اتوار 18 اکتوبر 2026 - 16:25
آیت اللہ شبیری زنجانی نے زندگی بھر تعلیماتِ اہل بیتؑ کی ترویج و اشاعت میں اپنا کردار ادا کیا: مولانا سید پیام حیدر رضوی

حوزہ/آیت الله العظمیٰ سید موسیٰ شبیر زنجانی رحمۃ الله علیہ کی روح کے ایصال ثواب کے لیے مدرسہ امام مہدی (ع) اعظم گڑھ ہندوستان میں مجلس کا انعقاد کیا گیا، جس میں علمائے کرام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت الله العظمیٰ سید موسیٰ شبیر زنجانی رحمۃ الله علیہ کی روح کے ایصال ثواب کے لیے مدرسہ امام مہدی (ع) اعظم گڑھ ہندوستان میں مجلس کا انعقاد کیا گیا، جس میں علمائے کرام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

مدرسہ امام مہدی اعظم گڑھ میں آیت الله زنجانی کی یاد میں مجلسِ ترحیم:آیت الله شبیری زنجانی نے اپنی زندگی تعلیماتِ اہلبیت (ع) کی طرف رہنمائی کرنے میں صرف کردی،مولانا سید پیام حیدر رضوی 

اس مجلسِ ترحیم میں حاضرین نے روحانیت اور اخلاص سے بھرپور ماحول میں جمع ہو کر مرحوم کے لیے قرآن خوانی اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید پیام حیدر رضوی نے کہا کہ آیت الله شبیری زنجانی ایک ایسے عالم کا واضح نمونہ تھے، جنہوں نے اپنی زندگی اہلبیت (ع) کے علوم کو سیکھنے، تعلیم دینے، تحقیق کرنے اور لوگوں کو اہلبیت (ع) کے دین و تعلیمات کی طرف رہنمائی کرنے میں صرف کی۔

مدرسہ امام مہدی اعظم گڑھ میں آیت الله زنجانی کی یاد میں مجلسِ ترحیم:آیت الله شبیری زنجانی نے اپنی زندگی تعلیماتِ اہلبیت (ع) کی طرف رہنمائی کرنے میں صرف کردی،مولانا سید پیام حیدر رضوی 

انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم اپنے عمل میں بردبار اور متحد تھے اور مختلف فکری تحریکوں اور لوگوں کے گروہوں کے ساتھ کشادہ دلی سے پیش آتے تھے۔ بعض اوقات کہا جاتا تھا کہ اگر ہم شیعوں کے درمیان اتحاد کی علامت کے طور پر ایک دن مقرر کرنا چاہیں تو اس موقع کے لیے آیت اللہ شبیری کی یوم پیدائش کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

مدرسہ امام مہدی اعظم گڑھ میں آیت الله زنجانی کی یاد میں مجلسِ ترحیم:آیت الله شبیری زنجانی نے اپنی زندگی تعلیماتِ اہلبیت (ع) کی طرف رہنمائی کرنے میں صرف کردی،مولانا سید پیام حیدر رضوی 

اس موقع پر مولانا سید سلطان حسین، مولانا سید محمد مہدی، مولانا سید کاظم عبّاس، مولانا سید مجاہد حسین، مولانا غلام باقر خان، مولانا سید علی رضا اور مولانا سید عارف عبّاس نقوی و دیگر موجود رہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha