حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نئی دہلی/ نئی دہلی کے ایران کلچر ہاؤس میں آج ینگ مسلم 360° (Young Muslim 360°) کے عنوان سے ایک اہم، جامع اور فکر انگیز ایک روزہ علمی و تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات، علمی و مذہبی شخصیات، دانشوروں، محققین اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں سے وابستہ افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

اس منفرد پروگرام کا اہتمام دفترِ نمائندگی رہبری، ہندوستان کی معاونتِ آموزش کی جانب سے کیا گیا تھا۔ پروگرام کا بنیادی مقصد نئی نسل کو عصرِ حاضر کے فکری، اعتقادی، اخلاقی، سماجی اور ڈیجیٹل چیلنجوں سے روشناس کرانا اور اسلامی تعلیمات، عقلی استدلال اور جدید علمی مباحث کی روشنی میں ان کے لیے ایک مثبت، متوازن اور عملی لائحۂ عمل پیش کرنا تھا۔
یہ پروگرام محض ایک روایتی مذہبی اجتماع یا علمی سیمینار نہیں تھا، بلکہ نوجوان نسل کی ہمہ جہت شخصیت سازی، فکری خودمختاری، اخلاقی استحکام، سماجی ذمہ داری اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے ایک منظم تعلیمی و تربیتی اقدام تھا۔

علمی کاوش اور ایک نئے تعلیمی تصور کی تشکیل
ینگ مسلم 360° کا بنیادی تصور، علمی خاکہ اور تربیتی حکمتِ عملی دفترِ نمائندگی رہبری کے معاونِ آموزش، ڈاکٹر سید محمد علی عون نقوی کی فکری کاوشوں اور تعلیمی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔
ڈاکٹر عون نقوی، جو جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے استاد، محقق اور متعدد علمی کتابوں کے مصنف ہیں، ایک عرصے سے اس ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں کہ حوزہ ہائے علمیہ اور جدید یونیورسٹیوں کے درمیان علمی، فکری اور تعلیمی روابط کو مضبوط بنایا جائے۔
ان کے نزدیک موجودہ دور میں نوجوان نسل کو درپیش مسائل کا مؤثر حل صرف روایتی مذہبی تعلیم یا محض جدید عصری علوم میں تلاش نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے دونوں علمی روایتوں کے درمیان بامعنی مکالمہ، باہمی استفادہ اور مربوط تربیتی نظام کی ضرورت ہے۔
اسی فکر کے تحت ینگ مسلم 360° کو ایک ایسے تعلیمی و تربیتی پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو حوزۂ علمیہ اور یونیورسٹی کے درمیان ایک علمی و فکری پل (Intellectual Bridge) کا کردار ادا کر سکے۔
اس منصوبے کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اسلامی معارف کو محض نظری اور تاریخی مباحث تک محدود رکھنے کے بجائے نوجوانوں کی عملی زندگی، تعلیمی ترجیحات، پیشہ ورانہ مستقبل، معاشرتی تعلقات اور ڈیجیٹل دنیا کے مسائل سے مربوط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ اقدام اس تصور کو بھی تقویت دیتا ہے کہ دینی اور عصری تعلیم ایک دوسرے کی حریف نہیں، بلکہ انسانی شخصیت کی متوازن تشکیل میں ایک دوسرے کی معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

ممتاز علمی، مذہبی اور سماجی شخصیات کی شرکت
ورکشاپ میں مختلف علمی، مذہبی، عدالتی، انتظامی اور پیشہ ورانہ شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات کی موجودگی نے پروگرام کو ایک ہمہ جہت علمی حیثیت عطا کی۔
شرکاء اور معزز مہمانوں میں خصوصاً درج ذیل شخصیات شامل تھیں: حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی ہندوستان میں رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے، مولانا سید ابوالقاسم رضوی چیئرمین شیعہ علماء کونسل آسٹریلیا و نیوزی لینڈ، جسٹس بدرالدجیٰ نقوی، ڈاکٹر ضیاء النیاء، سید جمال طٰہٰ، ریٹائرڈ ڈی آئی جی، سید معصوم رضا، ڈاکٹر سید محمد علی عون نقوی، معاونِ آموزش دفترِ نمائندگی رہبری اور ینگ مسلم 360° کے بانی و فکری منصوبہ ساز۔
ان شخصیات کی شرکت نے نوجوانوں کو دینی علوم، جدید تعلیم، قانون، انتظامیہ، اخلاقیات اور پیشہ ورانہ زندگی کے مختلف تجربات اور زاویوں سے استفادہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔

نوجوان نسل کے بنیادی سوالات کو مرکزیت
ینگ مسلم 360° کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ اس کا تعلیمی خاکہ نوجوانوں کی حقیقی ضروریات اور موجودہ دور کے بنیادی سوالات کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا تھا۔
آج کا نوجوان ایک ایسی دنیا میں زندگی گزار رہا ہے جہاں مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، عالمی ثقافتی تبدیلیاں، نظریاتی کشمکش اور معاشرتی دباؤ اس کی سوچ، شناخت، ترجیحات اور فیصلوں پر مسلسل اثرانداز ہو رہے ہیں۔
ایسے ماحول میں نوجوانوں کے سامنے چند بنیادی سوالات موجود ہیں: میں کون ہوں؟ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ کیا ایمان اور عقل میں ہم آہنگی ممکن ہے؟ کیا مذہب جدید سائنسی اور فکری سوالات کا جواب دے سکتا ہے؟ ڈیجیٹل دنیا میری شخصیت اور سوچ کو کس طرح متاثر کر رہی ہے؟ آزادی، محبت، دوستی اور انسانی وقار کے حقیقی معانی کیا ہیں؟ اور عملی زندگی میں اخلاقی اصولوں پر قائم کیسے رہا جا سکتا ہے؟
ورکشاپ کے مختلف موضوعات انہی سوالات کے گرد ترتیب دیے گئے تھے تاکہ نوجوان محض معلومات حاصل نہ کریں، بلکہ اپنے افکار، رویوں اور عملی زندگی کا تنقیدی جائزہ بھی لے سکیں۔

ایمان، عقل اور سائنس کے درمیان مکالمہ
ورکشاپ کے اہم علمی موضوعات میں ایمان، عقل، سائنس اور استدلال کے باہمی تعلق کو خصوصی اہمیت دی گئی۔
اس موضوع کے ذریعے اس بنیادی تصور کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی کہ اسلامی فکر میں عقل اور ایمان ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ حقیقت کی معرفت حاصل کرنے کے دو اہم اور باہم مربوط ذرائع ہیں۔
جدید نوجوان نسل کے لیے ضروری ہے کہ مذہبی عقائد کو محض موروثی شناخت کے طور پر قبول کرنے کے بجائے ان کے عقلی، فلسفیانہ اور علمی پہلوؤں کو بھی سمجھے۔
اس سلسلے میں قرآنی تعلیمات، اسلامی فلسفے اور اہلِ بیت علیہم السلام کی علمی روایت کو جدید فکری مباحث سے مربوط کرنے کا تصور ورکشاپ کے بنیادی مقاصد میں شامل تھا۔

ڈیجیٹل مسلم: نئی نسل کے لیے ایک نیا فکری تصور
ورکشاپ کا ایک نہایت اہم موضوع The Digital Muslim: Who Is Shaping My Mind? تھا، جس کا تعلق ڈیجیٹل عہد میں مسلم نوجوان کی شناخت، ذمہ داری اور فکری خودمختاری سے ہے۔
اس موضوع کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ موجودہ زمانے میں ایک باشعور مسلمان کے لیے صرف اپنی مذہبی شناخت کو برقرار رکھنا کافی نہیں، بلکہ اسے اس ڈیجیٹل ماحول کو بھی سمجھنا ہوگا جو اس کے خیالات، جذبات، ترجیحات اور سماجی رویوں کو تشکیل دے رہا ہے۔
سوشل میڈیا الگورتھمز، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل پروپیگنڈا، غلط معلومات اور توجہ پر مبنی آن لائن معیشت نے انسانی فکر و شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
اس تناظر میں ڈیجیٹل مسلم کا تصور ایک ایسے نوجوان کی تشکیل سے عبارت ہے جو ٹیکنالوجی کا محض صارف نہ ہو، بلکہ اس کے اثرات کو سمجھنے والا، معلومات کی تحقیق کرنے والا، اخلاقی اصولوں کی پابندی کرنے والا اور ڈیجیٹل وسائل کو علم، خدمت اور مثبت سماجی تبدیلی کے لیے استعمال کرنے والا ذمہ دار انسان ہو۔
یہ تصور جدید ٹیکنالوجی اور اسلامی اخلاقیات کے درمیان ایک مثبت اور تعمیری تعلق قائم کرنے کی کوشش ہے۔

آزادی، دوستی، محبت اور انسانی وقار
ورکشاپ کے دیگر اہم موضوعات میں آزادی، دوستی، محبت اور انسانی وقار جیسے بنیادی انسانی اور سماجی تصورات بھی شامل تھے۔
موجودہ دور میں نوجوانوں کے باہمی تعلقات، انفرادی آزادی، سماجی ذمہ داری اور اخلاقی فیصلے مختلف ثقافتی اور ڈیجیٹل اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں۔
ایسے حالات میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں آزادی اور ذمہ داری کے باہمی تعلق، دوستی کے اخلاقی معیارات، انسانی عزت و احترام اور صحت مند سماجی تعلقات کی اہمیت کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔
اس پروگرام کا ایک بنیادی مقصد نوجوانوں میں ایسی فکری صلاحیت پیدا کرنا تھا جس کی مدد سے وہ اپنی آزادی اور انفرادی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے معاشرتی ذمہ داریوں اور اخلاقی اقدار کا بھی احترام کر سکیں۔

کردار سازی، اخلاقیات اور پیغامِ کربلا
ینگ مسلم 360° میں اخلاقی تربیت اور کردار سازی کو بھی مرکزی اہمیت حاصل تھی۔
Character under Pressure: Akhlaq and Karbala کے عنوان سے مرتب موضوع کا بنیادی تصور یہ تھا کہ انسانی کردار کی حقیقی آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب انسان کو مشکلات، دباؤ، مفادات کے تصادم اور نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
واقعۂ کربلا کو محض ایک تاریخی سانحے کے بجائے حق گوئی، عدل، استقامت، انسانی وقار اور اخلاقی جرأت کے ایک زندہ نمونے کے طور پر سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اس تناظر میں نوجوانوں کو یہ فکری پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ اسلامی اخلاقیات صرف عبادات اور انفرادی نیکیوں تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے مشکل ترین فیصلوں میں بھی سچائی، انصاف اور اصول پسندی کا تقاضا کرتی ہیں۔

تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل کی رہنمائی
ورکشاپ کی ایک اہم جہت نوجوانوں کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل سے متعلق رہنمائی بھی تھی۔
معروف کیریئر کونسلر سید معصوم رضا کی شرکت اس بات کی عکاس تھی کہ پروگرام میں نوجوانوں کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کے عملی مستقبل کو بھی اہمیت دی گئی۔
تعلیمی شعبے کے انتخاب، پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی نشوونما، بدلتی ہوئی ملازمتوں کی دنیا، ٹیکنالوجی کے نئے تقاضوں اور مستقبل کی منصوبہ بندی جیسے موضوعات نوجوانوں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔
اس طرح ینگ مسلم 360° نے دینی تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی کو ایک دوسرے سے الگ تصور کرنے کے بجائے ایک متوازن انسانی شخصیت کے دو تکمیلی پہلوؤں کے طور پر پیش کیا۔

یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کی بھرپور شرکت
اس ورکشاپ کی ایک نمایاں کامیابی مختلف یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد میں شرکت تھی۔
نوجوانوں کی اس شرکت نے واضح کیا کہ جدید تعلیم حاصل کرنے والی نسل میں مذہب، شناخت، اخلاقیات، سائنسی فکر اور سماجی ذمہ داری جیسے موضوعات کے بارے میں سنجیدہ علمی مکالمے کی ضرورت موجود ہے۔
خصوصاً یہ بات اہم ہے کہ ایسے پروگرام نوجوانوں کو ایک ایسا مشترکہ علمی ماحول فراہم کرتے ہیں جہاں وہ دینی اسکالرز، یونیورسٹی اساتذہ، انتظامی شخصیات اور پیشہ ورانہ ماہرین سے ایک ہی پلیٹ فارم پر استفادہ کر سکتے ہیں۔
یہ طرزِ عمل مذہبی تعلیم کو نوجوانوں کی روزمرہ زندگی اور جدید معاشرتی حقائق سے مربوط کرنے کی ایک مؤثر کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔

ایک روزہ ورکشاپ سے آگے: تیس روزہ تربیتی و رہنمائی منصوبہ
ینگ مسلم 360° کی ایک اہم اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس کے تعلیمی تصور کو صرف ایک روزہ پروگرام تک محدود نہیں رکھا گیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت ورکشاپ کے بعد شرکاء کے لیے 30 روزہ آن لائن رہنمائی، تربیت اور مشاورت (Mentoring and Counselling Programme) کا خاکہ بھی تیار کیا گیا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد یہ ہے کہ ورکشاپ میں حاصل ہونے والی معلومات اور فکری تحریک کو روزمرہ زندگی میں عملی تبدیلی کا ذریعہ بنایا جائے۔
اس تربیتی مرحلے میں انفرادی اہداف، روزانہ کی مثبت سرگرمیوں، ذاتی احتساب، وقت کے مؤثر استعمال، اخلاقی عادات کی بہتری، ڈیجیٹل نظم و ضبط اور مستقبل کی منصوبہ بندی جیسے پہلوؤں کو شامل کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
اس طرح یہ پروگرام وقتی علمی سرگرمی کے بجائے ایک مسلسل تعلیمی و تربیتی عمل کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

حوزہ اور یونیورسٹی کے درمیان علمی ہم آہنگی کی ایک نئی سمت
ینگ مسلم 360° کی اہمیت صرف اس کے موضوعات یا ممتاز مقررین کی شرکت تک محدود نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کارفرما تعلیمی فلسفے میں بھی پوشیدہ ہے۔
ڈاکٹر سید محمد علی عون نقوی کی سرپرستی اور علمی منصوبہ بندی میں یہ اقدام اس ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ ہندوستان میں دینی اور عصری تعلیمی اداروں کے درمیان منظم اور نتیجہ خیز تعاون کو فروغ دیا جائے۔
حوزہ ہائے علمیہ کے پاس اسلامی معارف، اخلاقیات، فلسفہ، فقہ اور دینی روایت کا ایک وسیع علمی سرمایہ موجود ہے، جبکہ یونیورسٹیوں میں جدید سائنسی تحقیق، سماجی علوم، ٹیکنالوجی اور معاصر فکری مباحث پر کام کیا جاتا ہے۔
اگر ان دونوں علمی روایتوں کے درمیان مثبت مکالمہ اور ادارہ جاتی تعاون قائم ہو تو نوجوان نسل کے لیے زیادہ جامع، متوازن اور مؤثر تعلیمی مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

ینگ مسلم 360° اسی علمی ہم آہنگی کو عملی شکل دینے کی ایک ابتدائی مگر اہم کوشش ہے۔
اس منصوبے کے ذریعے مذہبی شناخت اور جدید علمی شعور کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کے بجائے ان کے درمیان ایک ایسا تعمیری رشتہ قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو نوجوانوں کو فکری اعتماد، اخلاقی استحکام اور سماجی ذمہ داری سے آراستہ کر سکے۔

ہندوستانی معاشرے کے تناظر میں پروگرام کی اہمیت
ہندوستان ایک کثیر مذہبی، کثیر ثقافتی اور متنوع علمی و سماجی روایات کا حامل ملک ہے۔ ایسے معاشرے میں نوجوان نسل کی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ مذہبی شناخت کے ساتھ ساتھ سماجی ہم آہنگی، انسانی احترام، آئینی اقدار، شہری ذمہ داری اور پرامن بقائے باہمی کو بھی اہمیت دی جائے۔
ینگ مسلم 360° کا تعلیمی تصور اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ یہ نوجوانوں کو اپنی دینی اور تہذیبی شناخت سے وابستہ رہتے ہوئے جدید ہندوستانی معاشرے میں مثبت، ذمہ دار اور تعمیری کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
یہ پروگرام نوجوانوں کو محض اپنی ذات اور انفرادی کامیابی تک محدود رہنے کے بجائے معاشرے کی علمی، اخلاقی اور انسانی ترقی میں حصہ لینے کے لیے تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مستقبل کی جانب ایک اہم قدم
نئی دہلی میں منعقد ہونے والی یہ ایک روزہ ورکشاپ ینگ مسلم 360° کے وسیع تر تعلیمی و تربیتی تصور کی ایک اہم عملی پیش رفت ہے۔
اس پروگرام نے یہ امکان روشن کیا ہے کہ اگر نوجوانوں کی ضروریات کو درست انداز میں سمجھتے ہوئے دینی معارف، جدید علوم، فکری مکالمے، اخلاقی تربیت اور عملی رہنمائی کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے تو ایک مؤثر اور نتیجہ خیز تعلیمی تحریک کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
اس سلسلے میں دفترِ نمائندگی رہبری کی معاونتِ آموزش اور خصوصاً ڈاکٹر سید محمد علی عون نقوی کی علمی و تنظیمی کوششیں قابلِ توجہ ہیں، جنہوں نے حوزہ اور یونیورسٹی کے درمیان موجود علمی فاصلے کو کم کرنے اور نوجوان نسل کے لیے ایک جدید، مربوط اور ہمہ جہت تربیتی ماڈل پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
ینگ مسلم 360° کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ آج کے نوجوان کو صرف مذہبی معلومات کا حامل نہیں، بلکہ ایک باشعور، صاحبِ فکر، بااخلاق، ٹیکنالوجی سے واقف، پیشہ ورانہ طور پر باصلاحیت اور سماجی ذمہ داری کا احساس رکھنے والا انسان بننا چاہیے۔
یہی وہ فکر ہے جو ینگ مسلم 360° کو ایک عام علمی ورکشاپ سے آگے بڑھا کر نوجوان نسل کی فکری و اخلاقی تشکیل کے ایک وسیع تر تعلیمی منصوبے کی حیثیت عطا کرتی ہے۔
یہ پروگرام ایک دن کی سرگرمی ضرور تھا، لیکن اس کا حقیقی مقصد ایک ایسی فکری و تربیتی تحریک کی بنیاد رکھنا ہے جس کے اثرات نوجوانوں کی شخصیت، ان کے فیصلوں اور معاشرے میں ان کے مثبت کردار کے ذریعے مستقبل میں نمایاں ہو سکیں۔










آپ کا تبصرہ