جمعہ 25 ستمبر 2026 - 23:03
توحید محض نظری عقیدہ نہیں، عملی زندگی کی ذمہ داری بھی ہے: مولانا سید رضا حیدر زیدی

حوزہ/ شاہی آصفی مسجد میں نماز جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی نے توحید کو اسلام کی روح اور ایمان کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ توحید محض ایک نظری عقیدہ نہیں بلکہ انسان کی عملی زندگی، کردار اور ذمہ داریوں سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ انہوں نے معرفتِ توحید کے حصول، ’’لا إلہ إلا اللہ‘‘ کے عملی تقاضوں، ائمۂ اہل بیتؑ کے علمی و اخلاقی اسلوب اور موجودہ عالمی حالات میں مظلومین کی حمایت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لکھنؤ/ شاہی آصفی مسجد، لکھنؤ میں 25 ستمبر 2026 کو نماز جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی، پرنسپل حوزہ علمیہ حضرت غفران مآبؒ لکھنؤ، کی اقتدا میں ادا کی گئی۔ نماز سے قبل خطبۂ جمعہ میں انہوں نے تقویٰ، معرفتِ توحید، ائمۂ اہل بیتؑ کے علمی و اخلاقی اسلوب اور توحید کے عملی تقاضوں پر تفصیلی گفتگو کی۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے پہلے خطبے میں تقویٰ الٰہی اختیار کرنے کی تاکید کرتے ہوئے بارش کو رحمتِ الٰہی قرار دیا اور مومنین کے لیے تقویٰ و پرہیزگاری، دلوں میں نورِ تقویٰ اور دعا کی قبولیت کی دعا کی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ خطبۂ غدیریہ کے سلسلے کے بعد اب ’’توحید‘‘ کے موضوع پر ایک نئے سلسلے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توحید اسلام کی روح اور ایمان کی بنیاد ہے، اس لیے اسے شعوری اور معرفتی انداز میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں بنیادی طور پر دو پہلوؤں پر گفتگو کی جائے گی: توحید کی معرفت حاصل کرنے کے راستے کیا ہیں اور ’’لا إلہ إلا اللہ‘‘ کے اقرار کے بعد انسان پر کون سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ’’توحیدِ مفضل‘‘ کو بنیادی ماخذ کے طور پر پیشِ نظر رکھا جائے گا۔ مفضل بن عمرو جعفی کا تعارف پیش کرتے ہوئے انہوں نے امام جعفر صادقؑ سے ان کے تعلق اور کتاب کی نسبت پر گفتگو کی۔ ابن ابی العوجاء کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے مولانا نے امام صادقؑ کے علمی اسلوب، تحمل اور مخالف کے ساتھ گفتگو کے انداز کو نمایاں کیا اور کہا کہ ائمۂ اہل بیتؑ کے پیروکاروں کو بھی اپنے کردار اور گفتگو میں ان کے اخلاقی اسلوب کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔

مولانا نے کہا کہ توحید محض ایک نظری عقیدہ نہیں بلکہ عملی زندگی سے وابستہ ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے امام حسینؑ کی قربانی کو توحید کے تحفظ کے تناظر میں بیان کرتے ہوئے توحیدی عقیدے کو صحیح معرفت اور عملی زندگی کے تقاضوں کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

نیکی کو معاشرے کی ضرورت سے جوڑنے کی تاکید

دوسرے خطبے میں مولانا سید رضا حیدر زیدی نے تقویٰ، آخرت کی جواب دہی اور اعمال کی اصلاح کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ انسان کو اپنی نیکیوں کو معاشرے کی حقیقی ضرورتوں سے جوڑنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

انہوں نے ایصالِ ثواب کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ادوار میں معاشرے کی ضروریات بدلتی رہی ہیں۔ ماضی میں کنواں کھود کر پانی فراہم کرنا ایک بڑی سماجی خدمت تصور کیا جاتا تھا، جبکہ آج تعلیم، علاج اور دیگر بنیادی ضروریات کے میدان میں ضرورت مندوں کی مدد بھی ایصالِ ثواب کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ کسی مستحق بچے کی تعلیمی فیس ادا کرنا یا کسی مریض کے علاج میں تعاون کرنا مرحومین کے ایصالِ ثواب کی نیت سے کیا جا سکتا ہے۔

عالمی حالات اور مظلومین کی حمایت پر زور

خطبے کے دوسرے حصے میں مولانا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس اور عالمی حالات کا ذکر کیا۔ انہوں نے امریکی، ایرانی اور اسرائیلی قیادت کے خطابات اور فلسطین و غزہ کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے مظلومین کی حمایت، اسلامی معاشروں میں اتحاد اور ظلم کے مقابلے میں انسانی و اخلاقی ذمہ داریوں پر زور دیا۔

انہوں نے مسلم معاشرے، بالخصوص اہل سنت، سے باہمی اتحاد اور خطے کے حالات کو سنجیدگی سے سمجھنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی و مسلکی اختلافات سے بالاتر ہوکر مظلوم انسانوں کی حمایت اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ضروری ہے۔

خطبے کے اختتام پر مولانا نے مظلومین کی نصرت، ظالموں کے ظلم کے خاتمے، بیماروں کی شفا، مرحومین کی مغفرت، والدین کے لیے رحمت اور ملک میں امن و امان کے قیام کی دعا کی۔ انہوں نے علما و بزرگانِ دین، خصوصاً ان علما کے لیے بھی دعائے مغفرت کی جنہوں نے شاہی آصفی مسجد کے مصلے سے نمازیں پڑھائی ہیں، اور اللہ تعالیٰ سے دینی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور امامِ عصرؑ کی معرفت و اطاعت کی توفیق طلب کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha