حوزہ نیوز ایجنسی: رہبرِ شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ایؒ سے ملاقات ہمیشہ بے شمار افراد کا ایک دیرینہ خواب رہی ہے۔ یہ صرف ایک دینی و سیاسی رہنما سے ملاقات نہ تھی، بلکہ ایسے عظیم امام سے شرفِ ملاقات تھی جو قیادت، تقویٰ، فقاہت اور اجتہاد میں اپنی مثال آپ تھے؛ جیسا کہ سیدِ شہید سید حسن نصر اللہؒ ان کی شخصیت کو بیان کیا کرتے تھے۔
بہت سے لوگوں نے اگرچہ فاصلے کی وجہ سے رہبرِ شہید کو قریب سے نہیں دیکھا، لیکن ان کے خطابات، بیانات اور فکری رہنمائی کے ذریعے ان سے گہرا تعلق قائم کیا۔ اسی فکری وابستگی نے ان کے ذہنوں میں ایسی بے مثال قیادت کا نقش چھوڑا، جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔
اسی تناظر میں لبنان کے سابق ڈائریکٹر جنرل برائے پبلک سکیورٹی، میجر جنرل عباس ابراہیم نے پوڈکاسٹ "علی العہد" میں رہبرِ شہید سے اپنی یادگار ملاقات کی تفصیلات بیان کیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ سیدِ شہید حسن نصر اللہؒ سے ملاقات کے دوران انہوں نے عرض کیا کہ انہیں ایران جانے کی دعوت ملی ہے۔ پوچھا کہ اگر ایران سے کوئی چیز منگوانی ہو تو فرمائیں۔ اس پر سید حسن نصر اللہؒ نے مسکرا کر پوچھا: تم خود کیا چاہتے ہو؟عباس ابراہیم نے جواب دیا: میری آرزو ہے کہ حضرت سید قائد امام سید علی خامنہ ایؒ کی زیارت نصیب ہو۔ سیدِ شہید نے فرمایا:ان شاء اللہ خیر ہوگی۔
چند ہی دن بعد وہ تہران میں ایرانی وزیرِ اطلاعات کے ساتھ ایک سرکاری اجلاس میں شریک تھے کہ اچانک اجلاس مختصر کر دیا گیا۔ وزیر نے معذرت کرتے ہوئے کہا: "اجلاس ختم کرنا ہوگا۔" پھر انہیں گاڑی تک چھوڑتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا: "کاش ہم بھی آپ کے ساتھ جا سکتے۔" اسی لمحے عباس ابراہیم کو احساس ہوا کہ انہیں کسی غیر معمولی مقام پر لے جایا جا رہا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ملاقات کے مقام پر ان کے ہمراہ علی شمخانی اور غلام علی حداد عادل بھی موجود تھے۔ چند لمحوں بعد رہبرِ شہید تشریف لائے، سلام کیا اور لبنان کی صورتِ حال پر گفتگو فرمائی۔ پھر اپنی گردن سے چفیہ اتار کر عباس ابراہیم کے گلے میں ڈالتے ہوئے فرمایا: فلسطین تمہاری گردن پر امانت ہے۔ میرا سلام سید تک پہنچانا، خوش آمدید۔
عباس ابراہیم کے مطابق، انہوں نے نمازِ ظہر بھی رہبرِ شہید کی اقتدا میں ادا کی، پھر رخصت ہوئے۔ اگرچہ یہ ان کی پہلی اور آخری ملاقات تھی، لیکن اس کے روحانی اور فکری اثرات آج تک ان کے دل میں زندہ ہیں، خصوصاً وہ پیغام کہ فلسطین پوری امت کی امانت اور مشترکہ ذمہ داری ہے۔
یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر واضح کرتا ہے کہ رہبرِ شہید کی فکر میں فلسطین محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کی دینی ذمہ داری اور ظلم و استعمار کے خلاف مسلسل جدوجہد کا مرکزی عنوان تھا۔ اسی لیے وہ ہر ملاقات اور ہر موقع پر فلسطین اور مقاومت کی حمایت کی تلقین فرماتے تھے، تاکہ امت اس بنیادی ذمہ داری کو کبھی فراموش نہ کرے۔









آپ کا تبصرہ