تحریر: مولانا عقیل رضا ترابی،سربراہ، مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ، ہریانہ
حوزہ نیوز ایجنسی|
«قَالَ الإِمَامُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَسْكَرِيُّؑ:
«عَلَامَاتُ الْمُؤْمِنِ خَمْسٌ: صَلَاةُ الْإِحْدَى وَالْخَمْسِينَ، وَزِيَارَةُ الْأَرْبَعِينَ، وَالتَّخَتُّمُ فِي الْيَمِينِ، وَتَعْفِيرُ الْجَبِينِ، وَالْجَهْرُ بِبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ»۔»
ترجمہ:
مؤمن کی پانچ نشانیاں ہیں: اکیاون رکعت نماز ادا کرنا، زیارتِ اربعین کرنا، دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا، سجدے میں پیشانی کو خاک پر رکھنا، اور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کو بلند آواز سے پڑھنا۔
حوالہ: شیخ طوسی، تہذیب الأحکام، ج ۶، ص ۵۲؛ شیخ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج ۱۴، باب ۳۷، حدیث ۱۔
بعض سفر فاصلے طے نہیں کرتے، بلکہ انسان کے اندر ایک نئی دنیا آباد کر دیتے ہیں۔ بعض راستے کسی جغرافیائی منزل تک پہنچنے کا وسیلہ نہیں ہوتے، بلکہ تاریخ، عقیدت، معرفت اور روحانیت سے رشتہ استوار کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ نجف اشرف سے کربلائے معلیٰ کی جانب اٹھنے والے لاکھوں زائرین کے قدم بھی ایک ایسے ہی روحانی سفر کی تصویر پیش کرتے ہیں، جس میں مسافت سے زیادہ معنویت، راستے سے زیادہ مقصد اور قدموں سے زیادہ دلوں کی کیفیت اہم ہوتی ہے۔
نجف اشرف سے کربلا کی جانب ہونے والی مشی محض ایک طویل پیدل سفر نہیں؛ یہ محبت، وفا، اخوت، ایثار اور حسینی شعور کا ایک عظیم اجتماعی اظہار ہے۔ ہر سال دنیا کے مختلف گوشوں سے آنے والے زائرین جب امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے شہر سے فرزندِ رسولؐ، حضرت امام حسینؑ کی بارگاہ کی جانب قدم بڑھاتے ہیں تو یہ منظر ایک ایسی روحانی وحدت کا مظہر بن جاتا ہے، جس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔
یہ راستہ بظاہر نجف سے کربلا تک ہے، لیکن معنوی اعتبار سے یہ ولایت سے شہادت، علم سے عمل، معرفت سے وفا اور حق شناسی سے حق نوازی تک کا سفر ہے۔
نجف اشرف وہ شہر ہے جس کی خاک میں امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی یادیں سانس لیتی ہیں؛ وہ علیؑ جن کی زندگی علم، عدل، تقویٰ، شجاعت اور انسانیت کی روشن مثال ہے۔ اور کربلا وہ سرزمین ہے جہاں امام حسینؑ نے اپنے خونِ پاک سے حق کی حرمت، آزادی کی عظمت اور انسانی عزت کے تحفظ کا ابدی منشور رقم کیا۔
اس اعتبار سے نجف سے کربلا تک کی مشی محض دو مقدس شہروں کے درمیان ایک مسافت نہیں، بلکہ مکتبِ علیؑ سے مکتبِ حسینؑ تک ایک فکری و روحانی تسلسل کا استعارہ بھی ہے۔
یہاں ہر قدم ایک پیغام رکھتا ہے
ہر قدم یہ اعلان کرتا ہے کہ حسینؑ کی یاد صرف ماضی کا نوحہ نہیں، بلکہ حال کا شعور اور مستقبل کی ذمہ داری بھی ہے۔ کربلا صرف تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ حق و باطل کے درمیان امتیاز کا وہ زندہ معیار ہے جو ہر دور کے انسان سے یہ سوال کرتا ہے کہ جب حق اور باطل آمنے سامنے ہوں تو وہ کس صف میں کھڑا ہوگا۔
مشیِ اربعین اسی سوال کی طرف ایک خاموش مگر پُرمعنی پیش قدمی ہے۔
یہ مشی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ امام حسینؑ کی تحریک کو صرف ایک تاریخی واقعے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ کربلا ایک فکر ہے، ایک اخلاقی معیار ہے، ایک تہذیبی شعور ہے اور ایک ایسی دعوت ہے جو انسان کو ظلم، جبر، استبداد اور اخلاقی زوال کے مقابلے میں بیدار رہنے کا درس دیتی ہے۔
حسینؑ کی محبت اگر دل میں ہے تو مظلوم کے درد کا احساس بھی ہونا چاہیے؛ اگر کربلا کی یاد ہے تو ظلم سے نفرت بھی ہونی چاہیے؛ اگر عاشورا کا غم ہے تو عاشورائی اقدار کی حفاظت بھی ضروری ہے۔
اسی لیے نجف سے کربلا تک اٹھنے والا ہر قدم محض جسمانی حرکت نہیں، بلکہ ایک اخلاقی اور روحانی عہد بھی بن جاتا ہے۔
اس عظیم مشی کا ایک نہایت قابلِ ذکر پہلو خدمت اور مواسات ہے۔ راستے بھر قائم ہونے والے موکب، زائرین کی خدمت کے لیے پیش کی جانے والی سہولتیں، کھانے پینے کا انتظام، آرام کی جگہیں اور بے لوث خدمت کا جذبہ—یہ سب ایک ایسی اجتماعی تہذیب کی تشکیل کرتے ہیں، جس میں انسان دوسرے انسان کی خدمت کو سعادت سمجھتا ہے۔
یہاں دینے والا خود کو محسن نہیں سمجھتا، بلکہ خدمت کو اپنے لیے اعزاز تصور کرتا ہے۔
یہ منظر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ حسینی معاشرہ صرف جذباتی وابستگی کا نام نہیں؛ اس کی بنیاد مواسات، ایثار، اخوت اور خدمتِ خلق پر قائم ہے۔ کربلا ہمیں صرف شہادت کا درس نہیں دیتی، بلکہ انسان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے اور دوسرے کے درد میں شریک ہونے کی تربیت بھی دیتی ہے۔
نجف سے کربلا تک کی مشی میں مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے اور مختلف علاقوں سے آنے والے انسان ایک ہی سمت میں رواں دواں نظر آتے ہیں۔ ان کے لباس مختلف ہو سکتے ہیں، زبانیں مختلف ہو سکتی ہیں، ثقافتیں مختلف ہو سکتی ہیں، مگر ان کے دلوں کی منزل ایک ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں کربلا کی عالمگیریت نمایاں ہوتی ہے
امام حسینؑ کسی ایک خطے، قوم یا نسل کے نہیں؛ وہ انسانیت کے ضمیر کی آواز ہیں۔ ان کی قربانی نے یہ ثابت کیا کہ حق کی سربلندی کے لیے تعداد نہیں، کردار ضروری ہے؛ وسائل نہیں، عزم ضروری ہے؛ دنیاوی غلبہ نہیں، اصولوں پر استقامت ضروری ہے۔
کربلا اسی لیے ہر زمانے کے انسان سے مخاطب ہے
مشیِ اربعین اس خطاب کو اجتماعی صورت میں زندہ رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسا منظر پیش کرتی ہے جہاں عقیدت، محبت اور اجتماعیت مل کر ایک وسیع روحانی تجربہ بن جاتی ہیں۔ لاکھوں قدم ایک سمت میں بڑھتے ہیں، مگر ان قدموں کے پیچھے کروڑوں دلوں کی عقیدت شامل ہوتی ہے۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس عظیم سفر کا تذکرہ اور اس کا منظر دیکھنے والا بھی اپنے آپ کو اس روحانی فضا سے مکمل طور پر الگ نہیں رکھ پاتا۔
اگرچہ ہر محب کو نجف سے کربلا تک پیدل چلنے کی سعادت حاصل نہیں ہوتی، لیکن محبت کے قافلے میں شریک ہونے کے لیے ہمیشہ قدموں کا ساتھ ضروری نہیں۔ کبھی ایک دعا، کبھی ایک سلام، کبھی ایک تحریر اور کبھی کسی مقدس سفر کا ذکر بھی انسان کو اس روحانی کارواں سے وابستہ کر دیتا ہے۔
اسی جذبے کے تحت نجف سے کربلا تک کی اس عظیم مشی کے تذکرے میں قلم اٹھانا بھی ایک ادنیٰ سی عقیدتی شرکت ہے؛ ایک ایسا تبرکی عمل جس کے ذریعے دل کی محبت کو الفاظ کا لباس پہنایا جا سکے اور اہلِ بیتؑ کے محبین کے اس عظیم قافلے کو دور بیٹھ کر سلامِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔
یہ تحریر بھی اسی نیت سے ہے—نہ کسی ذاتی سفر کی روداد، نہ کسی ذاتی مشاہدے کا بیان؛ بلکہ اس عظیم روحانی منظر کو الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ایک معمولی سی کوشش۔
نجف سے کربلا تک کا راستہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عشق صرف دعویٰ نہیں، ذمہ داری بھی ہے؛ محبت صرف جذبات نہیں، کردار بھی ہے؛ اور کربلا صرف آنسو نہیں، شعور بھی ہے۔
امام حسینؑ سے حقیقی وابستگی کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی میں حق، صداقت، عدل، آزادی، ایثار اور انسانیت کی ان اقدار کو جگہ دے، جن کے تحفظ کے لیے کربلا میں عظیم قربانیاں پیش کی گئیں۔
جب زائرین نجف اشرف سے کربلا کی سمت بڑھتے ہیں تو ان کے قدم تاریخ کے ایک ایسے راستے پر چل رہے ہوتے ہیں، جس کے ہر موڑ پر وفا کی داستان ہے، ہر منزل پر قربانی کی یاد ہے اور ہر سمت میں حسینؑ کی صدا سنائی دیتی ہے۔
یہ سفر ہمیں بتاتا ہے کہ فاصلے قدموں سے کم ہوتے ہیں، مگر دلوں کے فاصلے محبت سے مٹتے ہیں۔
نجف سے کربلا تک ہر قدم گویا ایک سلام ہے؛
ہر قدم ایک عہد ہے؛
ہر قدم ایک یاد ہے؛
ہر قدم ایک پیغام ہے۔
یہ پیغام کہ حق کی راہ کبھی متروک نہیں ہوتی،
یہ عہد کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی،
یہ یاد کہ کربلا آج بھی زندہ ہے،
اور یہ حقیقت کہ حسینؑ کا عشق آج بھی دلوں کو ایک سمت میں چلا رہا ہے۔
نجف سے کربلا تک کی یہ مشی بلاشبہ ایک عظیم روحانی مظہر ہے۔ اس کے ہر قدم میں محبت ہے، ہر منزل میں معرفت ہے، ہر خدمت میں مواسات ہے اور ہر زائر کے دل میں حسینؑ کی یاد ہے۔
اور ہم، جو اس عظیم قافلے کے ساتھ قدم بہ قدم چلنے کی سعادت سے محروم ہیں، کم از کم اپنے دل اور قلم کے ذریعے اس قافلے کو سلام پیش کر سکتے ہیں۔
اسی نیت سے، ثواباً و تبرکاً، اہلِ بیتؑ کی محبت کے اس عظیم سفر کا ذکر کرتے ہوئے دل یہی دعا کرتا ہے:
اے پروردگار! نجف سے کربلا تک چلنے والے تمام زائرین کی زیارت کو شرفِ قبول عطا فرما، ان کے سفر کو سلامت فرما، ان کی حاضری کو مقبول فرما، اور ہمیں بھی اہلِ بیتؑ کی حقیقی معرفت، محبت اور پیروی کی توفیق عطا فرما۔
سلام ہو حسینؑ پر،
سلام ہو حسینؑ کے اصحاب پر،
سلام ہو ان وفاداروں پر جنہوں نے کربلا کو تاریخ کا نہیں، انسانیت کا ابدی عنوان بنا دیا۔
نجف سے کربلا تک—قدم قدم عشق، قدم قدم وفا، قدم قدم حسینؑ۔









آپ کا تبصرہ