حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۃ منصوریہ سکردو بلتستان پاکستان میں شعبۂ تحقیق، نمایندگیِ جامعۃ المصطفیٰ پاکستان کے زیرِ اہتمام تین روزہ تحقیقی ورکشاپ کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس ورکشاپ کا مقصد طلبہ کو تحقیق و تحریر کے بنیادی اصولوں، علمی اسالیب اور عصرِ حاضر کے تحقیقی تقاضوں سے روشناس کروانا اور ان میں قلمی صلاحیتوں کو فروغ دینا تھا۔
ورکشاپ کی افتتاحی تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ الٰہی سے ہوا، جس کے بعد جامعہ کے استادِ محترم مولانا شیخ محمد علی ذاکری نے شرکاء سے خطاب کیا۔
انہوں نے شعبۂ تحقیق، نمایندگیِ جامعۃ المصطفیٰ پاکستان، بالخصوص شیخ سکندر علی بہشتی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ میں تحقیق و تحریر کی استعداد پیدا کرنے کے لیے اس نوعیت کی علمی ورکشاپس وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
انہوں نے مقالہ نویسی اور مضمون نگاری کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ تمام سیشنز میں نظم و ضبط، دلچسپی اور انہماک کے ساتھ شریک ہوں اور اساتذہ کی علمی رہنمائی سے بھرپور استفادہ کریں۔
اس کے بعد شیخ سکندر علی بہشتی نے فنِ تحقیق و تحریر، اس کے بنیادی اصول، اقسام اور جدید تحقیقی تقاضوں پر مفصل گفتگو کی۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ ہر تحریر کا آغاز عمیق فکر، مستند مطالعے اور حقیقت پسندی سے ہونا چاہیے۔ ان کے بقول: "پہلے سوچیں، پھر سچائی کو قلم بند کریں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ اگر طلبہ دینی، علمی اور سماجی موضوعات پر مسلسل تحقیق اور تحریر کا ذوق اپنائیں تو وہ نہ صرف اپنی علمی صلاحیتوں کو نکھار سکتے ہیں، بلکہ معاشرے کی فکری رہنمائی میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مطالعے کے ساتھ مسلسل لکھنے کی عادت اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط قلم ہی مضبوط فکر کی ترجمانی کرتا ہے۔
ورکشاپ کے ایک خصوصی سیشن سے جامعۃ المصطفیٰ قم کے ریسرچ اسکالر مولانا صادق جعفری نے خطاب کیا۔
انہوں نے فنِ تحریر کی اہمیت، اس کی ضرورت اور موجودہ دور کے تقاضوں پر جامع اور مؤثر گفتگو کرتے ہوئے طلبہ کو مختصر اور آسان موضوعات پر مستقل لکھنے کی ترغیب دی۔
ورکشاپ کے دوران طلبہ کو مختلف مختصر موضوعات پر مضامین اور تحریریں لکھنے کی عملی مشق کروائی گئی؛ جس سے طلبہ کو عملی طور پر تحقیق و تحریر کے اصول سیکھنے کا بہترین موقع ملا۔
اختتامی سیشن میں طلبہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے اس ورکشاپ کو اپنی علمی زندگی کا ایک منفرد اور مفید تجربہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ انہیں فنِ تحقیق و تحریر کی اہمیت، اس کے اصول اور عملی طریقۂ کار سے باقاعدہ آگاہی حاصل ہوئی، جس سے ان میں علمی و تحقیقی ذوق پروان چڑھا۔
طالبِ علم سجاد حسین نے اپنے تاثرات میں کہا کہ اس ورکشاپ نے ان کے اندر تحقیق اور تحریر کا نیا شوق پیدا کیا، لکھنے کی جھجھک دور ہوئی، حوالہ جات مرتب کرنے کا طریقہ سیکھنے کا موقع ملا اور کتاب نویسی میں دلچسپی پیدا ہوئی۔
اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولانا شیخ محمد علی ذاکری نے اس علمی و تحقیقی پروگرام کو خوش آئند قرار دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ جامعۃ منصوریہ میں تحقیق، تصنیف اور علمی تربیت کے ایسے سلسلے آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے، تاکہ طلبہ کو عصرِ حاضر کے علمی و تحقیقی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے اور انہیں مؤثر اہلِ قلم اور باصلاحیت محققین کے طور پر تیار کیا جا سکے۔









آپ کا تبصرہ