جمعرات 29 اکتوبر 2026 - 14:45
ناخوشگوار حالات میں بھی تقدیرِ الٰہی پر راضی رہنا یقین کے اعلیٰ درجات میں سے ہے: آیت اللہ مہدوی

حوزہ/ اصفہان کے امام جمعہ آیت اللہ سید ابوالحسن مہدوی نے کہا ہے کہ ناخوشگوار حالات میں بھی تقدیر الہی پر راضی رہنا یقین کے اعلیٰ درجات میں سے ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دعا، علاج اور مشکلات کو دور کرنے کی کوشش چھوڑ دے، بلکہ اسے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بعد نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اصفہان کے امام جمعہ آیت اللہ سید ابوالحسن مہدوی نے کہا ہے کہ ناخوشگوار حالات میں بھی تقدیر الہی پر راضی رہنا یقین کے اعلیٰ درجات میں سے ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دعا، علاج اور مشکلات کو دور کرنے کی کوشش چھوڑ دے، بلکہ اسے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بعد نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا چاہیے۔

اصفہان کی مسجد الفتاح میں ’’اللہ کی تقدیر پر رضامندی‘‘ کے موضوع پر درس دیتے ہوئے مجلس خبرگان رہبری کے رکن آیت اللہ مہدوی نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی روایت کا حوالہ دیا کہ ناخوشگوار تقدیر پر راضی رہنا یقین کے بلند ترین درجات میں سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسان کو بیماری، مالی پریشانی یا دیگر مشکلات کا سامنا ہو تو اسے اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ان کے حل کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر تمام ضروری اقدامات کے باوجود مسئلہ حل نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہنا چاہیے۔ البتہ اپنی کوتاہی کے نتیجے میں پیش آنے والے نقصان کو تقدیر قرار دینا درست نہیں، بلکہ اپنی غلطی کی اصلاح ضروری ہے۔

آیت اللہ مہدوی نے اہل بیت علیہم السلام کی زندگی کو سخت حالات میں صبر اور رضامندی کی بہترین مثال قرار دیتے ہوئے واقعۂ کربلا کا ذکر کیا اور امام حسین علیہ السلام کے کلمات ’’إلهی رضاً بقضائک‘‘ کی جانب اشارہ کیا۔

کینہ، حسد اور بد اخلاقی سے بچنے کی تاکید

انہوں نے زندگی کی تلخیوں اور پریشانیوں کے اسباب بیان کرتے ہوئے کینہ، حسد اور بد اخلاقی کو اہم عوامل قرار دیا۔ ان کے مطابق، اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور ذاتی رنجشوں کو برسوں تک باقی نہیں رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مالی معاملات اور وراثت کے تنازعات کی وجہ سے بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کے درمیان تعلقات ختم نہیں ہونے چاہییں۔ اسی طرح دوسروں کو حاصل ہونے والی نعمتوں پر حسد کرنے کے بجائے اپنے اخلاق کی اصلاح پر توجہ دینی چاہیے۔

آیت اللہ مہدوی نے غصے، بد زبانی اور توہین آمیز رویے سے بچنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسیوں کو تکلیف دینا اور میاں بیوی کا ایک دوسرے یا ایک دوسرے کے خاندان کی توہین کرنا دینی تعلیمات کے خلاف ہے۔ انسان کو اپنے غصے پر قابو پانا، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا اور اختلافات کو بڑھانے کے بجائے انہیں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha