حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا ڈاکٹر سید کلب رشید رضوی، ہندوستان کے معروف سیاسی و مذہبی رہنما، نے اربعین حسینی کے موقع پر حوزہ نیوز کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا: اربعین ایک عظیم اور بے مثال روحانی تحریک ہے۔ نجف اشرف سے کربلائے معلیٰ تک جو منظر دکھائی دیتا ہے، وہ امام حسینؑ کی محبت اور ان کے عالمی پیغام کی منفرد پہچان ہے۔ لاکھوں انسان مسلسل کربلا کی جانب رواں ہیں اور ہر سال اس عظیم اجتماع کا دائرہ پہلے سے زیادہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی دنوں سے زائرین کربلا کی طرف جا رہے ہیں، لیکن کربلا کے دروازے سب کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کربلا ایک بے کراں سمندر ہے اور ہم سب اس کے قطرے ہیں۔ قطرے کی اصل منزل یہی ہے کہ وہ سمندر میں جا ملے، تاکہ سمندر کی عظمت، وسعت اور برکت سے فیض یاب ہو سکے۔
مولانا کلب رشید رضوی نے کہا کہ میری نظر میں یہ سفر صرف نجف سے کربلا تک کا سفر نہیں، بلکہ روح کی بلندی، ارادے کی مضبوطی اور تشیع کی معراج کا سفر ہے۔ جو شخص اس راستے کو معرفت کے ساتھ طے کرتا ہے، وہ واپس آکر پہلے جیسا انسان نہیں رہتا، بلکہ اس کی زندگی میں ایسا مثبت انقلاب آتا ہے جو آنے والی نسلوں تک اثر چھوڑ سکتا ہے۔
انہوں نے زائرینِ اربعین کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اس سفر کا مقصد صرف کربلا پہنچ جانا نہیں، بلکہ اپنے اندر کی کربلا کو اپنی عملی زندگی میں زندہ کرنا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ امام حسینؑ کے پیغام کو اس انداز سے معاشرے تک پہنچائے کہ اگر کہیں یزیدی فکر موجود ہو تو اسے معلوم ہو جائے کہ ہر دور میں حسینی کردار بھی زندہ ہے اور ظلم کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔
ہندوستان کے عوام کے لیے اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہمارا یومِ آزادی قریب ہے۔ ہم بارگاہِ امام حسینؑ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمارے ملک میں محبت، اخوت اور اتحاد کی فضا قائم رہے، نفرت اور تفرقے کا خاتمہ ہو، تمام شہری ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر ملک کی ترقی کے لیے کام کریں، اور ساتھ ہی تشیع اور انسانی اقدار کے تحفظ کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھیں۔









آپ کا تبصرہ