حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، نجف اشرف سے کربلائے معلیٰ کی جانب جاری پیدل سفر کے دوران ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے موکب "باب الحسین" کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے موکب کے منتظمین، خادمین اور رضاکاروں سے ملاقات کی اور زائرینِ امام حسینؑ کی خدمت میں ان کی شبانہ روز کاوشوں کو سراہا۔
انہوں نے موکب میں قائم استراحت گاہ کا بھی جائزہ لیا، جہاں ایک وقت میں تقریباً دس ہزار سے زائد زائرین کے قیام و آرام کا انتظام ہے، جبکہ روزانہ تیس ہزار سے زیادہ زائرین کے لیے کھانے پینے، طبی سہولیات، پیدل سفر کی تھکن دور کرنے کے لیے مساج سینٹر اور دیگر ضروری خدمات بلاامتیاز فراہم کی جا رہی ہیں۔

موکب میں زائرین کی روحانی تربیت اور دینی رہنمائی کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ یہاں پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کی جارہی تھیں، جبکہ روزانہ مجالسِ عزا منعقد ہوتیں جنمیں مختلف علمائے کرام، خطباء اور ذاکرین نے خطاب کیا۔ ان مجالس میں معرفتِ اہلِ بیتؑ، فلسفۂ اربعین، سیرتِ حضرت امام حسینؑ، اتحادِ امت، دینی و اخلاقی تعلیمات اور عصرِ حاضر میں پیغامِ کربلا کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔ اس کے علاوہ عزاداریِ سیدالشہداءؑ کا بھی باقاعدہ اہتمام کیا گیا، جس میں دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے زائرین بڑی عقیدت کے ساتھ شریک ہوئے۔
حوزہ نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے کہا:
"بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ہم اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں اربعینِ حسینی کے اس نورانی سفر میں شریک ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔ اسی طرح ہم اس کے بھی شکر گزار ہیں کہ ہمیں اس عظیم الشان موکب کا دورہ کرنے کا موقع ملا، جہاں زائرینِ حضرت امام حسینؑ کی ہر ممکن ضرورت کا بہترین انتظام کیا گیا ہے۔
میں اس موکب کے تمام بانیوں، منتظمین، خادمین اور رضاکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جنہوں نے اخلاص، ایثار اور محبت کے جذبے سے اس موکب کو قائم کیا اور شب و روز زائرین کی خدمت میں مصروف ہیں۔
اس موکب میں آکر مجھے وہی محبت، اخوت، سخاوت اور انسان دوستی کا جذبہ محسوس ہوا، جس کا مشاہدہ میں نے ہندوستان میں کیا ہے۔ ہندوستان محبت، رواداری، باہمی احترام، مجالسِ حسینؑ اور عزاداری کی عظیم روایات کی سرزمین ہے، اور آج انہی اقدار کی خوبصورت جھلک اس موکب میں بھی نمایاں نظر آئی۔ یہی جذبہ اربعینِ حسینی کا حقیقی پیغام ہے، جو دنیا بھر کے انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور خدمتِ انسانیت، ایثار اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ اربعین کا عظیم اجتماع صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں بلکہ انسانیت، ایثار، باہمی محبت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کا عملی نمونہ ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے زائرین اور ان کی خدمت میں مصروف لاکھوں رضاکار اس حقیقت کا عملی ثبوت ہیں کہ حضرت امام حسینؑ کا پیغام آج بھی انسانوں کے دلوں کو جوڑنے، انہیں خیر، محبت، قربانی اور خدمتِ خلق کی راہ پر گامزن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
دورے کے اختتام پر ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے موکب کے تمام خادمین اور منتظمین کی خدمات کو سراہتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں زائرینِ حضرت امام حسینؑ کی خدمت کی مزید توفیق عطا فرمائے، ان کی کاوشوں کو شرفِ قبولیت بخشے اور انہیں اجرِ عظیم سے نوازے۔









آپ کا تبصرہ