حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس علمی و تربیتی ورکشاپ کی تدریس شیخ سکندر علی بہشتی نے انجام دی۔ ورکشاپ کا بنیادی مقصد طلبہ کو تحقیق، مطالعہ، مضمون نویسی، علمی اسلوب، حوالہ نویسی اور جدید تحقیقی اصولوں سے روشناس کرانا تھا تاکہ وہ مستقبل میں علمی و تحقیقی میدان میں مؤثر اور معیاری کردار ادا کر سکیں۔
ورکشاپ کے دوران شیخ سکندر علی بہشتی نے فنِ تحقیق و تحریر کے مختلف اہم موضوعات پر نہایت سادہ، مؤثر اور عملی انداز میں گفتگو کی۔ جس میں انہوں نے واضح کیا کہ ایک کامیاب محقق کے لیے وسیع مطالعہ، علمی دیانت، تنقیدی فکر، صبر، استقامت اور مسلسل محنت بنیادی شرائط ہیں۔

انہوں نے تحقیق کے مختلف مراحل، موضوع کے درست انتخاب، مواد کی تنظیم، معتبر مصادر سے استفادہ، حوالہ نویسی کے اصول، علمی اسلوبِ تحریر اور تحقیقی اخلاقیات کو عملی مثالوں کے ذریعے جامع انداز میں بیان کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ طلبہ کو تحقیقی و تحریری مہارتوں میں پیش آنے والی عام غلطیوں اور ان کے حل سے بھی آگاہ کیا۔
ورکشاپ کے دوران سوال و جواب کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جس کے باعث طلبہ نے بھرپور دلچسپی کے ساتھ شرکت کی، علمی سوالات پیش کیے، نوٹس مرتب کیے اور اساتذہ کی قیمتی رہنمائی سے بھرپور استفادہ کیا۔ شرکاء نے پورے انہماک، سنجیدگی اور علمی ذوق کے ساتھ تمام نشستوں میں حصہ لیا۔

قابل ذکر ہے کہ یہ علمی و تحقیقی ورکشاپ طلبہ کے لیے نہایت مفید، مؤثر اور کامیاب ثابت ہوئی۔ اس کے نتیجے میں طلبہ میں تحقیق و تحریر کا شوق بیدار ہوا، علمی اعتماد میں اضافہ ہوا اور معیاری تحقیقی و تصنیفی خدمات انجام دینے کی راہ مزید ہموار ہوئی۔










آپ کا تبصرہ