حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کے سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام والمسلمین حمید شہریاری نے کہا ہے کہ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ اپنی علمی، اخلاقی، سماجی اور انتظامی خصوصیات کے باعث عالم اسلام کی مقبول ترین شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور ان کی شہادت نے ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ کردیا۔
انہوں نے اسلامی وحدت کی 40ویں بین الاقوامی کانفرنس کی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کانفرنس ایسی عظیم شخصیت کی عدم موجودگی میں منعقد ہورہی ہے۔ ان کے مطابق شہید آیت اللہ خامنہ ایؒ کی شخصیت میں ایسی متعدد نمایاں خصوصیات جمع تھیں جن کی مثال تاریخ اسلام میں کم ملتی ہے۔
حجۃالاسلام شہریاری نے زہد اور دنیاوی منصب سے بے رغبتی کو شہید رہنما کی اہم خصوصیات میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ قیادت کی ذمہ داری ملنے کے وقت بھی ان کے چہرے سے اس بھاری ذمہ داری کا احساس نمایاں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا دینی علم صرف نظری اور متنی علوم تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ اسے عملی میدان، تاریخ اور معاشرتی حالات کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے تھے۔
مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ شہید آیت اللہ خامنہ ایؒ کو معاصر دنیا اور عالمی حالات کا گہرا ادراک تھا اور وہ مستقبل کے کئی رجحانات کا درست اندازہ لگاتے تھے۔ اس کے ساتھ وہ میدان میں رہ کر مسائل کا جائزہ لینے اور دوسروں کو بھی عملی تجربہ کرنے کا موقع دینے پر یقین رکھتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ شہید رہبر کا عوام سے گہرا تعلق تھا اور وہ اپنے حامیوں کے ساتھ ساتھ مخالفین کے ساتھ بھی پدرانہ اور محبت آمیز رویہ رکھتے تھے۔ حتیٰ کہ جو لوگ ان پر تنقید یا توہین کرتے تھے، ان کے ساتھ بھی انہوں نے انتقام کا رویہ اختیار نہیں کیا۔
حجۃالاسلام شہریاری کے مطابق شہادت نے ان کی شخصیت کو مزید مقبول بنایا اور ان کی شہادت کے بعد مختلف طبقات میں ایک نئی بیداری پیدا ہوئی۔ ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں ہونے والے شاندار اور لاکھوں افراد پر مشتمل تشییع جنازہ اس عوامی مقبولیت کا مظہر تھی۔
انہوں نے کہا کہ شہید آیت اللہ خامنہ ایؒ کی زندگی میں علم، زہد، عوام دوستی، دور اندیشی، میدان میں موجودگی اور امت سے گہرا تعلق نمایاں تھا اور ان کی شہادت نے ان تمام خصوصیات کو مزید نمایاں کردیا۔









آپ کا تبصرہ