حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ۲۱صفر المظفر انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں وکشمیر کے صدر حجۃالاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی کی قیادت میں ملہ بوچھن ماگام میں دن بھر مجلسِ حسینی کا اہتمام رہا، جہاں تنظیم کے ذاکرین نے مرثیہ خوانی کی۔
ملہ بوچھن ماگام میں عزاداروں کی بھاری تعداد سے حجۃ الاسلام سید مجتبیٰ عباس موسوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی کامیابی اللہ تعالیٰ، حضرت محمد مصطفیٰ ؐ اور اہل بیت اطہارؑ کی کامل اطاعت میں مضمر ہے، جبکہ ان کی تعلیمات سے انحراف انسان کو دنیا و آخرت کی تباہی سے دوچار کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ واقعۂ کربلا محض ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ حق و باطل، عدل و ظلم اور ایمان و دنیا پرستی کے درمیان ابدی معرکہ ہے، جس سے ہر دور کے انسان کو رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
مولانا سید مجتبیٰ عباس نے کہا کہ امام حسینؑ کی عظیم قربانی انسانیت کو یہ درس دیتی ہے کہ اقتدار، دولت اور دنیاوی مفادات کی خاطر اصولوں اور حق کا سودا ہرگز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کربلا کا پیغام انسان کو ظلم کے سامنے ڈٹ جانے، دین الٰہی پر ثابت قدم رہنے اور ہر قسم کی باطل قوت کے خلاف آواز بلند کرنے کی تلقین کرتا ہے۔
جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کے آئینی، سیاسی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ، منظم اور مخلصانہ جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض سیاسی عناصر حساس عوامی معاملات کو محض انتخابی مفادات اور اقتدار کی سیاست کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ حقیقی قیادت کا تقاضا ہے کہ عوامی حقوق، عزت نفس اور اجتماعی مفادات کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی اور عصری تعلیم بھی حاصل کریں، کیونکہ ایک باعلم، باکردار اور باشعور نسل ہی ملت اور معاشرے کے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن مجید، سیرت رسول اکرم ؐ اور تعلیمات اہل بیتؑ سے مضبوط وابستگی ہی امت کو فکری، اخلاقی اور روحانی استحکام عطا کر سکتی ہے۔
مولانا سید مجتبیٰ عباس نے اربعین حسینیؑ کی عظمت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسینؑ، حضرت زینبؑ اور شہدائے کربلا کی لازوال قربانیاں آج بھی دنیا بھر کے مظلوم انسانوں کے لیے حق، انصاف، آزادی اور انسانی وقار کی علامت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اربعین کا عظیم اجتماع وحدت، ایثار، وفاداری اور ظلم کے خلاف مزاحمت کے عالمی پیغام کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
انہوں نے مؤمنین پر زور دیا کہ وہ معرفت اہل بیتؑ، اطاعت امام زمانہؑ، اسلامی اخلاق، اتحاد امت اور دین پر استقامت کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں اور دنیاوی مفادات کو آخرت کی کامیابی پر ہرگز ترجیح نہ دیں۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اتحاد و بصیرت عطا فرمائے، عالم انسانیت کو امن و سکون نصیب کرے اور عزاداران امام حسینؑ کی عبادات و عزاداری کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔

مجلس عزا کے اختتام پر روایتی جلوس ذوالجناح شریف برآمد کیا گیا، جس میں ہزاروں عزاداروں نے انتہائی عقیدت، نظم و ضبط اور پرسوز ماحول میں شرکت کی۔
شرکائے جلوس نے حضرت امام حسینؑ اور دیگر شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے نوحہ خوانی اور سینہ زنی کی۔ جلوس اپنے مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوا، جہاں عزاداروں نے شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے ان کے آفاقی پیغام حق، عدل اور حریت سے تجدید عہد کیا۔









آپ کا تبصرہ