حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراق میں رہبر معظم کے نمائندے آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی نے قم المقدسہ میں منعقدہ اربعین 2026 کے مبلغین و مبلغات کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اربعین صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں بلکہ معارف اہل بیت علیہم السلام، ثقافتِ مہدویت اور ظلم و استکبار کے خلاف اسلامی پیغام کو عام کرنے کا بہترین موقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت اور عراق میں ان کی تاریخی تشییع جنازہ کے بعد وہاں ایک نئی فضا وجود میں آئی ہے، جسے اربعین کی تبلیغی اور ثقافتی سرگرمیوں میں پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔
آیت اللہ حسینی نے مبلغین کو ہدایت کی کہ وہ مہدویت کے پیغام کو جذباتی انداز تک محدود نہ رکھیں بلکہ مستند اور حقیقی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پیش کریں تاکہ معاشرہ فکری انحراف سے محفوظ رہے۔ ان کے بقول، اربعین کا اصل پیغام ظلم، استکبار اور باطل قوتوں کے مقابلے میں استقامت ہے، جو مہدویت کے اعلیٰ مقاصد سے مکمل ہم آہنگ ہے۔
انہوں نے ایرانی زائرین پر زور دیا کہ وہ عراقی عوام کی عظیم میزبانی کا دل سے شکریہ ادا کریں اور خود کو میزبانوں کا معاون سمجھتے ہوئے احترام، محبت اور اخوت کے جذبے کے ساتھ اربعین میں شریک ہوں۔
عراق میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے نمائندے نے کہا کہ مبلغین کو عراقی معاشرے کی ثقافتی حساسیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے معارف اہل بیت علیہم السلام اور انقلاب اسلامی کے افکار کو مؤثر انداز میں پیش کرنا چاہیے۔
آیت اللہ حسینی نے آخر میں کہا کہ اربعین کی خدمت کے لیے مختلف راستوں پر موکب پہلے ہی قائم ہو چکے ہیں اور زائرین کی خدمت کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور عراق کے عوام ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے اور دشمن کی تمام کوششیں دونوں برادر اقوام کے درمیان اتحاد، یکجہتی اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا سبب بنیں گی۔









آپ کا تبصرہ