تحریر: ثمن رباب رضوی
حوزہ نیوز ایجنسی|
بسم الله الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بندوں کو دعا کرنے کی بارہا ترغیب دی ہے، لیکن سورۂ فاتحہ کی دعا "اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ" ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ عام طور پر انسان اپنی ضرورت، خواہش اور آرزو کے مطابق دعا کرتا ہے، لیکن یہاں اللہ تعالیٰ خود اپنے بندوں کو سکھاتا ہے کہ وہ سب سے پہلے ہدایت مانگیں۔ گویا یہ وہ دعا ہے جس میں بندے کی خواہش سے پہلے اللہ کی رضا شامل ہے۔
اللہ تعالیٰ فوراً اس دعا کی وضاحت بھی فرما دیتا ہے:«﴿صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ﴾»
یعنی ہمیں ان لوگوں کے راستے پر چلا جن پر تو نے اپنی نعمتیں نازل فرمائیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صراطِ مستقیم کوئی مبہم راستہ نہیں بلکہ ان ہستیوں کا راستہ ہے جنہیں اللہ نے اپنی ہدایت، ولایت اور قرب سے نوازا۔ شیعہ تفاسیر، خصوصاً تفسیر المیزان، مجمع البیان، نور الثقلین اور دیگر روایات میں اہلِ بیتؑ کو صراطِ مستقیم کا کامل مصداق قرار دیا گیا ہے، کیونکہ اللہ تک پہنچنے کا راستہ ان کی معرفت اور پیروی سے روشن ہوتا ہے۔
انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ ظاہری مظاہر کے ذریعے باطنی حقائق کو سمجھتا ہے۔ اسی لیے وہ ہمیشہ ان لوگوں کو دیکھنا چاہتا ہے جن پر خدا کی نعمتیں نازل ہوئیں۔ جب وہ ان کی سیرت، اخلاق، قربانی اور بندگی کا مشاہدہ کرتا ہے تو صراطِ مستقیم اس کے لیے واضح ہوتا جاتا ہے۔
اگر صراطِ مستقیم کو اخلاقی زاویے سے دیکھا جائے تو یہ صرف چلنے کا راستہ نہیں، بلکہ دل کا رخ بھی ہے۔ انسان کی محبتیں اس کی زندگی کا راستہ متعین کرتی ہیں۔ جس کی محبت اللہ کی رضا کے تابع ہو، وہ ہدایت کی طرف بڑھتا ہے اور جو خواہشِ نفس کا غلام بن جائے، وہ گمراہی کے قریب ہو جاتا ہے۔
حضرت آدمؑ کا واقعہ انسان کو یہی سبق دیتا ہے کہ جب انسان خواہش کو حکمِ الٰہی پر مقدم کر دیتا ہے تو اپنے بلند مقام سے محروم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، لیکن یہ واقعہ رہتی دنیا تک انسان کے لیے تنبیہ ہے کہ کامیابی صرف اطاعت میں ہے۔
حضرت یعقوبؑ کے بیٹوں نے بھی حسد اور نفسانی جذبات کے زیرِ اثر حضرت یوسفؑ کو کنویں میں ڈال دیا۔ ایک غلط جذبے نے ایک خاندان کو برسوں کی جدائی میں مبتلا کر دیا، لیکن آخرکار توبہ اور رجوع نے انہیں دوبارہ رحمتِ الٰہی سے ملا دیا۔
حضرت یوسفؑ اور زلیخا کا واقعہ محبت اور خواہش کے درمیان فرق کو واضح کرتا ہے۔ زلیخا ابتدا میں نفسانی کشش کی اسیر تھی، جبکہ حضرت یوسفؑ کی محبت صرف اللہ کے لیے تھی۔ اسی لیے جب گناہ کی دعوت دی گئی تو انہوں نے فرمایا:
«﴿مَعَاذَ اللّٰهِ﴾"میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔" (سورۂ یوسف: 23)»
بعد میں حق آشکار ہوا اور زلیخا نے اعتراف کیا:
«﴿الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ﴾"اب حق پوری طرح واضح ہو چکا ہے۔" (سورۂ یوسف: 51)»
شیعہ تاریخی روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ بعد میں زلیخا نے توبہ کی اور اس کا رخ اللہ کی طرف ہو گیا۔ یہ واقعہ سکھاتا ہے کہ جب محبت خواہشِ نفس سے نکل کر اللہ کی رضا کے تابع ہو جائے تو وہ انسان کی اصلاح اور نجات کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کا واقعہ محبت کی معراج ہے۔ ایک باپ اپنے بیٹے سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، لیکن جب اللہ کا حکم آتا ہے تو وہ اپنی سب سے عزیز متاع بھی خدا کی راہ میں پیش کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے، اور حضرت اسماعیلؑ بھی عرض کرتے ہیں:
«﴿يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ﴾»
یہ وہ مقام ہے جہاں محبت، اطاعتِ الٰہی میں فنا ہو جاتی ہے، اور یہی صراطِ مستقیم کی حقیقت ہے۔
آج اگر کوئی "صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ" کی عملی تصویر دیکھنا چاہے تو نجف سے کربلا تک کا اربعین کا سفر اس کی روشن مثال ہے۔ یہ صرف دو شہروں کے درمیان پیدل سفر نہیں بلکہ محبت، وفاداری، ایثار، خدمت اور ولایت کا سفر ہے۔ اس راستے میں خادم زائر کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھتا ہے اور زائر خادم کے اخلاص پر رشک کرتا ہے۔ نہ کوئی رنگ، نسل، زبان یا قومیت باقی رہتی ہے، بلکہ ہر دل میں صرف حسینؑ کی محبت اور اللہ کی رضا کی آرزو باقی رہتی ہے۔
نجف سے کربلا تک اٹھنے والا ہر قدم گویا "اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ" کی عملی تفسیر ہے۔ یہاں انسان صرف زبان سے ہدایت کی دعا نہیں کرتا بلکہ اپنے قدموں سے بھی اس دعا کا جواب دیتا ہے۔ اربعین ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صراطِ مستقیم صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک زندہ راستہ ہے، جو امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے شہر نجف سے شروع ہو کر سیدالشہداء حضرت امام حسینؑ کے روضۂ مبارک تک پہنچتا ہے؛ وہی راستہ جس پر ان ہستیوں نے چل کر اللہ کی رضا کو اپنی ہر خواہش پر مقدم رکھا۔
پس جب مومن روزانہ نماز میں "اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ" پڑھتا ہے تو درحقیقت وہ یہ دعا کرتا ہے کہ اے پروردگار! ہماری محبتوں کا رخ بھی انہی ہستیوں کی طرف رکھ جن پر تیری نعمتیں نازل ہوئیں، ہمیں بھی انہی کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما، تاکہ ہماری زندگی کا ہر قدم نجف سے کربلا کے اس مقدس سفر کی طرح تیری رضا، تیری اطاعت اور تیرے اولیاءؑ کی محبت کا مظہر بن جائے۔
اللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ أَهْلِ الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِيمِ، وَارْزُقْنَا زِيَارَةَ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي الدُّنْيَا وَشَفَاعَتَهُ فِي الْآخِرَةِ. آمين۔









آپ کا تبصرہ