حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت آیت اللہ نوری ہمدانی کے چالیسویں بین الاقوامی وحدتِ اسلامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر جاری پیغام کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَ الصَّلَاةُ وَ السَّلَامُ عَلَی سَیِّدِنَا وَ نَبِیِّنَا أَبِی الْقَاسِمِ الْمُصْطَفَی مُحَمَّدٍ، وَ عَلَی أَهْلِ بَیْتِهِ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ، سِیَّمَا بَقِیَّةِ اللَّهِ فِی الْأَرَضِینَ، وَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَی أَعْدَائِهِمْ أَجْمَعِینَ إِلَی یَوْمِ الدِّینِ.
﴿وَأَطِیعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِیحُکُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِینَ﴾
سب سے پہلے میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باسعادت ولادت اور ہفتۂ وحدت کی مناسبت سے پوری امت مسلمہ اور اس اجلاس میں شریک تمام عزیزوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان معزز ذمہ داران کا صمیم قلب سے شکریہ اور قدردانی کرتا ہوں جنہوں نے اس بامقصد اور قابل قدر اجتماع کے انعقاد میں کردار ادا کیا۔
اسی موقع پر جمہوریہ اسلامی ایران کے بانی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایران اسلامی کے خلاف امریکہ کی مجرمانہ حکومت اور بچوں کی قاتل صہیونی حکومت کی جارحیت اور تجاوز کے مقابلے میں شجاعانہ دفاع کرنے والے شہداء کی پاکیزہ ارواح پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔ بالخصوص امت مسلمہ کی وحدت کے علمبردار عظیم المرتبت قائد شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کو یاد کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ان عزیزوں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہیں۔
اسلامی تاریخ میں مسلمانوں کی وحدت اور باہمی تقریب ہمیشہ ضروریات میں شمار ہوتی رہی ہے لیکن آج جبکہ اسلام دشمن قوتیں اپنی تمام تر صلاحیتیں مسلمانوں کو کمزور کرنے، اختلاف پیدا کرنے اور اسلامی ممالک پر تسلط حاصل کرنے کے لیے بروئے کار لا رہی ہیں، یہ مسئلہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے اور اس کی عقلی ضرورت اور شرعی وجوب پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو چکا ہے۔
قرآن کریم مسلمانوں کو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کی دعوت دیتا ہے اور ایسے نزاع و تفرقے سے واضح طور پر منع کرتا ہے جو مسلمانوں کی کمزوری اور ان کی قوت و شوکت کے زوال کا سبب بنتا ہے۔ البتہ تقریب اور وحدت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسلامی مذاہب کے پیروکار اپنے اصول اور اعتقادات سے دستبردار ہو جائیں۔ علمی اختلاف کو علمی اور تحقیقی ماحول تک محدود رہنا چاہیے اور اسے نزاع، دشمنی، تکفیر اور مسلمانوں کا خون بہانے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
علمائے اسلام پر اس سلسلے میں بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور انہیں بصیرت و آگاہی کے ساتھ اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ مذہبی اختلافات اسلام دشمن عناصر کے ہاتھوں مسلمانوں کے درمیان فتنہ اور تفرقہ پیدا کرنے کا ذریعہ نہ بن سکیں۔
آج اسلام دشمن قوتیں اور بالخصوص امریکہ اور صہیونی حکومت مسلمانوں کی کمزوری، تفرقے اور پسماندگی کے سوا کچھ نہیں چاہتے۔ یہ انتہائی سادہ لوحی ہوگی کہ کوئی یہ تصور کرے کہ یہ دونوں قوتیں ایک دوسرے سے الگ ہیں اور ان کے مقاصد مختلف ہیں۔ گزشتہ برسوں کے تجربات نے بخوبی ثابت کیا ہے کہ ان کا مقصد خطے پر غلبہ حاصل کرنا اور اسلامی ممالک کو طاقتور بننے سے روکنا ہے۔
یہ تصور کہ ان کی دشمنی صرف جمہوریہ اسلامی ایران کے ساتھ ہے، انتہائی سادہ اور سطحی سوچ ہے۔ خطے کے حکمرانوں کو جان لینا چاہیے کہ صہیونی حکومت ہر اس طاقتور اسلامی ملک کے ساتھ مسائل پیدا کرے گی جو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہتا ہو، آزادانہ زندگی گزارنا چاہتا ہو اور غیر ملکی طاقتوں کی بالادستی قبول کرنے سے انکار کرتا ہو۔ آج جمہوریہ اسلامی ایران ان کی دشمنی کا نشانہ ہے اور کل کوئی بھی دوسرا اسلامی ملک جو آزادی اور اقتدار کی راہ پر گامزن ہوگا، اسی دشمنی کا نشانہ بن سکتا ہے۔
اس بنا پر مسلمانوں کا باہمی اتحاد اور اسلامی ممالک کے حکمرانوں کا باہمی تعاون سب کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ تصور کہ فلاں ملک کو دوسروں کی نسبت زیادہ تعاون اور تقریب کی ضرورت ہے اور دوسرے ممالک کو اس کی ضرورت نہیں، عالم اسلام کی حقیقتوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اتحاد، یکجہتی اور باہمی تعاون تمام اسلامی اقوام اور حکومتوں کی ضرورت ہے۔
اسلامی ممالک کی عزت اور سلامتی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ دیگر اسلامی ممالک کی کمزوری، بدامنی اور تفرقے کے درمیان کوئی اسلامی ملک پائیدار امن اور اقتدار حاصل کر سکے۔ مشترکہ دشمن مسلمانوں کے اختلافات سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کے لالچ بھرے ہاتھ کو اسلامی سرزمینوں سے دور رکھنے کا واحد راستہ ملتوں اور مسلم حکومتوں کی بیداری، بصیرت، اتحاد اور باہمی تعاون ہے۔
جمہوریہ اسلامی ایران نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے آغاز ہی سے مسلمانوں کی وحدت، اسلام کی عزت اور اسلامی ممالک کی آزادی کو اپنے بنیادی اصولوں میں شمار کیا ہے اور اس راہ میں بھاری قیمتیں بھی چکائی ہیں۔ قیادت، ذمہ داران، فوجی قوتیں اور ایرانی عوام اس باہمی اتحاد کی ضرورت سے آگاہ ہیں اور اس اصول پر قائم ہیں۔ لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی سرزمین کے بعض حصوں کو جمہوریہ اسلامی ایران کے خلاف دھمکی یا حملے کے اڈے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ ملک کی آزادی، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا دفاع ایک جائز حق اور مسلمہ فریضہ ہے اور جب بھی کوئی جارحیت ہوگی تو جمہوریہ اسلامی ایران جارح اور حملہ آور کو روکنے پر مجبور ہوگا۔ یہ دفاع درحقیقت طویل مدت میں خطے کی سلامتی اور ان مسلم اقوام کا بھی دفاع ہے جن پر مشترکہ دشمن تسلط حاصل کرنا چاہتا ہے۔
بلاشبہ آج امت مسلمہ کو پہلے سے کہیں زیادہ وحدت کی اس گراں قدر تعلیم کی ضرورت ہے۔ عالم اسلام کی موجودہ صورتحال اور فلسطین، لبنان، شام، عراق، ایران اور یمن میں امت مسلمہ کے خلاف دشمنوں کی مسلسل جارحیت و تجاوز اور ہمارے خطے اور عالم اسلام کے بعض ممالک میں سفاک دشمن کی منحوس اور نامبارک موجودگی اس امر کی متقاضی ہے کہ مسلمان اقوام اور حکومتیں وحدت کے تحفظ اور داخلی اختلاف و نزاع سے اجتناب پر پہلے سے کہیں زیادہ توجہ دیں۔
اس موقع پر چند نکات بطور یاددہانی عرض کرتا ہوں:
اول: وحدت و تقریب اور اختلاف و تفرقے سے اجتناب ہمیشہ اور بالخصوص موجودہ حالات میں ایک عقلی ضرورت اور شرعی فریضہ ہے اور ہر وہ بات یا اقدام جو مسلمانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرے بلاشبہ امت کے دشمنوں کے مقاصد کی تکمیل کی راہ میں ہے۔
دوم: اس دور میں امت کا سب سے بڑا دشمن صہیونی غاصب اور پلید حکومت اور اس کے ظالم حامی ہیں جنہوں نے اسلامی سرزمینوں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات پر قبضہ کر رکھا ہے، خواتین، بچوں اور بے گناہ افراد کو قتل کر رہے ہیں اور ہمارے خطے میں بدامنی اور جنگ کا بنیادی سبب ہیں۔ اس حکومت سے ہر قسم کے تعلقات اور اس کے وجود کو برقرار رکھنے میں مدد یقیناً امت کے مفادات سے متصادم ہے۔ ضروری ہے کہ مسلمان اقوام متحد اور یکجا ہو کر اس مشترکہ دشمن کے مقابل کھڑی ہوں اور فلسطین، لبنان اور دیگر ان علاقوں کے مظلوم مسلمانوں کی مدد اور حمایت سے دریغ نہ کریں جو ان دشمن قوتوں کے حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔
سوم: مسلمان حکومتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پہلے سے بڑھ کر اتحاد اور مشترکہ تعاون پر توجہ دیں اور اپنے ممالک کی سلامتی کے لیے ان دشمن قوتوں پر انحصار سے اجتناب کریں جو امت کے مفادات کے بجائے صرف اپنے اور قابض حکومت کے مفادات کے بارے میں سوچتی ہیں۔ اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ ہمارے خطے میں ان دشمن قوتوں کی موجودگی بدامنی اور فساد کے سوا کوئی دوسرا نتیجہ نہیں رکھتی۔
چہارم: اس سلسلے میں علمائے اسلام کی ذمہ داری انتہائی اہم اور سنگین ہے۔ علما کو چاہیے کہ وہ عوام اور حکومتوں کو وحدت، بصیرت اور دشمن شناسی کی دعوت دیں اور دلوں کو جوڑنے اور اختلاف و تفرقے کی روک تھام میں پیش پیش رہیں۔ حوزاتِ علمیہ، جامعات اور عالم اسلام کے علمی مراکز کو علمی مکالمے اور مسلمانوں کے مفادات کے دفاع کا مرکز ہونا چاہیے نہ کہ خدانخواستہ مذہبی اختلافات کو وسعت دینے اور مسلمانوں کی صفوں کو کمزور کرنے کا ذریعہ بنیں۔
میں اس کانفرنس میں شریک معزز شخصیات کے لیے کامیابی کی دعا کرتے ہوئے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے مذاکرات میں عالم اسلام کی حکومتوں، عوام اور علمی و دینی مراکز کے درمیان روابط اور تعاون کو مضبوط بنانے کے عملی طریقوں کو زیر توجہ لائیں اور مسلمانوں کے درمیان جدائی اور تفرقہ پیدا کرنے کے لیے دشمنوں کی سازشوں اور منصوبوں کو امت کے سامنے واضح کریں۔
آخر میں بارگاہ الٰہی میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو وہ عزت عطا فرمائے جس کی وہ مستحق ہے، مسلمانوں کے مسائل کو درست فرمائے، ان کے دلوں کو ایک دوسرے کے قریب کرے اور اسلامی سرزمینوں کو دشمن کے شر سے محفوظ فرمائے۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
قم ـ ربیع الاول ۱۴۴۸ھ، شهریور ۱۴۰۵، اگست 2026ء
حسین نوری ہمدانی









آپ کا تبصرہ