جمعہ 7 اگست 2026 - 18:59
مہارت سیکھنے کے بعد اسے عملی میدان میں بروئے کار لانا طلبہ کی ذمہ داری ہے

حوزہ /  جامعہ محمدیہ مہدی آباد میں منعقدہ دو روزہ فنِ تحقیق و تحریر ورکشاپ کی اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ محمدیہ کے پرنسپل حجت الاسلام شیخ جواد مقدسی نے کہا: دینی مدارس میں پہلے مختلف مہارتوں پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی رہی، تاہم اب اس اہم ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے مختلف علمی و تحقیقی مہارتوں کی تعلیم کا باقاعدہ اہتمام کیا جا رہا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام شیخ جواد مقدسی نے کہا: اسلامی روایات میں علم کو محفوظ کرنے کے لیے کتابت اور تحریر پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ حدیثِ مبارک «قَيِّدُوا الْعِلْمَ بِالْكِتَابَةِ» (علم کو لکھ کر محفوظ کرو) بھی اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اس لیے ہر طالب علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحریر و تحقیق کی صلاحیت کو مسلسل نکھارتا رہے۔

انہوں نے مزید کہا: اس ورکشاپ میں استاد محترم نے تحقیق و تحریر کے بنیادی اصول اور عملی ضوابط نہایت آسان انداز میں بیان کیے ہیں۔ آپ پہلے بھی لکھتے تھے لیکن اب ضروری ہے کہ انہی اصولوں اور قواعد کی روشنی میں تحریر کریں۔

مہارت سیکھنے کے بعد اسے عملی میدان میں بروئے کار لانا طلبہ کی ذمہ داری ہے

حجت الاسلام شیخ جواد مقدسی نے کہا: اصل کامیابی اسی وقت حاصل ہوگی جب ان سیکھی ہوئی مہارتوں کو عملی زندگی میں استعمال کیا جائے۔ اب یہ طلبہ کے ذوق، محنت اور مستقل مزاجی پر منحصر ہے کہ وہ مسلسل لکھنے کی مشق جاری رکھیں۔ بار بار قلم اٹھانے، مطالعہ کرنے اور اصلاح کے عمل سے ہی انسان مکمل مہارت حاصل کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ایک کامیاب مصنف اور محقق بننے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کسی موضوع پر قلم کیسے اٹھایا جائے اور اسے علمی و مؤثر انداز میں کیسے تحریر کیا جائے۔

جامعہ محمدیہ کے پرنسپل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آج ہمارے پاس جو قیمتی کتابیں اور علمی آثار موجود ہیں، وہ علماء کی مسلسل محنت، تحقیق اور استقامت کا نتیجہ ہیں۔ طلبہ بھی اگر انہی اوصاف کو اپنائیں تو مستقبل میں بہترین مصنف، محقق اور اہلِ قلم بن سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha