منگل 11 اگست 2026 - 23:11
جدید تدریسی اسلوب صرف مدارس ہی نہیں بلکہ کالج و یونیورسٹی میں بھی انتہائی مفید ہو سکتے ہیں

حوزہ / جامعہ طوسی کواردو، بلتستان میں ’’ادبیاتِ عرب کی جدید اسالیب‘‘ کے موضوع پر منعقدہ چار روزہ تدریسی ورکشاپ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ کے اختتام پر جامعۃ طوسی کے اساتذہ نے ورکشاپ کے موضوع، طریقۂ تدریس اور اس کے عملی فوائد کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مفید اور مؤثر قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اساتذہ نے ادبیاتِ عرب کی تدریس کے جدید اسلوب کو جاری رکھنے اور اس حوالے سے مزید تربیتی پروگرام منعقد کرنے پر زور دیا۔

مولانا علی محمد صابری نے کہا: اگرچہ ورکشاپ کا دورانیہ مختصر تھا، تاہم یہ انتہائی مفید اور مؤثر ثابت ہوئی۔

انہوں نے کہا: جس طرح دیگر علوم کی تدریس کا ایک منظم نظام موجود ہے، اسی طرح اس ورکشاپ سے یہ بات سامنے آئی کہ ادبیاتِ عرب سیکھنے اور سکھانے کا بھی ایک باقاعدہ اور منظم طریقۂ کار موجود ہے۔

مولانا علی محمد صابری نے اس سلسلے کو مستقبل میں بھی جاری رکھنے اور مزید تربیتی نشستوں کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔

جدید تدریسی اسلوب صرف مدارس ہی نہیں بلکہ کالج و یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے بھی انتہائی مفید ہو سکتا ہے

شیخ جعفر علی نے نحوِ مفہومی کے حوالے سے ہونے والی گفتگو کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے کہا: اب تک ہم ادبیاتِ عرب کی تدریس کے روایتی اسلوب کے عادی تھے، تاہم ورکشاپ میں مدرس نے ہمیں جدید اور مؤثر طریقۂ تدریس سے آشنا کیا۔

انہوں نے کہا: اس جدید اسلوب کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ اس سے طلبہ کے لیے عربی زبان و ادب کو سمجھنا آسان اور مؤثر ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں قرآن و حدیث کے متون کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔

شیخ جعفر علی نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اس جدید اسلوب کو آئندہ اپنی تدریس میں عملی طور پر بروئے کار لائیں گے۔

مولانا فدا علی نے کہا: ورکشاپ کے عنوان اور مباحث سے اندازہ ہوا کہ یہ کس قدر مفید اور مؤثر ہے۔

انہوں نے کہا: عام طور پر لوگ ادبیاتِ عرب کو ایک مشکل مضمون سمجھتے ہیں، جس کی ایک وجہ روایتی اور قدیم طرزِ تدریس بھی ہے۔

انہوں نے کہا: ورکشاپ کے مدرس نے ادبیاتِ عرب کو نہایت آسان، دلچسپ اور مؤثر انداز میں پیش کیا، جس سے اس مضمون کو سمجھنے میں خاصی سہولت پیدا ہوئی۔

جدید تدریسی اسلوب صرف مدارس ہی نہیں بلکہ کالج و یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے بھی انتہائی مفید ہو سکتا ہے

مولانا فدا علی نے مزید کہا: یہ جدید اسلوب صرف مدارس کے طلبہ کے لیے ہی نہیں بلکہ کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے بھی یکساں طور پر مفید ہوسکتا ہے۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ اس نوعیت کے دروس کو ریکارڈ کیا جائے تاکہ مستقبل میں زیادہ سے زیادہ اساتذہ اور طلبہ ان سے استفادہ کرسکیں۔

مولانا فدا علی نے کہا: اساتذہ کے لیے اس طرح کی تربیتی ورکشاپ کم از کم سال میں ایک مرتبہ ضرور منعقد ہونی چاہیے۔

جامعہ طوسی کے اساتذہ نے مجموعی طور پر ورکشاپ کے مختصر دورانیے کے باوجود اسے نہایت مفید قرار دیتے ہوئے ادبیاتِ عرب کی تدریس کے جدید اسلوب سے متعلق اس تربیتی سلسلے کو مزید منظم اور مسلسل جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

قابل ذکر ہے کہ پروگرام کے اختتام پر ورکشاپ میں فعال، تسلسل اور دلچسپی کے ساتھ شرکت کرنے والے اساتذہ میں حوصلہ افزائی کے انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha