تحریر: مولانا عادل حسن امینی
حوزہ نیوز ایجنسی|
اگست کا مہینہ ملت جعفریہ پاکستان کے لیے صرف ایک عام مہینہ نہیں، بلکہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اس ملت کی متعدد علمی، دینی اور سماجی شخصیات کے نام اور یادیں تاریخ سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس مہینے میں تین عظیم شخصیات کی یاد خاص طور پر تازہ ہوتی ہے: خطیب اعظم قائد ملت جعفریہ سید محمد دہلوی کی وفات ۲۰ اگست کو، قائد ملت جعفریہ علامہ مفتی جعفر حسین کی وفات ۲۹ اگست کو اور قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی کی شہادت ۵ اگست کو ہوئی۔ یہ تاریخی اتفاق ہمارے لیے ایک قیمتی موقع ہے کہ ہم ان کی یاد کو صرف سالانہ تقریبات تک محدود نہ رکھیں، بلکہ ان کی تاریخ، فکر، خدمات، جدوجہد اور علمی و سماجی ورثے کو نوجوان نسل تک پہنچائیں۔
پاکستان کی معاصر شیعہ تاریخ میں علامہ مفتی جعفر حسین کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ وہ ایک بڑے عالم، خطیب، مصنف اور پاکستانی شیعوں کے رہنما تھے۔ سنہ ۱۹۷۹ء میں انہیں قائد ملت جعفریہ پاکستان منتخب کیا گیا۔ ان کی قیادت اس وقت وجود میں آئی جب پاکستانی شیعہ برادری مذہبی شناخت، دینی حقوق، تعلیم، احکام کے نفاذ اور سماجی موجودگی جیسے اہم مسائل کا سامنا کر رہی تھی۔ علامہ مفتی جعفر حسین نے قیادت سنبھال کر جعفریہ ملت کے مطالبات کو ایک منظم اور قومی سطح پر آگے بڑھایا۔ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور شیعوں کے مذہبی حقوق کے دفاع میں ان کی کوششیں پاکستان کی جعفریہ ملت کی تاریخ کا اہم باب ہیں۔
مفتی جعفر حسین، فرزند چراغ دین، سنہ ۱۳۳۲ ہجری (۱۹۱۴ء) میں شہر گوجرانوالہ، صوبہ پنجاب، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے احکام و حدیث کی تعلیم حاصل کی اور بارہ سال کی عمر میں فقہ، طب اور عربی زبان سیکھنا شروع کر دی۔ سنہ ۱۹۲۶ء میں مفتی صاحب ہندوستان کے شہر لکھنؤ میں مدرسہ ناظمیہ تشریف لے گئے اور وہاں سید علی نقی، ظہیر الحسن اور مفتی احمد علی کے دروس میں شریک ہوئے۔ لکھنؤ میں ہی اردو و عربی زبان و ادب سیکھا، انجمن مقاصدہ کی صدارت سنبھالی اور مزید تعلیم کے لیے سنہ ۱۹۳۵ء میں نجف اشرف کا سفر کیا۔ پانچ سال تک وہاں شیعہ مراجع تقلید، خاص طور پر سید ابوالحسن اصفہانی، سے استفادہ کیا۔ پاکستان واپسی پر آپ "مفتی" کے خطاب سے مشہور ہوئے۔ آپ کو سادہ زندگی اور متواضع شخصیت کا مالک بتایا گیا ہے۔
مفتی جعفر حسین نے ۱۲ اپریل ۱۹۷۹ء کو "تحریک نفاذ فقہ جعفریہ" کی بنیاد رکھی، جو پاکستان کی پہلی شیعہ سیاسی جماعت مانی جاتی ہے، اور اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ سنہ ۱۹۴۹ء میں جب پاکستان کا آئین مرتب ہو رہا تھا، مفتی صاحب اسلامی تعلیمات کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے اور ۱۹۵۱ء میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کے ہمراہ ایک مسودہ تیار کیا۔ ایوب خان اور یحییٰ خان کی صدارت کے دوران اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن رہے۔ ضیاء الحق کے دور میں اس کا نام "شورائے نظریات اسلامی" رکھا گیا اور ایک بار پھر شیعیانِ پاکستان کی نمائندگی کے لیے منتخب ہوئے، مگر شیعیان کے مطالبات منظور نہ ہونے پر احتجاجاً مستعفی ہو گئے۔ سنہ ۱۹۵۲ء میں کراچی میں دیگر علماء کے ہمراہ "انجمن آل مسلمین پاکستان" قائم کی، جو قادیانی فرقے کے خلاف کام کرتی تھی۔
مفتی جعفر حسین ان پانچ نمائندوں میں شامل تھے جنہیں شیعیان نے جنرل ایوب خان کے دور میں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے منتخب کیا۔ ان کا اہم مطالبہ شیعیان کے لیے علیحدہ نصابی کتب تھا، جو سنہ ۱۹۶۸ء میں منظور کر لیا گیا۔ سنہ ۱۹۸۰ء میں جب پاکستانی پارلیمنٹ میں زکوٰۃ کا بل پیش کیا گیا جس کے تحت سب کو اہل سنت کے فقہ کے مطابق زکوٰۃ دینا تھی، مفتی صاحب نے شیعیان کو اسلام آباد میں جمع ہونے کی دعوت دی۔ اس اجتماع میں نہ صرف زکوٰۃ بل کی مخالفت کی گئی بلکہ آزادانہ عزاداری، شیعہ طلبہ کے لیے علیحدہ نصاب، کتب سے ناگوار مواد کا حذف، اور شیعہ اوقاف کے لیے علیحدہ کمیٹی کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ اجتماع ۵ جولائی ۱۹۸۰ء کو ہوا اور شیعوں کا پارلیمنٹ کی طرف مارچ نکلا۔ اس احتجاج کے نتیجے میں صدرِ وقت نے مطالبات مان لیے اور ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جو بعد میں "معاہدۂ اسلام آباد" کہلایا۔
مفتی جعفر حسین نے گوجرانوالہ میں ایک دینی مدرسہ "جامعہ جعفریہ" قائم کیا اور آخر وقت تک وہاں تدریس جاری رکھی۔ ان کی علمی تصانیف میں ترجمہ نہج البلاغہ اور صحیفہ سجادیہ (اردو)، منظوم ترجمہ دیوانِ امیر المؤمنین (اردو)، اور تصنیف "سیرت امیر المؤمنین" شامل ہیں۔ مفتی جعفر حسین سنہ ۱۹۸۳ء میں بیماری کی وجہ سے ۲۹ اگست کو وفات پا گئے اور لاہور میں دفن ہوئے۔
یوم وفات پر اس عظیم رہنما کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ہم سب کو عہد کرنا چاہیے کہ ان کی فکر اور خدمات کو فروغ دیں گے اور ملت جعفریہ کے حقوق کے لیے ان کی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو نور سے منور فرمائے اور ان کے نقشِ قدم پر ہمیں چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین









آپ کا تبصرہ