منگل 1 ستمبر 2026 - 05:00
امتِ مسلمہ کے مسائل و مشکلات کی جڑ "فرقہ واریت" ہے

حوزہ / حجت الاسلام والمسلمین نواب نے کہا: فرقہ واریت تمام مصائب کی جڑ اور امتِ مسلمہ کے مسائل کی بنیاد ہے، اس مسئلے کا حل اتحاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استعمار اور استکبار مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو زندہ رکھنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں کرتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے ادیان و مذاہب یونیورسٹی کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین سید ابوالحسن نواب نے کہا: امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے اتحاد کے لیے مضبوط بنیادیں قائم کیں، تاہم ہمیں امت کے شہید قائد، شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کو بھی یاد کرنا چاہیے، جنہوں نے درحقیقت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی قائم کردہ بنیاد پر ایک شاندار معماری انجام دی۔

انہوں نے مزید کہا: رہبر شہید (رہ) تاریخِ عالمِ اسلام میں امتِ مسلمہ کے اتحاد کے عظیم ترین بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگر میں ایک لفظ میں کہنا چاہوں تو تاریخِ اسلام میں ان کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

حجت الاسلام والمسلمین نواب نے کہا: گزشتہ 14 صدیوں کے دوران ہمارے پاس کوئی ایسا مرجع تقلید، عالم، دانشور یا مفکر نہیں ملتا جس نے صراحت کے ساتھ کہا ہو کہ "اہل سنت کی مقدسات کی توہین شرعی طور پر حرام اور قانونی طور پر خلاف ورزی ہے"۔ لیکن انہوں نے 22 خرداد 1388 ہجری شمسی کو سنندج کے میدانِ آزادی میں اس موضوع کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ "وہ اہل سنت کی مقدسات کی توہین کی اجازت نہیں دیں گے"۔ یہ بات تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہوگئی۔

ادیان و مذاہب یونیورسٹی کے سربراہ نے اسلامی مذاہب کے درمیان تقریب کے پس منظر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: مذاہب کے درمیان تقریب کا موضوع صرف جمہوریہ اسلامی ایران تک محدود نہیں ہے۔ گزشتہ 14 صدیوں کے دوران دشمن کی کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تعلقات کو اس طرح خراب کر دیا جائے کہ ان کی اصلاح ممکن نہ رہے۔

انہوں نے مزید کہا: اس صورتِ حال کے مقابلے میں شیعہ علما جیسے شیخ طوسی، شیخ مفید، سید رضی، سید مرتضیٰ اور دیگر بزرگ علما و دانشوروں سے لے کر آیت اللہ العظمیٰ بروجردی تک نے ہمیشہ ان تعلقات کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین نواب نے مزید کہا: دشمن مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے سے روکنے کے لیے ایک لمحے کے لیے بھی اپنی کوششیں ترک نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر مسلمان ایک دوسرے کے قریب آگئے اور امتِ مسلمہ تشکیل پاگئی تو مشترکہ اسلامی منڈی، مشترکہ اسلامی فوج اور مشترکہ اسلامی طاقت بھی وجود میں آئے گی اور عالمِ اسلام کے بہت سے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha