حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی نے رہبرِ شہید انقلاب اسلامی کے پیکرِ مطہر کی تشییع میں شرکت کرنے والے زائرین سے ملاقات کے دوران کہا کہ آج بھی بہت سے لوگ اس عظیم شخصیت کی حقیقی عظمت سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ رہبرِ شہید کو 1330 کی دہائی (شمسی) سے جانتے تھے اور ان کی پوری زندگی علم، تقویٰ، جدوجہد اور بے مثال خدمات سے عبارت تھی۔
انہوں نے رہبرِ شہید ایران کی تشییع اور وداعی تقریبات میں عوام کی غیر معمولی شرکت کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند روز کے دوران دنیا بھر نے اس عظیم عوامی اجتماع کو حیرت سے دیکھا اور امید ہے کہ آئندہ دنوں میں بھی عوامی جوش و خروش میں مزید اضافہ ہوگا۔
مرجع تقلید نے کہا کہ دشمنوں کو یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ تشییع میں شریک ہونے والا یہ عظیم اجتماع رہبرِ شہید سے عقیدت رکھنے والوں کا صرف ایک حصہ ہے، کیونکہ اس مردِ الٰہی کے چاہنے والے پوری دنیا میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد استکباری فکر، ظلم اور ان جرائم کے خلاف ہے جن کی نمائندگی امریکہ اور صہیونی حکومت کر رہے ہیں، اور ایرانی قوم کبھی بھی ظلم کے سامنے سر نہیں جھکائے گی، کیونکہ اسلامی تعلیمات ظالم کے ساتھ سمجھوتے کی اجازت نہیں دیتیں۔
آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی نے اس جرم کے ذمہ دار عناصر کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ شہید کی شہادت کے مجرموں کا قصاص یقینی ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر ملکی ذمہ داران کو نصیحت کی کہ وہ عوام کی قدر کریں، قومی اتحاد و یکجہتی کو مضبوط بنائیں، ملک کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں اور ولایتِ فقیہ کے نظام کی حفاظت کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھیں، کیونکہ دشمن کا پہلا ہدف اسی بنیاد کو کمزور کرنا ہے۔









آپ کا تبصرہ