بدھ 14 اکتوبر 2026 - 18:40
مولانا سید ناصر عباس زیدی کی رحلت پر اظہار تعزیت

حوزہ/ معروف عالمِ دین، مبلغ اور مدرس مولانا سید ناصر عباس زیدی ۱۴ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو وفات پا گئے۔ مرحوم نے تبلیغِ دین، مجالسِ عزا، تدریسِ علومِ دینیہ اور خدمتِ خلق کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ مدرسہ بیت العلم کے ذریعے نئی نسل کی دینی تعلیم و تربیت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی |

تحریر: مولانا سید رضی حیدر پھندیڑوی دہلی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

انا للہ وانا الیہ راجعون

مولانا سید ناصر عباس زیدی آج، بروز بدھ، ۱۴ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو اس دارِ فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کر گئے۔ ان کی رحلت کی خبر سن کر دلی رنج و غم ہوا۔ مرحوم کی علمی، تبلیغی، تدریسی اور فلاحی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔مرحوم ایک دینی، علمی اور تبلیغی خانوادے کے چشم و چراغ تھے۔ مولانا سید ناصر عباس، ضلع امروہہ کی بستی پھندیڑی سادات میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد بزرگوار، مولانا سید مختار حسین ، برصغیر کے نامور مبلغ و مدرس تھے، جنہوں نے ہندوستان کے مختلف شہروں میں دینِ اسلام کی تبلیغ اور تدریسی خدمات انجام دیں۔

مولانا ناصر عباس صاحب نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن میں حاصل کی، جہاں آپ نے خاص طور پر اپنے جد بزرگوار قاری مہدی حسن صاحب سے قرآن اور دینیات کی بنیادی تعلیم پائی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد آپ کے والد محترم آپ کو مدرسہ منصبیہ میرٹھ لے گئے، جو کہ علمی اعتبار سے ایک ممتاز اداروں میں شمار ہوتا ہے۔

مدرسہ منصبیہ میں آپ نے جید علماء، جیسے مولانا ابرار حسین، مولانا سید ریحان، مولانا شبیہ محمد، مولانا رفعت حسین اور مولانا افضال حسین جیسے اساتذہ سے کسب فیض کیا۔ دوران تعلیم آپ نے کئی علمی اسناد حاصل کیں، جن میں مولوی، منشی، عالم، کامل، ادیب، ادیب ماہر اور ادیب کامل شامل ہیں۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد مولانا ناصر عباس نے دینی تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا۔ محض 15 سال کی عمر میں مجالس عزا اور مذہبی خطابات کا آغاز کیا اور ملک بھر میں تبلیغی اسفار کیے۔ آپ کی تبلیغی خدمات کے چند نمایاں مقامات درج ذیل ہیں: تراپچ، ضلع بھاؤ نگر گجرات(10سال تک محرم اور صفر کی مجالس)، ناگل پور، ضلع بھُج ، کچ(9سال تک محرم کے پہلے عشرہ میں خطاب)، دیگر مقامات: موندرا، مامنڈی، بمبئی (مدرسہ قادر)، سنبھلیڑہ، کوال، چاندپور، ہری نور پور، میمن سادات، اورنگ آباد، سانکھنی، ایٹہ، شیرکوٹ، رسول پور، بیڑا سادات، بدن پور وغیرہ ۔ آپ قدیم دہلی کی مسجد شیعیان علی (سوئی ولان) میں امامت جماعت اور تبلیغ دین کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔

تبلیغی خدمات کے دوران حاصل ہونے والے تجربات اور مشاہدات نے مولانا ناصر عباس زیدی کو اپنے وطن میں دینی تعلیم کے فروغ کی جانب متوجہ کیا۔ مدرسہ بیت العلم کے قیام کے بعد آپ نے اس ادارے میں تدریسی خدمات انجام دیں اور تعلیم و تربیت کے ذریعے نئی نسل کو دینی معارف سے آراستہ کرنے میں اپنا حصہ ادا کیا۔ آپ کی تربیت یافتہ شخصیات میں کئی ممتاز علماء شامل ہیں، جیسے: مولانا اظہر ساکھنوی، مولانا عرفان ساکھنوی، مولانا محمد حسنین (آپ کے فرزند)، مولانا ذاکر حسین میمنوی، مولانا ذوالفقار سنبھلی اور بندہ ناچیز وغیرہ۔

مولانا نے اپنی عمر کے آخری حصے میں خواتین کے لیے ایک تربیتی مرکز قائم کیا تاکہ وہ سلائی و کڑھائی کی مہارت حاصل کر کے خود کفالت کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔ یہ اقدام آپ کے سماجی شعور اور فلاحی رجحان کا آئینہ دار ہے۔ اللہ نے آپ کو تین بیٹیاں اور تین بیٹے عطا کیے۔ آپ کے بیٹوں میں: مولانا سیدمحمد حسنین مقیم قم المقدسہ ایران، مولانا علی زماں اور علی حسنین۔

اس غم ناک موقع پر ہم مرحوم کے تمام اہل خانہ، متعلقین، شاگردوں اور عقیدت مندوں، بالخصوص مولانا سید محمد حسنین اور مولانا سید علی زماں کی خدمت میں دلی تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں۔ بارگاہِ خداوندی میں دعا ہے کہ پروردگارِ عالم مرحوم کو جوار رحمت الٰہی میں جگہ عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، ان کی دینی و تبلیغی خدمات کو شرف قبولیت بخشے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ پسماندگان کو صبرِ جمیل اور اجرِ جزیل عطا فرمائے۔ آمین والحمدللہ رب العالمین

سید رضی حیدر پھندیڑوی دہلی

مولانا سید ناصر عباس زیدی کی رحلت پر اظہار تعزیت

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha