جمعہ 28 اگست 2026 - 17:00
وحدت محض نعرہ نہیں، امتِ اسلامی کی طاقت کا سرچشمہ ہے: ملک معتصم خان

حوزہ/ نائب امیر جماعتِ اسلامی ہند ملک معتصم خان نے چالیسویں بین الاقوامی وحدتِ اسلامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کے اتحاد کو عصرِ حاضر کی اہم ضرورت قرار دیا اور کہا کہ وحدت محض ایک نعرہ نہیں بلکہ امتِ اسلامی کی طاقت کا سرچشمہ ہے، جبکہ مسئلۂ فلسطین مسلمانوں کے اتحاد اور مشترکہ ذمہ داری کے اظہار کا اہم ترین میدان ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نائب امیر جماعتِ اسلامی ہند ملک معتصم خان نے چالیسویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کے افتتاحی سیشن کے دوسرے پینل میں عالم اسلام کے موجودہ حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اس سال جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے حالات میں منایا جا رہا ہے جب آپ کے ایک اہم پیروکار کو شہید کر دیا گیا ہے اور دنیا میں نئی قوتیں ابھر رہی ہیں اور مختلف شعبوں میں وسیع تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا: ایسے حالات میں، رہبر شہید نے ہمیں سکھایا ہے کہ ہمیں وحدت اور امت اسلامی کے تصور پر توجہ دینی چاہیے اور جو اقوام آزادی اور استقلال کے خواہاں ہیں، انہیں وحدت کی راہ پر چلنا چاہیے۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے قرآن کریم کی تعلیمات کا استناد کرتے ہوئے کہا: ہم سب کو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے اور متفرق نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ تفرقہ کے نتائج میں سے ایک اختلاف اور مسلمانوں کی کمزوری ہے۔ اس لیے ہمیں خود کو مضبوط کرنا چاہیے اور جاننا چاہیے کہ وحدت صرف ایک مطلوبہ کیفیت اور نعرہ نہیں ہے، بلکہ یہ امت اسلامی کی طاقت کا سرچشمہ ہے۔

انہوں نے کہا: یہ اصول امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے زیر تاکید بنیادی اصولوں میں سے ایک تھا۔ وہ ہمیشہ مسلمانوں کے اتحاد اور خاص طور پر شیعہ و اہل سنت کے درمیان اختلافات کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے تھے اور یہ بنیادی سوال اٹھاتے تھے کہ مذہبی اختلافات کو صحیح طریقے سے کیسے دور کیا جا سکتا ہے۔

ملک معتصم خان نے کہا: ہم مختلف مذہبی تفاسیر اور شناختوں کو ختم نہیں کرنا چاہتے، بلکہ ہمیں اختلافات کو اخلاقیات، باہمی احترام اور مشترکہ ذمہ داریوں کو قبول کرنے کے ساتھ منظم کرنا چاہیے۔ مسلمانوں کو عالم اسلام کے مسائل کے سلسلے میں اپنی مشترکہ ذمہ داری کو تسلیم کرنا چاہیے۔

انہوں نے فلسطین کے مسئلے کو امت اسلامی کے اتحاد کے حصول کے اہم ترین میدانوں میں شمار کیا اور کہا: فلسطین کا آرمان ایک جغرافیائی سیاسی مسئلے سے آگے ہے، کیونکہ ہم امت اسلامی کا حصہ ہیں۔ مسجد اقصیٰ ایک اسلامی حرم ہے اور فلسطینی عوام کے حقوق کا دفاع مسلمانوں کے اتحاد اور ہمبستگی کا مرکز ہو سکتا ہے۔

ہندوستان کی جماعت اسلامی کے نائب امیر نے کہا: نیل سے فرات تک، مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے ساتھ اقوام اور مسلمان رہتے ہیں، لیکن ان کی ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ فلسطین کے مسئلے نے ظاہر کیا ہے کہ امت اسلامی کا اتحاد جغرافیائی سرحدوں سے آگے ہے۔

انہوں نے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے ادیان کے درمیان تعامل کے بارے میں فکر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی فکر کے ایک اور پہلوؤں میں مختلف ادیان کے پیروکاروں کے درمیان رابطے اور تعاون کا زمینہ فراہم کرنا تھا۔ تعاون کے لیے ضروری نہیں ہے کہ ہم سب ایک جیسے ہوں، ہم مختلف شناختیں رکھ سکتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ متحد بھی ہو سکتے ہیں اور مشترکہ اہداف کے لیے تعاون کر سکتے ہیں۔

ملک معتصم خان نے کہا کہ عالم اسلام ایک حساس دور سے گزر رہا ہے، اور کہا: جب تک ہم تفرقہ کا شکار رہیں گے، کمزور رہیں گے اور عالم اسلام کے نوجوانوں کی توانائی اور صلاحیت بیکار مسابقتوں اور اختلافات میں ضائع ہو سکتی ہے۔

انہوں نے آخر میں کہا: ہمیں ایک بار پھر قرآن کریم کی طرف رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ وحدت ایک ساتھ رہنے اور ترقی کرنے کی بنیادی شرط ہے۔ ہمیں ایک دوسرے پر ایمان رکھنا چاہیے، بغیر ایک دوسرے کو ملامت کیے، اور امید ہے کہ اللہ ہمیں تفرقہ سے دور رکھے اور عدل و صلح کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ اور برابر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha