حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صحن روضہ امام حسین املو ہندوستان میں مہدی آرمی فیڈریشن املو کی جانب سے سالانہ خمسۂ مجالس کا انعقاد ہوا؛ مجالسِ عزاء میں مؤمنین نے بھرپور شرکت کی۔
امام حسین علیہ السلام کا ذکر انسانیت کے لئے سرچشمۂ ہدایت ، ذریعۂ نجات اور حقیقی اسلام کی بقاء اور لوگوں کے دلوں کو بیدار کرنے کا ایسا ذریعہ ہے جو باطل کے خلاف ڈت جانے کا حوصلہ بخشتا ہے۔یہ تذکرہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ اخلاقیات ،قربانی اور خدا کی رضا پر راضی رہنے کا عملی درس ہے۔امام حسین کی یاد میں منعقد ہونے والی مجالس عزاء، امام حسین کی عبادت، تقویٰ، صبر و استقامت کا تذکرہ انسان کو بندگی خدا کے قریب کرتے ہیں۔ مصائب میں صبر کرنے اور دین حق پر ثابت قدم رہنے کی طاقت ملتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار خطیب اہل بیت عالی جناب مولانا سید تہذیب الحسن صاحب قبلہ امام جمعہ و جماعت رانچی جھارکھنڈ نے بتاریخ ۶؍اگست بروز جمعہ بوقت ۹؍بجے شب صحن روضہ امام حسین واقع املو بازار میں مہدی آرمی فیڈریشن املو کی جانب سے منعقد سالانہ خمسۂ مجالس کے چھٹے دور کی دوسری مجلس کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مولانا نے مزید کہا کہ امام حسین علیہ السلام کی ذات تمام انسانوں کے لئے عقیدت و محبت کا مرکز ہے جو ایک دوسرے کے دلوں کو جوڑنے کا کام کرتی ہے۔جیسا کہ مکتب امام حسین کے ایک راہرو ،خدمت گزار،رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد تہران میں دنیا کے سب سے بڑے جنازہ کی تشیع جنازہ میں دنیا بھر کے کروڑوں انسانوں نے بلا تفریق مذہب و ملت شرکت کر کے انسانی اتحاد کا مظاہرہ کیا تاریخ میں یہ دنیا کے سب سے بڑے جنازہ کے طور پر درج کیا گیا۔یقینا یہ امام حسین کی راہ شہادت کادنیا میں ادنیٰ فیض و فائدہ ہے۔
آخر میں مولانا نے امام حسین کے کمسن شیرخوار مجاہد حضرت علی اصغر کی شہادت کا ذکر کیا جسے سن کر حاضرین مجلس آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔
مجلس کا آغاز محمد حسن و ہمنوا ساتھیوں کی سوز خوانی سے ہوا ۔اس موقع پر مولانا ابن حسن املوی واعظ،مولانا رضا حسین نجفی سمیت کثیر تعداد میں مومنین نے شرکت کی۔










آپ کا تبصرہ