حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بغداد کے امام جمعہ اور حوزہ علمیہ نجف اشرف کے استاد آیت اللہ سید یاسین موسوی نے نماز جمعہ کے خطبوں میں کہا: زیارت اربعین ایک غیر معمولی حیثیت اختیار کر چکی ہے جو محض مادی تشریحات سے بالاتر ہے۔ اس میں زائرین کی لاتعداد شرکت کو امت کے درمیان عزت کی بحالی اور شکست خوردہ ذہنیت کے خاتمے کے لیے ’’شرعی مطالبہ‘‘ اور ’’روحانی علاج‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔
آیت اللہ سید یاسین موسوی نے کہا: اس سال اربعین کے موقع پر زائرین کی تعداد 22 ملین سے تجاوز کر گئی ہے اور شدید رش کے باعث جو افراد شہر کے مرکزی حصے تک نہیں پہنچ سکے ان کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا: یہ لاکھوں افراد کی شرکت دنیا کے سب سے بڑے مذہبی اجتماعات سے بھی آگے نکل گئی ہے جبکہ عراقی عوام کی بے مثال ’’سخاوت و بخشش‘‘ اور مہمان نوازی نے مختلف ادیان کے محققین اور نمائندوں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔
بغداد کے امام جمعہ نے عراقی عوام کے رویوں میں آنے والی گہری تبدیلی کی جانب بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا: کئی افراد اور حتی وہ لوگ جو اپنا مال خرچ کرنے میں سختی کرتے ہیں، زائرین اربعین کی خدمت کے شرف کے سامنے خود کو وقف کر دیتے ہیں۔
انہوں نے اس رویے کو عوام کے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ گہری اعتقادی وابستگی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اسے ’’اسرار عالم‘‘ میں سے ایک قرار دیا جو ان قربانیوں کا بنیادی سبب ہے۔
آیت اللہ موسوی نے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں ان مذہبی مراسم کو ناکام بنانے کی بیرونی کوششوں کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے امریکہ کی سیاسی اور سکیورٹی دباؤ کے ذریعہ زیارت اربعین کے انعقاد کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوششوں کی جانب بھی اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا: عراق کے عوام کی بیداری کے باعث بدامنی پیدا کرنے اور حملے کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اور زیارت اربعین میں عوام کی وسیع پیمانے پر شرکت خطے میں امریکی اثر و رسوخ میں کمی کی علامت ہے۔
انہوں نے عراقی مسلح افواج کے اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: ’’شیعہ خون سرخ لکیر ہے‘‘ اور عراقی فورسز کو ایسی سازشوں میں دھکیلنے کی ہر کوشش کو روکنا ضروری ہے جن کا مقصد حکومت اور ملک کے فوجی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔
بغداد کے امام جمعہ نے اپنے خطاب کے آخر میں قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: مذہبی اور سیاسی اختلافات کو ’’مشترکہ دشمن‘‘ یعنی امریکہ اور صہیونی حکومت کے مقابلے میں اپنی صفوں کے اتحاد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ