اتوار 2 اگست 2026 - 20:47
جامعۃ الزہراء سکردو میں معلمات کے لیے منعقدہ پانچ روزہ "روشِ تدریسِ ادبیاتِ عرب" ورکشاپ کامیابی سے اختتام پذیر

حوزہ/جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے بین الاقوامی امور و ارتباطات پاکستان کے زیرِ اہتمام جامعۃ الزہراء سکردو بلتستان میں معلمات کے لیے منعقدہ پانچ روزہ "روشِ تدریسِ ادبیاتِ عرب" ورکشاپ کی اختتامی تقریب یکم اگست بروز ہفتہ جامعۃ الزہراء میں نہایت باوقار اور علمی ماحول میں منعقد ہوئی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے بین الاقوامی امور و ارتباطات پاکستان کے زیرِ اہتمام جامعۃ الزہراء سکردو بلتستان میں معلمات کے لیے منعقدہ پانچ روزہ "روشِ تدریسِ ادبیاتِ عرب" ورکشاپ کی اختتامی تقریب یکم اگست بروز ہفتہ جامعۃ الزہراء میں نہایت باوقار اور علمی ماحول میں منعقد ہوئی۔

تقریب کی مہمانانِ خصوصی جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کراچی (شعبۂ طالبات) کی پرنسپل ڈاکٹر سیدہ تسنیم زہراء موسوی اور شعبۂ امورِ فارغ التحصیلان کی مسئول سیدہ ندا زہراء رضوی تھیں، جبکہ اساتذۂ کرام ،معلمات اور طالبات نے بھرپور شرکت کی۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ مجید سے ہوا، جس کی سعادت جامعۃ الزہراء کے گروہِ کوثر نے حاصل کی؛ بعد ازاں طالبات نے شہدائے اسلام کی یاد میں ترانہ پیش کیا۔

جامعۃ الزہراء سکردو میں معلمات کے لیے منعقدہ پانچ روزہ "روشِ تدریسِ ادبیاتِ عرب" ورکشاپ کامیابی سے اختتام پذیر

ورکشاپ میں شریک معلمات کی نمائندگی کرتے ہوئے خواہر صالحہ فردوس نے اپنے تاثرات پیش کیے۔

انہوں نے جامعۃ المصطفیٰ کراچی کی جانب سے معلمات کی علمی و تدریسی استعداد بڑھانے کے لیے اس نوعیت کے تربیتی کورسز کے انعقاد کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ایسے علمی پروگرام مستقبل میں بھی تسلسل کے ساتھ منعقد کیے جائیں۔

جامعۃ المصطفیٰ کراچی کے شعبۂ تحقیق کے مسؤل مولانا سکندر علی بہشتی نے اپنے خطاب میں اسلام میں خواتین کے علمی، تربیتی اور سماجی کردار کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

جامعۃ الزہراء سکردو میں معلمات کے لیے منعقدہ پانچ روزہ "روشِ تدریسِ ادبیاتِ عرب" ورکشاپ کامیابی سے اختتام پذیر

انہوں نے قرآنِ کریم اور اسلامی تاریخ کی عظیم خواتین کو عصرِ حاضر کی خواتین کے لیے بہترین نمونۂ عمل قرار دیتے ہوئے شرکاء کو رہبرِ معظم انقلاب کی کتاب "عورت؛ گوہرِ ہستی" کے مطالعے کی تلقین کی۔

ورکشاپ کے مدرس حجت الاسلام ڈاکٹر سید بشیر نقوی نے معلمات کی غیر معمولی دلچسپی، نظم و ضبط اور سنجیدگی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ شرکاء اس تربیت کو اپنی عملی تدریسی زندگی میں مؤثر انداز سے بروئے کار لائیں گی۔

جامعۃ الزہراء سکردو میں معلمات کے لیے منعقدہ پانچ روزہ "روشِ تدریسِ ادبیاتِ عرب" ورکشاپ کامیابی سے اختتام پذیر

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کراچی (شعبۂ خواہران) کی پرنسپل ڈاکٹر سیدہ تسنیم زہراء موسوی نے کہا کہ ہر زبان کی روح اس کا ادب ہوتا ہے اور ادب ہی کسی قوم کی تہذیبی، تمدنی اور تاریخی میراث کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عربی زبان و ادب کی بنیاد صرف و نحو پر قائم ہے، لہٰذا ان علوم پر مضبوط دسترس کے بغیر زبان میں مہارت حاصل نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے ڈاکٹر سید بشیر نقوی کو ادبیاتِ عرب کے ایک ماہر اور تجربہ کار استاد قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کے علمی ورکشاپس مستقبل میں بھی منعقد ہوتے رہیں گے۔

جامعۃ الزہراء سکردو میں معلمات کے لیے منعقدہ پانچ روزہ "روشِ تدریسِ ادبیاتِ عرب" ورکشاپ کامیابی سے اختتام پذیر

انہوں نے اس کامیاب پروگرام کے انعقاد پر جامعۃ الزہراء کی انتظامیہ، اساتذہ اور منتظمین کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔

جامعۃ الزہراء کے پرنسپل شیخ رضا بہشتی نے نیز اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔

اختتام پر جامعۃ الزہراء کے شعبۂ تحقیق کی مسئول خواہر شازیہ حیات نے مہمانانِ گرامی، اساتذۂ کرام، منتظمین، شرکاء اور بالخصوص ڈاکٹر سید بشیر نقوی کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔

تقریب کے آخر میں ورکشاپ کے دوران نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی تین معلمات میں انعامات تقسیم کیے گئے، جبکہ تمام شرکاء کو یادگاری طور پر نفیس علمی کتب بھی پیش کی گئیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha