پیر 7 ستمبر 2026 - 12:40
سرینگر میں آغا سید یوسفؒ کی 44 ویں برسی پر تجلیلی پروگرام کا انعقاد

حوزہ/انجمنِ شرعی شیعیان کے بانی، آیت اللہ آغا سید یوسف موسویؒ کی 44ویں برسی کے موقع پر حسن آباد، سری نگر میں، تبیان قرآنک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں ایک یادگار پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر منعقدہ پینل ڈسکشن میں ممتاز علمائے دین، دانشوروں، صحافیوں اور محققین نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انجمنِ شرعی شیعیان کے بانی، آیت اللہ آغا سید یوسف موسویؒ کی 44ویں برسی کے موقع پر حسن آباد، سری نگر میں، تبیان قرآنک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں ایک یادگار پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر منعقدہ پینل ڈسکشن میں ممتاز علمائے دین، دانشوروں، صحافیوں اور محققین نے شرکت کی۔

سرینگر میں آغا سید یوسفؒ کی 44 ویں برسی پر تجلیلی پروگرام کا انعقاد

یادگاری پروگرام میں آیت اللہ آغا سید یوسف موسویؒ کی زندگی، دینی و علمی خدمات، ادارہ جاتی کردار اور سماجی و سیاسی میراث پر تفصیلی گفتگو کی گئی، بالخصوص کشمیر کی شیعہ برادری کے درمیان دینی، عدالتی، سماجی اور تعلیمی اداروں کی تشکیل اور استحکام میں ان کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔

پینل ڈسکشن کا موضوع تھا:
"آیت اللہ آغا سید یوسف موسویؒ کا طاقت کے ڈھانچوں میں اصلاحی سفر: منصبِ قضا سے میدانِ سیاست تک"

اس نشست میں آغا سید یوسف موسویؒ کی اصلاحی فکر کے ارتقا اور کشمیر میں دینی و عدالتی اداروں کے قیام اور استحکام کے لیے ان کی کاوشوں کا جائزہ لیا گیا۔

پروگرام میں ڈاکٹر منظور احمد تھوکر، آغا سید مظفر رضوی، صحافی ارشاد حسین اور سماجی کارکن حکیم سہیل عباس نے بطور مقرر شرکت کی اور آغا سید یوسف موسویؒ کی شخصیت اور خدمات کے مختلف پہلوؤں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

پروگرام کا آغاز بین الاقوامی شہرت یافتہ قاریِ قرآن اعجاز حسین صوفی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔

سرینگر میں آغا سید یوسفؒ کی 44 ویں برسی پر تجلیلی پروگرام کا انعقاد

ڈاکٹر منظور احمد تھوکر نے انجمنِ شرعی شیعیان کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کے ادارہ جاتی ارتقا کا ذکر کیا اور مذہبی، سماجی اور اجتماعی امور کے حل میں انجمن کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے نچلی سطح پر موجود خلا اور درپیش چیلنجز کی جانب بھی توجہ مبذول کروائی اور اس بات پر زور دیا کہ انجمن کے دائرۂ کار اور ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ اس کے مقاصد کو معاشرے کی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں عملی جامہ پہنایا جاسکے۔

حجت الاسلام آغا سید مظفر حسین رضوی نے اپنے بے تکلف خطاب میں یاد کیا کہ وہ باب العلم مدرسے میں داخل ہوئے ہی تھے اور ابھی صرف ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزرا تھا کہ آیت اللہ آغا سید یوسف موسویؒ کا انتقال ہوگیا۔

انہوں نے آغا صاحب کی عظیم علمی میراث پر روشنی ڈالتے ہوئے خصوصاً ان کتابوں کا ذکر کیا جو انہوں نے اپنے دستِ مبارک سے تحریر فرمائیں، جن میں "ایقاظ العباد" کو ایک شاہکار قرار دیا۔

سرینگر میں آغا سید یوسفؒ کی 44 ویں برسی پر تجلیلی پروگرام کا انعقاد

آغا سید مظفر حسین رضوی نے یہ بھی یاد دلایا کہ تقریباً سات دہائیاں قبل آیت اللہ آغا سید یوسف موسویؒ نے ماہنامہ "الرشاد" جاری کیا تھا، جس میں دنیا بھر کے ممتاز علماء اور اہلِ علم کے مضامین اور تحریریں شائع ہوتی تھیں۔

اپنے خراجِ عقیدت کے اختتام پر آغا سید مظفر حسین رضوی نے مرحوم آغا صاحب کو تقویٰ، پرہیزگاری اور زہد و تقویٰ کا عملی نمونہ قرار دیا اور ان کی انتہائی سادہ، زاہدانہ اور عبادت گزار زندگی کے کئی معروف واقعات بھی بیان کیے، جو ان کے روحانی مقام، اخلاص اور اللہ تعالیٰ سے غیر معمولی وابستگی کی عکاسی کرتے ہیں۔

صحافی ارشاد حسین نے آغا سید یوسف موسویؒ کی سیاسی، سماجی اور معاشی خدمات پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے آغا صاحب کی ہمہ جہت خدمات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آغا سید یوسف موسویؒ کی علمی و ادبی خدمات کو صرف تاریخ کے صفحات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان کی شخصیت اور کردار کو ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے بھی محفوظ اور عام کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جانا چاہیے، تاکہ جنریشن زی (Gen Z) کو اس عظیم شخصیت اور ان کی غیر معمولی خدمات سے بھرپور طور پر متعارف کروایا جاسکے۔

سرینگر میں آغا سید یوسفؒ کی 44 ویں برسی پر تجلیلی پروگرام کا انعقاد

ارشاد حسین نے خصوصی طور پر آیت اللہ آغا سید یوسف موسویؒ کے کشمیر میں شرعی عدالتوں کے قیام اور ان کے مؤثر انتظام و انصرام میں کردار کو اجاگر کیا اور اسے کشمیر کی شیعہ برادری کی مذہبی و عدالتی زندگی میں ایک اہم ادارہ جاتی پیش رفت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ "ولایتِ فقیہ" کا تصور کشمیر میں آغا سید یوسف موسویؒ کی کوششوں اور اثر و رسوخ کے ذریعے متعارف ہوا، جبکہ ان کی فکری اور مذہبی سرگرمیوں کے اثرات محض مذہبی و الٰہیاتی معاملات تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے وسیع سماجی اور سیاسی مضمرات بھی تھے۔

حکیم سہیل عباس، جو سری نگر سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن ہیں، نے کہا کہ آغا سید یوسف موسویؒ کی علمی بصیرت، قائدانہ صلاحیتیں، اصلاحی طرزِ فکر اور معاشرے کو مضبوط بنانے کی کوششیں، بالخصوص باب العلم جیسے دینی ادارے کا قیام، ان کی غیر معمولی خدمات کا ثبوت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آغا سید یوسف موسویؒ کی میراث آج بھی تحقیق اور علمی مباحث کے لیے ایک اہم موضوع ہے، بالخصوص مذہب، فقہ، سماجی اصلاح اور کشمیر میں سیاسی فکر کے تناظر میں۔

سہیل عباس نے مزید کہا کہ آغا صاحب کی قائم کردہ دینی درسگاہوں اور اداروں کو جدید ٹیکنالوجی پر مبنی بنیادی ڈھانچے سے بھی آراستہ کیا جانا چاہیے، تاکہ یہ ادارے عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر نئی نسل کی بہتر رہنمائی کرسکیں۔

سرینگر میں آغا سید یوسفؒ کی 44 ویں برسی پر تجلیلی پروگرام کا انعقاد

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ آیت اللہ آغا سید یوسف موسویؒ کی زندگی اور علمی و سماجی خدمات کو محفوظ کرنے کے لیے باقاعدہ تحقیقی کام، آرکائیول ریکارڈ، دستاویزی مواد اور زبانی تاریخ (Oral History) کو مرتب کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ان کی میراث آنے والی نسلوں تک مستند انداز میں منتقل ہوسکے۔

پروگرام میں علمائے دین، دانشوروں، صحافیوں، محققین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور آیت اللہ آغا سید یوسف موسویؒ کی خدمات کی موجودہ دور میں معنویت اور افادیت کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا۔

پروگرام کے اختتام پر آغا سید عابد حسینی نے کلماتِ تشکر پیش کیے اور تمام علمائے کرام، دانشوروں، صحافیوں، مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس یادگاری پروگرام میں شرکت کرکے آغا سید یوسف موسویؒ کی علمی، دینی، سماجی اور اصلاحی میراث پر ہونے والی اس اہم نشست کو بامعنی بنایا۔

سرینگر میں آغا سید یوسفؒ کی 44 ویں برسی پر تجلیلی پروگرام کا انعقاد

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha