حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تقریب کا آغاز حافظ سید ساجد رضوی نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا جبکہ حافظ شریف کاشفی نے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت اطہار علیہم السلام میں نعت و منقبت کا نذرانہ پیش کیا۔
اجتماع کے دوران فارغ التحصیل حفاظ کی نمائندگی کرتے ہوئے حافظ شجاعت کمال، حافظ سید مطہر اور حافظ وسیم سجاد نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔
انہوں نے ادارے میں حاصل کی جانے والی علمی و تربیتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اساتذۂ کرام کی علمی و اخلاقی کاوشوں کو سراہا اور فارغ التحصیل حفاظ کے درمیان باہمی روابط اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

بعد ازاں پرنسپل حجۃ الاسلام شیخ محمد الیاس قمی، حجۃ الاسلام شیخ شبیر واعظی، حجۃ الاسلام شیخ غلام محمد اعظمی اور حجۃ الاسلام شیخ احمد عرفانی نے خطاب کرتے ہوئے قرآن کریم سے مضبوط وابستگی، اخلاصِ عمل، دینی خدمت، اتحاد و اخوت اور معاشرے میں حفاظِ کرام کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے فارغ التحصیل حفاظ کو علم و عمل کے میدان میں مؤثر کردار ادا کرنے اور قرآنی تعلیمات کو معاشرے میں عام کرنے کی تلقین کی۔
نمازِ ظہرین کی ادائیگی کے بعد اجتماعی مشاورتی نشست منعقد ہوئی، جس میں ادارے کی ترقی، فارغ التحصیل حفاظ کے باہمی تعاون، آئندہ کے پروگراموں اور مختلف تعلیمی و تربیتی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے متعدد تجاویز پیش کیں اور اس نوعیت کے اجتماعات کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

اجتماع کے اختتام پر بانیٔ ادارہ شیخ الجامعہ رحمہ اللہ کے ایصالِ ثواب، بلندیٔ درجات اور ان کی اہلیہ کے یومِ رحلت کی مناسبت سے خصوصی دعا اور فاتحہ خوانی کی گئی۔ بعد ازاں حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی سلامتی، جلد ظہور اور امتِ مسلمہ کی خیر و برکت کے لیے اجتماعی دعا کی گئی، جس کے ساتھ سالانہ اجتماع اپنے اختتام کو پہنچا۔









آپ کا تبصرہ