حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کی ریاست آندھرا پردیش کے علاقے سیدواڑہ میں مولانا حیدر مہدی مہدوی نے خطبۂ جمعہ میں رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حضرت ابوذر غفاریؓ کو کی گئی نصیحتوں کی روشنی میں دینی، اخلاقی اور سماجی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔
مولانا حیدر مہدی مہدوی نے کہا کہ اہلِ بیت علیہم السلام کی معرفت، ان سے وابستگی اور ان کی تعلیمات پر عمل انسان کی دینی و اخروی سعادت کا ذریعہ ہے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہلِ بیتؑ کو کشتیِ نوح سے تشبیہ دی ہے، جو ان کی ہدایت و رہنمائی کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جوانی، صحت، خوش حالی اور فرصت کو زندگی کی قیمتی نعمتیں سمجھتے ہوئے ان سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ دنیا کی زندگی عارضی ہے، اس لیے انسان کو نیک اعمال انجام دینے اور آخرت کی تیاری سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔
نماز کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نماز اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ مؤمنین کو نماز کی پابندی، مساجد میں حاضری، ذکرِ خدا اور دینی علوم کے حصول پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے باہمی تعلقات کی اصلاح پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کینہ، دشمنی اور قطع تعلق کے بجائے صلح و صفائی، باہمی احترام اور اتحاد کو فروغ دینا چاہیے۔ اسی طرح اچھی صحبت اختیار کرنا اور برے ماحول سے دور رہنا انسان کے کردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
زبان کی حفاظت کے حوالے سے انہوں نے تاکید کی کہ جھوٹ، افواہوں اور بغیر تحقیق کے سنی سنائی باتیں پھیلانے سے اجتناب کیا جائے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کرتا پھرے۔

خطبے کے آخری حصے میں مولانا حیدر مہدی مہدوی نے عدل و انصاف کے قیام اور مظلوموں کے حقوق کے تحفظ کو معاشرے کی اہم ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اقتدار کا مقصد عوام کی خدمت اور معاشرے میں انصاف قائم کرنا ہونا چاہیے۔ سیاسی و سماجی حالات سے باخبر رہنا اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے آخر میں زور دیا کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو انفرادی زندگی، معاشرتی تعلقات اور اجتماعی ذمہ داریوں میں عملی طور پر نافذ کرکے ایک بہتر اور اخلاقی معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔










آپ کا تبصرہ