تحریر: مولانا سید رضی حیدر
حوزہ نیوز ایجنسی|
نہایت رنج و الم کے ساتھ یہ خبر موصول ہوئی کہ استاذ الاساتذہ، فاضلِ جلیل القدر مولانا سید محمد اصغر زیدی صاحب کا لکھنؤ میں انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کی خبر علمی، دینی اور حوزوی حلقوں کے لیے یقیناً ایک بڑا صدمہ ہے۔
مرحوم ایک عرصے تک درس و تدریس، تبلیغ و خطابت اور دینی تربیت کے میدان میں سرگرمِ عمل رہے اور اپنی علمی و دینی خدمات کے ذریعے ایک بڑی تعداد میں تشنگانِ علومِ آلِ محمدؐ کی علمی و فکری تربیت فرماتے رہے۔
مولانا سید محمد اصغر زیدیؒ کی شخصیت ایک ایسے شفیق استاد، صاحبِ علم عالمِ دین، مؤثر خطیب اور مخلص مربی کی تھی جن کی زندگی کا بیشتر حصہ علمِ دین کی خدمت اور نسلِ نو کی تربیت میں گزرا۔ ان کی رحلت سے ایک علمی و دینی خلا پیدا ہوا ہے جس کا پُر ہونا آسان نہیں۔

ولادت اور ابتدائی تعلیم
مولانا سید محمد اصغر زیدیؒ ابن عون محمد بن سید علی بن سید وزیر علی جنوری 1947ء میں سرزمین پھندیڑی سادات پر پیدا ہوئے۔
آپ نے ابتدائی عصری تعلیم اپنے وطن کے سرکاری اسکول کسان جونیئر ہائی اسکول سے حاصل کی، جبکہ دینی تعلیم کا آغاز مدرسہ مصباح العلم (حیات الاسلام) سے کیا۔ اس زمانے میں مدرسے کے پرنسپل جناب سید زوار حسین اور مدرس جناب رضوان حسین پدھان تھے۔
ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد علومِ دین کے حصول کے شوق میں 1957ء میں اپنے پھوپھی زاد بھائی جناب قائم رضا ابن مولانا تاثیر حسینؒ کے ہمراہ میرٹھ کا سفر کیا اور مدرسہ منصبیہ عربی کالج میں داخلہ لیا۔
تحصیلِ علم اور اساتذۂ کرام
مدرسہ منصبیہ عربی کالج میں آپ نے نہایت شوق، محنت اور لگن کے ساتھ اساتذۂ کرام سے کسبِ فیض کیا۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا سید افضال مہدی سرسوی، مولانا سید تہذیب الحسن سرسوی، مولانا سید محمد ریحان امروہوی، مولانا سید شبیہ محمد کاظمی سکرورہ مظفر نگر، مولانا سید ابرار حسین امروہوی، مولانا سید حسن سرسوی اور مولانا سید محمد مرتضیٰ زیدی جیسے جید علماء شامل تھے۔
اس کے علاوہ مولانا مختار علی خان امہٹ، مولانا غلام حسنین کراروی، آیت اللہ سید محمد باقر؟ [اصل عبارت میں "باسٹوی" درج ہے] سے معالم الاصول، مولانا محمد حسین خان نجفی سے متنبی، مولانا سید محمد اطہر سے معقولات، مولانا سید مرتضیٰ تقوی سے شرائع الاسلام، مولانا سید مرتضیٰ بزرگ سے معقولات اور مولانا سید ابن حیدر سے نہج البلاغہ جیسے اہم علوم و فنون پڑھے۔
آپ نے 1963ء میں منشی اور 1964ء میں مولوی کی اسناد حاصل کیں۔
لکھنؤ میں علمی سفر
1966ء میں آپ نے میرٹھ سے لکھنؤ کا رخ کیا اور ایک سال مدرسہ ناظمیہ میں جید اور نامور علماء سے کسبِ فیض کیا۔ اس کے بعد 1967ء میں مدرسہ سلطان المدارس میں داخل ہوئے، جہاں آپ نے اس وقت کے ممتاز اساتذۂ فن سے مختلف علوم و فنون حاصل کیے۔
مدرسہ سلطان المدارس میں آپ کے اساتذہ میں مولانا سید کلب عابد نقوی لکھنوی، مولانا سید محمد مہدی زیدپوری سے معقولات، مولانا سید محمد صالح لکھنوی سے فقہ، آیت اللہ سید علی رضوی سے ادبیات، مولانا سید محمد بن سید محمد باقر رضوی باقرالعلوم سے شرح کبیر، رسائل اور مکاسب، مولانا سید محمد صادق آل نجم الملت سے عمادالادب اور مولانا شیخ سعادت حسین خان سے عمادالتفسیر جیسے اہم دروس حاصل کیے۔
یوں آپ نے ہندوستان کے متعدد جید علماء و اساتذہ کی علمی صحبت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے علم و فضل کو جلا بخشی۔
تدریسی خدمات
تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے اپنی زندگی کو درس و تدریس کے لیے وقف کردیا۔ 16 جولائی 1972ء سے جون 2014ء تک آپ نے مدرسہ سلطان المدارس میں تدریسی فرائض نہایت حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیے۔
تقریباً چار دہائیوں پر محیط اس تدریسی سفر میں آپ نے سینکڑوں طلبہ کی علمی و فکری تربیت فرمائی۔ آپ کی تدریس کا دائرہ صرف طلابِ علومِ دینی تک محدود نہیں تھا بلکہ یونیورسٹیوں کے طلبہ بھی آپ سے استفادہ کرتے رہے۔ آپ اپنے شاگردوں کی علمی رہنمائی اور تربیت کو ہمیشہ اپنا فریضہ سمجھتے رہے۔
شاگردان
آپ کے شاگردوں کی فہرست خاصی طویل ہے، تاہم اختصار کے پیشِ نظر چند نام قابلِ ذکر ہیں:
مولانا عالم مہدی زیدپوری، مولانا نجم الحسن کشمیری، مولانا خورشید عباس بلیاوی، مولانا شاہد عباس بلیاوی، مولانا عمران حیدر زیدی، مولانا سید اقبال حیدر، مولانا سید اقبال مہدی، مولانا سید کلب محمد مرحوم، مولانا نقی حیدر زیدی، مولانا شیخ شمیم حیدر، شاعرِ اہل بیت پروفیسر مولانا نیر جلالپوری، شاعرِ اہل بیت مولانا بلال کاظمی، مولانا سید شان حیدر زیدی، مولانا سید شاہ نواز، مولانا سید محمد مہدی، مولانا حسین عباس زیدی اور دیگر متعدد علماء و فضلاء۔
ان شاگردوں کی علمی و دینی خدمات درحقیقت ان کے استادِ محترم کی طویل اور مخلصانہ تدریسی جدوجہد کی روشن یادگار ہیں۔
تبلیغ و خطابت
مولانا سید محمد اصغر زیدیؒ درس و تدریس کے ساتھ ساتھ ایک مؤثر اور صاحبِ طرز خطیب بھی تھے۔ آپ نے زیدپور، ضلع بارہ بنکی میں تقریباً 25 سال امامِ جمعہ کے فرائض انجام دیے، جبکہ مسجد شکوہ پلیس، لالٹس روڈ میں تقریباً 40 سال امامت و جماعت کی ذمہ داری نبھائی۔
آپ نے سرسی میں 22 صفر کے موقع پر تقریباً 17 سال تک بہتر تابوت کی مجلس اور دیگر مجالس سے خطاب فرمایا۔ اسی طرح بلگرام، ضلع ہردوئی میں تقریباً 40 سال ایامِ عزا اور دیگر مواقع پر مجالس سے خطاب کرتے رہے۔
آپ کی تبلیغی و خطیبانہ خدمات صرف چند مقامات تک محدود نہیں رہیں بلکہ ہندوستان کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں آپ نے سفر کرکے دین و مکتبِ اہل بیتؑ کی تبلیغ کی۔ جن مقامات پر آپ نے تبلیغ و خطابت کے فرائض انجام دیے، ان میں بجنور، میمن، پھندیڑی سادات، بھندیڑہ سادات، دہلی، کانپور، علی گڑھ، جے پور، فتح پور، بارہ بنکی، فیض آباد، الٰہ آباد، مرادآباد، سنبھل اور دیگر مقامات شامل ہیں۔
حج و زیارات
اللہ نے آپ کو فریضۂ حج کی ادائیگی اور عتباتِ عالیات کی زیارت سے بھی شرفیاب فرمایا۔ یہ سعادت آپ کی دینی زندگی کے اہم اور بابرکت مراحل میں شمار ہوتی ہے۔
اہل و عیال
اللہ نے مولانا سید محمد اصغر زیدیؒ کو اولاد کی نعمت سے بھی نوازا۔ آپ کے صاحبزادوں میں سید ناصر زیدی، سید عباس زیدی اور سید یوسف زیدی شامل ہیں، جبکہ آپ کی تین صاحبزادیاں بھی ہیں۔ آپ اپنی فیملی کے ہمراہ کشمیری محلہ، لکھنؤ میں مقیم رہے۔
ایک علمی عہد کا اختتام
مولانا سید محمد اصغر زیدیؒ کی زندگی علم، عمل، تدریس، تبلیغ اور تربیت سے عبارت تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی سال درسگاہوں میں علم کی شمع روشن کرنے، منبر و محراب سے دین کی خدمت کرنے اور نسلِ نو کی علمی و دینی تربیت میں صرف کیے۔
آج ١١ اگست ٢٠٢٦ ان کی رحلت پر ان کے شاگرد، متعلقین، اہلِ علم اور مکتبِ اہل بیتؑ سے وابستہ افراد غم زدہ ہیں۔ ان کی سب سے بڑی یادگار ان کے وہ شاگرد اور تلامذہ ہیں جو مختلف میدانوں میں دین و علم کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔
ہم بارگاہِ پروردگار میں دست بہ دعا ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم و مغفور مولانا سید محمد اصغر زیدیؒ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں محمد و آلِ محمدؑ کے جوار میں جگہ عطا فرمائے، ان کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے اور ان کے اہلِ خانہ، شاگردوں، متعلقین اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
پروردگارِ عالم استاذ الاساتذہؒ کی علمی و دینی میراث کو باقی و جاری رکھے اور ان کے شاگردوں کو ان کے مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
فاتحۂ مغفرت و بلندیٔ درجات کی درخواست









آپ کا تبصرہ