر میں نئی طاقت کی انٹری — ایران کا 1000 کلومیٹر تک مار کرنے والا جدید جنگی جہاز

حوزہ/ ایران کا جدید جنگی جہاز "شہید مہدوی"، جو نیروی دریایی سپاه پاسداران انقلاب اسلامی کا حصہ ہے، 57 روزہ طویل سمندری مشن اور بریکس بحری مشقوں میں شرکت کے بعد وطن واپس پہنچ گیا۔ 1000 کلومیٹر تک مار کرنے والے کروز میزائل، بیلسٹک صلاحیت، جدید دفاعی نظام، طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے ڈرونز اور 5 ہیلی کاپٹر لے جانے کی استعداد کے باعث اسے ایران کی بحری طاقت میں اہم اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کا جدید جنگی جہاز شہید مہدوی کروز میزائلوں، جدید دفاعی نظام اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے ڈرونز سے لیس ہے۔ 2100 ٹن سے زائد وزنی یہ اسٹریٹیجک جہاز بیک وقت 5 ہیلی کاپٹر لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جسے خطے میں بحری توازن کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

سمندر میں نئی طاقت کی انٹری — ایران کا 1000 کلومیٹر تک مار کرنے والا جدید جنگی جہاز

ناوگروہ شہید مہدوی، جو نیروی دریایی سپاه پاسداران انقلاب اسلامی کا اہم حصہ ہے، 57 روز سے زائد مسلسل سمندری سفر اور جنوبی افریقہ میں بریکس بحری مشقوں میں شرکت کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کی سمندری حدود میں واپس پہنچ گیا۔ واپسی پر نیروی کمانڈر نے اس کا استقبال کیا۔

یہ طویل مشن اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ سپاہ کی بحریہ اب دور دراز سمندری علاقوں میں طویل عرصے تک مؤثر موجودگی برقرار رکھنے کی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔ اس دوران اس کی لاجسٹک اور سپورٹ صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ناو شہید مہدوی کی نمایاں خصوصیات

ناو شہید مہدوی کا وزن 2100 ٹن سے زائد، لمبائی 240 میٹر اور چوڑائی 27 میٹر ہے۔ اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ صرف ایک جنگی جہاز ہی نہیں بلکہ ایک تیرتے ہوئے بحری اڈے کے طور پر بھی کام کر سکتا ہے۔

جہاز میں جدید تھری ڈی ریڈار، مواصلاتی نظام اور نگرانی کے آلات نصب ہیں، جو وسیع سمندری علاقے کی مسلسل نگرانی اور آپریشنل کنٹرول کو ممکن بناتے ہیں۔

میزائل اور دفاعی نظام

یہ جہاز سطح بہ سطح اور سطح بہ فضا میزائلوں کے ساتھ دفاعی نظام "سوم خرداد" سے بھی لیس ہے۔ ناو شہید مہدوی 300 سے 750 کلومیٹر تک مار کرنے والے کروز میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ بعض صورتوں میں اس کی رینج تقریباً 1000 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔

اس کی ایک اہم خصوصیت عرشے سے بیلسٹک میزائل داغنے کی صلاحیت ہے، جس کا کامیاب تجربہ مشق “پیامبر اعظم 18” کے دوران کیا گیا تھا۔ ماہرین اسے بحری دفاعی حکمت عملی میں اہم پیش رفت قرار دیتے ہیں۔

سمندر میں نئی طاقت کی انٹری — ایران کا 1000 کلومیٹر تک مار کرنے والا جدید جنگی جہاز

ڈرون اور ہیلی کاپٹر کی صلاحیت

ناو شہید مہدوی مختلف اقسام کے نگرانی اور حملہ آور ڈرون لے جا سکتا ہے۔ ان میں عمودی پرواز کرنے والا “سپہر 7” ڈرون شامل ہے، جس کی پرواز کا دورانیہ 8 گھنٹے اور رینج 200 کلومیٹر ہے۔ بعض حملہ آور ڈرونز کی رینج 1300 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔

یہ جہاز بیک وقت 5 ہیلی کاپٹر لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور میزائل بردار کشتیوں کی معاونت اور نقل و حرکت بھی ممکن بناتا ہے۔ اس طرح یہ ایک کثیر المقاصد بحری پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔

سمندر میں نئی طاقت کی انٹری — ایران کا 1000 کلومیٹر تک مار کرنے والا جدید جنگی جہاز

دور دراز سمندری علاقوں تک رسائی

اپنے ایک مشن کے دوران یہ ناو پہلی بار جزیرہ ڈیاگو گارسیا کے قریب تک پہنچا، جہاں امریکی افواج تعینات ہیں۔ اسے اس کی بڑھتی ہوئی عملیاتی رسائی اور کھلے سمندروں میں موجودگی کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ناو شہید مہدوی حالیہ برسوں میں سپاہ کی بحری صلاحیت میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔ میزائل، دفاعی نظام، ڈرون، فضائی سہولت اور جدید نگرانی کے آلات کی موجودگی اسے ایک ہمہ جہت تیرتے ہوئے بحری اڈے میں تبدیل کرتی ہے۔

57 روزہ حالیہ مشن سے واضح ہوتا ہے کہ سپاہ کی بحریہ کھلے سمندروں میں مستقل موجودگی اور علاقائی حدود سے باہر آپریشنل دائرہ کار کو وسعت دینے کی سمت آگے بڑھ رہی ہے، جو سمندری سلامتی کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha

تبصرے

  • Yousuf Ali PK 17:07 - 2026/02/24
    ان شاءاللہ ، فتح و نصرت مومنین کا مقدر ہے ، اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمن ذلیل و نابود ہوں گے