بدھ 5 اگست 2026 - 19:13
موکب باب الحسین میں علما و طلاب زائرینِ امام حسینؑ کی خدمت میں پیش پیش؛ اربعین کا سفر ظہورِ امام زمانہؑ کی تمہید ہے، مولانا علی عباس نجفی

حوزہ/ اربعینِ حسینی کے موقع پر نجف اشرف سے کربلائے معلیٰ کی جانب جاری عظیم پیدل سفر کے دوران پول نمبر 820 پر قائم موکب "باب الحسین" میں بڑی تعداد میں علماء و طلاب زائرینِ امام حسینؑ کی خدمت میں شب و روز مصروف ہیں۔ موکب کے منتظم مولانا علی عباس نجفی نے حوزہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زائرِ امام حسینؑ کی خدمت اہل بیتؑ کی تعلیمات کا عملی مظہر ہے، جبکہ اربعین کا عظیم اجتماع عشقِ حسینی، معرفتِ اہل بیتؑ اور ظہورِ امام زمانہؑ کی تیاری کا بے مثال مظہر ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اربعینِ حسینی کی مناسبت سے نجف اشرف سے کربلائے معلیٰ کی جانب جاری پیدل سفر کے دوران پول نمبر 820 پر قائم موکب "باب الحسین" کے منتظم مولانا علی عباس نجفی نے حوزہ نیوز کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نجف سے کربلا تک جاری انسانوں کا یہ عظیم سمندر محض ایک سفر نہیں بلکہ عشقِ امام حسینؑ، معرفتِ اہل بیتؑ اور امام زمانہؑ کے ظہور کی تیاری کا عملی مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ بصرہ، نجف، بغداد، حلہ، کوت اور عراق کے دیگر شہروں سے لاکھوں زائرین شدید گرمی، تھکن، بیماری اور دیگر مشکلات کی پروا کیے بغیر حضرت امام حسینؑ کی بارگاہ کی طرف رواں ہیں۔ ان کے بقول 48 سے 53 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید گرمی بھی زائرین کے جذبۂ عشق کو کم نہیں کر سکی، کیونکہ یہ سفر محبتِ سیدالشہداءؑ کا سفر ہے۔

مولانا علی عباس نجفی نے کہا کہ امام حسینؑ کی مظلومانہ شہادت کا غم مومنین کے دلوں میں ہمیشہ تازہ رہے گا اور یہی محبت انہیں ہر سال کربلا کی طرف کھینچ لاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعید نہیں کہ اربعین کا یہ عظیم اجتماع امام مہدیؑ کے ظہور کی تمہید ثابت ہو، کیونکہ یہ وہ قافلہ ہے جو امام حسینؑ کی محبت میں چلتے ہوئے درحقیقت امامِ عصرؑ کی نصرت کی روحانی تربیت حاصل کر رہا ہے۔

انہوں نے زائرین کے مقام و منزلت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جو شخص امام حسینؑ کی زیارت کے لیے نکلتا ہے، اس کے استقبال کے لیے ملائکہ، انبیائے کرامؑ، حضرت عباسؑ، حضرت حبیب بن مظاہرؑ اور دیگر صالحین حاضر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حرمِ امام حسینؑ میں زائر صرف امام حسینؑ کی زیارت نہیں کرتا بلکہ فرشتے اور انبیاء بھی اس زائر کی زیارت کرتے ہیں، اور یہی زیارت انسان کو ایک عظیم روحانی مقام عطا کرتی ہے۔

موکب باب الحسین کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زائرین کی خدمت ہمارے لیے اعزاز اور سعادت ہے۔ ہم اپنے تمام خدام کو ہمیشہ یہ تلقین کرتے ہیں کہ جو زائر موکب میں داخل ہو وہ دعا دیتے ہوئے آئے اور جب یہاں سے واپس جائے تو اس کے لبوں پر بھی دعا ہو، اس کی پیشانی پر پریشانی یا ناراضگی کا کوئی اثر نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ امام زمانہ حضرت حجۃ بن الحسن العسکریؑ ہمارے درمیان موجود ہیں، مگر ہم اپنی کوتاہیوں اور گناہوں کے باعث انہیں پہچان نہیں پاتے۔ اسی لیے ہم ہر زائر کی خدمت اس احساس کے ساتھ کرتے ہیں کہ ممکن ہے وہی ہمارے امامؑ ہوں۔ اگر ہمیں معلوم ہو کہ امام زمانہؑ موکب میں تشریف لا رہے ہیں تو جس محبت، ادب اور اخلاص سے ہم ان کی خدمت کریں گے، ہر زائر کے ساتھ بھی ہمارا رویہ ویسا ہی ہونا چاہیے۔

مولانا علی عباس نجفی نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک عالم دین نے خواب میں حضرت حبیب بن مظاہرؑ کی زیارت کی اور ان سے پوچھا کہ اگر دوبارہ دنیا میں آنے کا موقع ملے تو کیا کریں گے؟ حضرت حبیبؑ نے جواب دیا کہ میری خواہش ہوگی کہ امام حسینؑ کے زائرین کو پانی پلاؤں۔ انہوں نے کہا کہ یہی جذبہ ہمیں بھی زائرین کی خدمت پر آمادہ کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ میں زائرینِ امام حسینؑ کی خدمت کا پہلا موکب حضرت امام جعفر صادقؑ نے قائم کیا تھا، لہٰذا آج موکبوں کی خدمت اسی سیرت کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اربعین کے زائر ہر قدم پر عظیم اجر و ثواب کے مستحق ہوتے ہیں، اس لیے ان کی خدمت بھی ایک عظیم عبادت ہے۔

موکب باب الحسین کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے مولانا علی عباس نجفی نے کہا کہ یہاں علما اور طلاب بڑی تعداد میں زائرین کی خدمت انجام دیتے ہیں۔ عالم دین زائر کی عظمت اور احترام سے بخوبی واقف ہوتا ہے، اس لیے انتہائی ادب، صبر اور محبت کے ساتھ خدمت انجام دیتا ہے۔ دیگر رضاکاروں کی بھی اسی جذبے کے ساتھ تربیت کی جاتی ہے تاکہ ہر زائر کو عزت و احترام ملے۔

انہوں نے بتایا کہ موکب میں خدمات انجام دینے والے رضاکار مختلف ممالک سے آتے ہیں۔ تقریباً 82 علما و طلاب نجف اشرف سے، 70 کے قریب اسلامی جمہوریہ ایران سے اور 70 سے 80 کے درمیان ہندوستان سے خدمت کے لیے شریک ہوتے ہیں، جبکہ عراق کے مقامی رضاکار بھی موکب کا حصہ بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2020ء میں کورونا وبا کے دوران بیرونِ ملک سے خدام نہ آ سکے، تب بھی نجف کے مقامی علما اور رضاکاروں نے خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔

گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ موکب باب الحسین میں قوم، ملت، زبان یا ملک کی کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔ یہاں ہر آنے والا صرف حضرت اباعبداللہ الحسینؑ کا زائر ہے، اسی نسبت سے اس کا احترام اور خدمت کی جاتی ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اہل بیتؑ کے صدقے میں تمام خدام اور زائرین کی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha