ترتیب وترجمہ: ڈاکٹر محمد لطیف مطہری
حوزہ نیوز ایجنسی| ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں شہید رہبر معظم سید علی خامنہای(رح) کی بعض بے مثال اختصاصی خصوصیات ہیں جنہیں ہم ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اختصاصی خصوصیات سے مراد کسی شخصیت کی وہ منفرد خصوصیات ہیں جو تاریخ میں اسے ممتاز بناتی ہیں۔اس سلسلۂ تحریر میں ہم انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کی انہی منفرد خصوصیات کا جائزہ لیں گے؛ یعنی وہ غیرمعمولی صفات جو اس سرزمین کی حکمرانی کی تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتیں۔
چودہویں خصوصیت: تواضع و اخلاص
رہبرِ شہید کی شخصیت کا ایک نہایت درخشاں اور کم نظیر پہلو ان کی عمیق تواضع، بے لوث اخلاص اور منصب و اقتدار سے کامل بے رغبتی تھا۔ اگرچہ آپ امتِ اسلامی کی عظیم ترین ذمہ داری کے منصب پر فائز ہوئے، لیکن کبھی اپنی ذات، مقام یا اختیارات کو فضیلت اور برتری کا معیار نہیں سمجھا۔ آپ ہمیشہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا ایک عاجز اور کمزور بندہ قرار دیتے تھے، جس کے کندھوں پر ایک عظیم الٰہی امانت رکھی گئی ہے۔
قرآنِ کریم بھی بندگانِ خدا کی بنیادی صفت تواضع کو قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا﴾"رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی اور انکساری کے ساتھ چلتے ہیں۔" (الفرقان: 63)رہبرِ شہید کی عملی زندگی اس قرآنی تعلیم کی روشن تفسیر تھی۔ آپ کی عظمت کا راز منصب کی بلندی میں نہیں بلکہ بندگی، فروتنی اور خدا کے حضور دائمی احساسِ احتیاج میں پوشیدہ تھا۔
رہبرِ شہید فرمایا کرتے تھے:"میں خداوند متعال کے حضور اپنے آپ کو ایک کمزور بندہ سمجھتا ہوں۔ یہ نہ تعارف ہے اور نہ رسمی انکساری؛ بلکہ یہی حقیقت ہے۔ میں ایک کمزور بندہ ہوں جس کے کندھوں پر ایک بھاری ذمہ داری رکھی گئی ہے، اور میری کوشش یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس ذمہ داری کو ادا کر سکوں۔"
یہ الفاظ اس شخصیت کے ہیں جسے کروڑوں انسان اپنا رہبر مانتے تھے، لیکن جو خود کو ہمیشہ خدا کے سامنے جواب دہ اور اس کی رحمت کا محتاج سمجھتے تھے۔ یہی احساسِ بندگی آپ کی پوری قیادت کی بنیاد تھا اور اسی نے آپ کو اقتدار کی ظاہری عظمت کے باوجود غرور، خود پسندی اور شخصیت پرستی سے محفوظ رکھا۔
اہلِ بیتِ عصمت و طہارتؑ سے آپ کی بے مثال عقیدت بھی آپ کی تواضع کا روشن مظہر تھی۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب امیرالمؤمنین حضرت علیؑ یا حضرت ولیِ عصرؑ کے اسمِ مبارک کے ساتھ ان کا نام لیا جاتا ہے تو میرا جسم لرز اٹھتا ہے، کیونکہ معصومینؑ نورِ مطلق ہیں، جبکہ ہم سراپا ضعف و نقص ہیں۔ آپ یہاں تک فرماتے تھے کہ ہم نہ حضرت علیؑ کے وفادار غلام قنبرؒ کے برابر ہیں اور نہ ہی کربلا میں امام حسینؑ پر جان قربان کرنے والے اس حبشی غلام کے غبارِ راہ کے برابر۔
رہبرِ شہید کی تواضع اور اخلاص کا سب سے بڑا عملی مظہر حضرت امام خمینیؒ کے وصال کے بعد سامنے آیا۔ جب مجلسِ خبرگان نے آپ کو منصبِ رہبری کے لیے منتخب کرنا چاہا تو آپ نے اس انتخاب کی محض رسمی مخالفت نہیں کی بلکہ نہایت سنجیدگی سے دلائل پیش کیے کہ اس عظیم ذمہ داری کے لیے کسی اور شخصیت کا انتخاب کیا جائے۔ بعد میں آپ نے فرمایا کہ اس وقت میرے دل میں جو کیفیت تھی، اسے خدا ہی جانتا ہے۔
شہید رہبر نے واضح فرمایا کہ اگر کوئی ایسا شخص موجود ہوتا جو اس عظیم ذمہ داری کو سنبھال سکتا اور امت بھی اس پر اعتماد کرتی، تو وہ ہرگز اس منصب کو قبول نہ کرتے۔ لیکن جب انہیں یقین ہو گیا کہ اگر وہ اس شرعی ذمہ داری کو قبول نہ کریں گے تو امت کا یہ عظیم بارِ امانت زمین پر رہ جائے گا، تب انہوں نے صرف احساسِ تکلیف اور حکمِ شرعی کی بنیاد پر اس ذمہ داری کو قبول کیا۔ آپ کے بقول: "اگر میں یہ بوجھ نہ اٹھاتا تو یہ بوجھ زمین پر رہ جاتا۔"یہ واقعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ رہبرِ شہید کے نزدیک قیادت اقتدار، شہرت یا ذاتی مقام حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھی، بلکہ ایک الٰہی امانت اور شرعی ذمہ داری تھی۔ اسی لیے آپ نے کبھی کسی منصب کی خواہش نہیں کی، بلکہ جہاں بھی دین، انقلاب اور امت کی مصلحت نے تقاضا کیا، وہاں اپنی ذاتی خواہشات کو قربان کر کے ذمہ داری قبول کی۔
اسی حقیقت کو رسولِ اکرم(ص) نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:«مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰهِ رَفَعَهُ اللّٰهُ»"جو شخص اللہ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے بلند مقام عطا فرماتا ہے۔"رہبرِ شہید کی زندگی اس حدیثِ نبویؐ کی زندہ تفسیر تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی عاجزی، اخلاص اور بے نفسی کے سبب انہیں نہ صرف ایران بلکہ عالمِ اسلام کے مؤثر ترین قائدین میں ممتاز مقام عطا فرمایا۔
رہبرِ شہید بارہا فرمایا کرتے تھے کہ اگر حضرت امام خمینیؒ انہیں کسی ثقافتی، علمی یا تبلیغی میدان میں خدمت کی ذمہ داری دیتے تو وہ اسی اطمینان کے ساتھ اسے قبول کرتے۔ آپ کے نزدیک اصل اہمیت منصب کی نہیں بلکہ اللہ کی رضا، شرعی فریضے کی ادائیگی اور انقلابِ اسلامی کی خدمت کی تھی۔
رہبرِ شہید کی پوری زندگی اس حقیقت کی آئینہ دار تھی کہ حقیقی عظمت اقتدار، شہرت یا ظاہری جاہ و جلال میں نہیں بلکہ اخلاص، تواضع، احساسِ بندگی اور ذمہ داری کے شعور میں پوشیدہ ہے۔ آپ جتنا بلند منصب پر فائز ہوتے گئے، اتنا ہی زیادہ اپنی عاجزی، خدا کے حضور جواب دہی اور خدمتِ خلق کے احساس میں اضافہ ہوتا گیا۔
رہبرِ شہید کی شخصیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اسلامی قیادت کی بنیاد اقتدار پسندی نہیں بلکہ تواضع، اخلاص، احساسِ تکلیف اور رضائے الٰہی کی طلب ہے۔ ایک حقیقی رہنما وہی ہوتا ہے جو منصب کا طالب نہیں بلکہ خدمت کا امین ہو، اور جب امت و دین اسے پکاریں تو اسے اعزاز نہیں بلکہ امانت سمجھ کر قبول کرے۔ یہی وہ عظیم وصف ہے جس نے شہید رہبر معظم سید علی خامنہای(رہ) کو عصرِ حاضر کی منفرد، مخلص اور تاریخ ساز شخصیات میں ممتاز مقام عطا کیا۔









آپ کا تبصرہ