تحریر : فاطمہ بتول
حوزہ نیوز ایجنسی |
"مَن زَارَ الحُسَینَ مُشیا کَتَبَ اللهُ لَهُ بِکُلِّ خُطوَةٍ الفَ حَسَنَةٍ وَ مَحا عَنهُ الفَ سَیِّئَةٍ وَ رَفَعَ لَهُ الفَ دَرَجَةٍ"
"جو شخص امام حسینؑ کی زیارت کے لیے پیدل جائے، اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے ہزار نیکیاں لکھتا ہے، ہزار گناہ معاف کرتا ہے، اور ہزار درجے بلند کرتا ہے۔"کامل الزیارات، تالیف: شیخ جعفر بن قولویہ قمیؒ، باب 82
کچھ سفر پاؤں سے نہیں آنکھوں سے طے ہوتے ہیں، کچھ راہیں جسم کو نہیں روح کو بلاتی ہیں ۔
نجف سے کربلا تک 80 کلو میٹر کے عشق کا یہ سفر بھی ایسا سفر ہے جہاں قدم تو راستے کی گرم ریت پر چلتے ہیں مگر دل مضطر اب بھی اسی خیمہ گاہ کی طرف دھڑکتا ہے جہاں ایک پیاسے امام اپنے لہو میں ڈوبے ہوئے تھے مگر حق کا نعرہ ان کی زبان سے نہیں رکا تھا ۔
مشی اربعین صرف چلنے کا نام نہیں، بلکہ یہ زینب کا راستہ ہے؛ وہ راستہ جس پر بی بی نے قافلے کے ساتھ اپنے بھائی کے جسم بے سر کا سامنا کیا مگر پھر بھی نہیں رکیں، ہم آج اسی راہ پر قدم رکھتے ہیں۔
یہ سفر محض ایک رسم نہیں یہ ایمان کا امتحان، محبت کا اظہار اور وفا کا اعلان ہے۔ یہ سفر ایک چیخ ایک آہ اور ایک عہد ہے جو ہر سال لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن کر ابھرتا ہے ۔
یہ وہ سفر ہے جہاں انسان اپنی حیثیت بھول جاتا ہے نہ کوئی امیر، نہ غریب، نہ عرب نہ عجم، لاکھوں انسان ایک ہی سمت جارہے ہیں سب کی الگ زبانیں ہیں مگر نعرہ ایک لبیک یا حسین سب کے ماتھے پر ایک ہی مہر ہے زائر حسین۔
یہ منظر ایسا ہے جیسے سارے جہاں کا دکھ ایک جگہ جمع ہوگیا ہو قدم قدم پر آنسوں بھی ہے اور سکون بھی،تھکن بھی ہے اور عجیب سی طاقت بھی ۔سانسیں پھول جاتی ہے،پاؤں میں چھالے پڑ جاتے ہیں لیکن دل نہیں تھکتا کیوں کہ دل کے آگے کربلا ہے۔
دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا منظر نہیں ملے گا کہ قدم قدم پر موکب ہیں۔
زائرین اباعبداللہ بفرمائید! کی صدائیں دلوں میں بس جاتی ہیں کوئی چائے پیش کر رہا ہے،کوئی کھانا،کوئی پانی کی سبیل لگائے ہوئے ہیں تو کوئی زخموں پر مرہم لگا رہے ہیں،کوئی تھکے ہوئے پاؤں کی مالش کر رہے ہیں تو کوئی زائرین کے جوتے گانٹھ رہے ہیں جس کے پاس اگر کچھ نہیں تو ہاتھوں میں چیزیں لئے زائرین کو ہوا دینے لگتے ہیں ۔کوئی نہیں پوچھتا تم کون ہو کہاں سے آئے ہو بس ایک جملہ کہا جاتا ہے: زائر حسین خوش آمدید!
دھوپ تیز، پاؤں جل رہے ہیں، لیکن ایک بوڑھی ماں لاٹھی ٹیک کر ہاتھوں میں تسبیح لئے چلتی ہے،مائیں اپنے بچوں کو گود میں اٹھائیں،کوئی اپنے بزرگوں کو ویل چیئر پر،نوجوان اپنے دوستوں کے ہاتھ پکڑے ایک ہی سمت چل کر یزیدیت کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم فقط زائر نہیں بلکہ حسینی کارواں کے سپاہی ہیں جو ظلم کے ہر روپ کو پہچانیں،جو حق کے لئے کھڑے ہوں جو فکری طور پر بیدا ہو ظہور امام زمانہ ع کے لئے راہ ہموار کریں ۔
مشی اربعین صرف زیارت نہیں، یہ ایک تحریک ہے۔ یہ تحریک ظلم کے خلاف، بے حسی کے خلاف اور یزیدیت کے ہر روپ کے خلاف ہے۔ یہ 80 کلومیٹر کا سفر ہمیں صرف کربلا تک نہیں لے جاتا، یہ ہمیں حسینی سپاہی بناتا ہے۔ ایسے سپاہی جو ہر دور میں حق کا ساتھ دیں، مظلوم کی آواز بنیں اور امام زمانہؑ کے ظہور کی راہ ہموار کریں۔
آج ہم قدم پر یہی عہد دہراتے ہیں کہ ہم حسینؑ والے ہیں اور حسینؑیت پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔









آپ کا تبصرہ