اتوار 16 اگست 2026 - 13:18
رہبرِ انقلاب شہید سید علی خامنہ ای (رح) کی منفرد خصوصیات (قسط12)

حوزہ/ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں شہید رہبرِ معظم سید علی خامنہ‌ای(رح) کی بعض بے مثال اختصاصی خصوصیات ہیں جنہیں ہم ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اختصاصی خصوصیات سے مراد کسی شخصیت کی وہ منفرد خصوصیات ہیں جو تاریخ میں اسے ممتاز بناتی ہیں۔

ترتیب وترجمہ: ڈاکٹر محمد لطیف مطہری

حوزہ نیوز ایجنسی|

ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں شہید رہبرِ معظم سید علی خامنہ‌ای(رح) کی بعض بے مثال اختصاصی خصوصیات ہیں جنہیں ہم ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اختصاصی خصوصیات سے مراد کسی شخصیت کی وہ منفرد خصوصیات ہیں جو تاریخ میں اسے ممتاز بناتی ہیں۔

اس سلسلۂ تحریر میں ہم انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کی انہی منفرد خصوصیات کا جائزہ لیں گے؛ یعنی وہ غیرمعمولی صفات جو اس سرزمین کی حکمرانی کی تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتیں۔

بارہویں خصوصیت: شہادت طلبی، معنویت اور خدا پر کامل توکل

شہید رہبرِ معظم انقلاب سید علی خامنہ‌ای (رح) کی شخصیت کا ایک نمایاں اور کم نظیر پہلو یہ تھا کہ ان کی پوری زندگی شہادت کی آرزو، خدا سے گہرے تعلق، دعا، عبادت، توسل اور کامل توکل سے عبارت تھی۔ ان کی نظر میں قیادت صرف سیاسی تدبیر، عسکری مہارت یا انتظامی صلاحیت کا نام نہیں، بلکہ اس کی اصل بنیاد ایمان، اخلاص، بندگیِ خدا اور رضائے الٰہی کی طلب ہے۔ یہی معنوی بنیاد ان کی قیادت کو دیگر معاصر قائدین سے ممتاز کرتی ہے۔

شہید رہبرِ معظم انقلاب شہادت کو کسی حادثاتی موت کا نام نہیں دیتے تھے، بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت اور بندۂ مؤمن کے لیے سب سے بلند کامیابی قرار دیتے تھے۔ وہ نوجوانوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کرتے تھے:"اے جوانو! اے میرے بھائیو! شہادت تاجرانہ موت ہے، ہوشیار اور دانا انسان کی موت ہے۔"

ان کے نزدیک شہادت وہ عظیم سودا ہے جس میں انسان اپنی فانی زندگی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ فروخت کرکے ابدی سعادت خرید لیتا ہے۔ ظاہری اعتبار سے اگرچہ شہادت جدائی، غم اور مصیبت کا نام ہے، لیکن حقیقت میں یہ قربِ الٰہی، دائمی عزت اور رضوانِ خداوندی کی معراج ہے۔ اسی لیے وہ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ یہ عظیم انعام ہر ایک کو عطا نہیں کرتا، بلکہ صرف ان بندوں کو نصیب ہوتا ہے جو اخلاص کے ساتھ اس کی راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں۔

دفاعِ مقدس کے آغاز میں جب محاذِ جنگ کی طرف روانگی کا وقت آیا تو انہوں نے بغیر کسی تردد کے امام خمینیؒ سے اجازت حاصل کی اور میدانِ جہاد کا رخ کیا۔ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ گھر سے نکلتے وقت انہیں یقین تھا کہ شاید اب دوبارہ اپنے اہلِ خانہ کو نہ دیکھ سکیں۔ انہوں نے اپنے گھر، بچوں اور اہلِ خانہ کو آخری نگاہ سے دیکھا اور دل ہی دل میں ان سے رخصت ہو گئے۔ اس کیفیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شہادت ان کے لیے صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت تھی، جسے انہوں نے اپنی عملی زندگی میں اختیار کیا۔

شہید رہبرِ معظم انقلاب کی معنوی شخصیت کا دوسرا نمایاں پہلو دعا، عبادت اور ذکرِ الٰہی سے ان کی غیر معمولی وابستگی تھی۔ نوجوانی ہی سے وہ دعا، مناجات، نماز اور مستحب عبادات کے پابند تھے۔ عرفہ کے طویل اعمال، شب ہائے قدر کی عبادت، قرآنِ کریم کی تلاوت اور اہلِ بیتِ اطہارؑ سے توسل ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔ وہ اپنی والدۂ محترمہ کے ساتھ گھنٹوں کھلے آسمان تلے عبادت میں مشغول رہتے اور فرمایا کرتے تھے:"میری نوجوانی دعا، عبادت اور خدا سے اُنس کی نوجوانی تھی۔"

ان کی عبادت کسی خاص زمانے یا حالات تک محدود نہ تھی۔ سفر، اسیری، جنگ، سیاسی مصروفیات اور شدید ذمہ داریوں کے باوجود نماز، دعا اور تلاوتِ قرآن کبھی ان کی زندگی سے جدا نہ ہوئے۔ حتیٰ کہ ایک سفر کے دوران جب ٹرین میں نماز ادا کرنا ممکن نہ رہا تو انہوں نے نماز کی ادائیگی کے لیے اپنی جان کا خطرہ مول لینے میں بھی تردد محسوس نہیں کیا۔

دورانِ اسارت بھی ان کا یہی روحانی ذوق برقرار رہا۔ ماہِ رمضان کی راتیں ذکرِ الٰہی، دعا اور قرآن کی تلاوت میں گزرتیں، یہاں تک کہ شبِ عیدالفطر میں انہوں نے ہزار مرتبہ سورۂ توحید پر مشتمل معروف نماز ادا کی۔ یہ روحانی استقامت اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی شخصیت کی اصل قوت خدا سے تعلق میں پوشیدہ تھی۔

شہید رہبرِ معظم انقلاب دعا اور توسل کو کامیابی کا بنیادی ذریعہ سمجھتے تھے، لیکن وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ دعا، عمل کا متبادل نہیں بلکہ اس کی تکمیل ہے۔ وہ فرماتے تھے کہ میں کبھی ان لوگوں میں سے نہیں رہا جو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر صرف دعا پر اکتفا کریں، بلکہ میری روش ہمیشہ یہ رہی کہ پوری منصوبہ بندی، بھرپور کوشش اور تمام ظاہری اسباب اختیار کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کروں۔ ان کے نزدیک کامیابی کا راز یہی ہے کہ انسان عمل بھی کرے اور دعا بھی۔

اسی یقین کے ساتھ وہ اہلِ بیتِ اطہارؑ خصوصاً حضرت سیدالشہداء امام حسینؑ سے قلبی توسل رکھتے تھے۔ ایرانشہر میں شدید سیلاب کے موقع پر انہوں نے تربتِ امام حسینؑ سے توسل کا واقعہ نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس توسل کے بعد سیلاب کا زور کم ہو گیا۔ یہ واقعہ ان کے نزدیک توکل، توسل اور الٰہی امداد پر کامل یقین کا عملی مظہر تھا۔

شہید رہبرِ معظم انقلاب کی زندگی کا ہر مرحلہ اس حقیقت کا شاہد ہے کہ ان کی قیادت کی بنیاد صرف سیاسی بصیرت یا عسکری حکمتِ عملی پر قائم نہیں تھی، بلکہ ایمان، اخلاص، دعا، عبادت، توکل، توسل اور شہادت طلبی اس کا حقیقی سرچشمہ تھے۔ یہی روحانی اوصاف انہیں عصرِ حاضر کے ان نادر قائدین میں شامل کرتے ہیں جنہوں نے میدانِ سیاست، قیادت اور جہاد کو عرفان، بندگی اور رضائے الٰہی کے ساتھ ہم آہنگ کر کے ایک منفرد نمونہ پیش کیا۔بلاشبہ شہادت طلبی، عبادت گزاری، دعا سے گہرا تعلق، اہلِ بیتِ اطہارؑ سے توسل، خدا پر کامل توکل اور عمل کے ساتھ روحانیت کا حسین امتزاج شہید رہبرِ معظم انقلاب شہید سید علی خامنہ‌ای (رہ) کی ان منفرد خصوصیات میں شامل ہیں جنہوں نے ان کی شخصیت کو تاریخِ معاصر میں ایک بے مثال دینی، انقلابی اور تمدن ساز رہنما کے طور پر ہمیشہ کے لیے ممتاز کر دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha