حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ماگام، یاگی پورہ/ حجۃ الاسلام مولانا گوہر حسین نے 18 ستمبر 2026ء کو یاگی پورہ، ماگام جموں و کشمیر میں نمازِ جمعہ کے خطبے میں ’’خوشحال گھرانہ اور اس کے بنیادی اصول‘‘ کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط، پُرسکون اور خوشحال گھرانے کی بنیاد چند بنیادی اصولوں پر قائم ہوتی ہے، جن پر عمل پیرا ہو کر گھریلو زندگی کو محبت، سکون اور باہمی اعتماد کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔
مولانا گوہر حسین نے خوشحال گھرانے کے پہلے بنیادی اصول کے طور پر باہمی احترام کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ میاں اور بیوی کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔ باہمی عزت و احترام خوشحال گھرانے کی بنیادی ضرورت ہے۔ اگر گھر کے افراد ایک دوسرے کے مقام، جذبات اور حقوق کا احترام کریں تو گھر کی بنیاد مضبوط اور اس کا ماحول پُرسکون رہتا ہے۔
انہوں نے ازدواجی زندگی کے دوسرے اہم اصول کے طور پر عذر پذیری اور خطاپوشی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ میاں اور بیوی دونوں کو ایک دوسرے کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف کرنے، درگزر کرنے اور معمولی باتوں کو نظر انداز کرنے کا حوصلہ رکھنا چاہیے۔ ہر انسان سے خطا کا امکان ہے، اس لیے معافی اور درگزر گھر کے سکون کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
خطبۂ جمعہ میں عفاف، حیا اور حجاب کے موضوع پر بھی تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے مولانا گوہر حسین نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو خواتین کے لیے عفت، حیا اور پاکیزگی کا بہترین نمونہ قرار دیا اور کہا کہ موجودہ دور میں خواتین کو اپنی زندگی میں سیرتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو نمونۂ عمل بنانا چاہیے۔
انہوں نے موجودہ دور کے ثقافتی اثرات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ہماری معاشرتی اقدار اور ثقافت پر مغربی ثقافت کے اثرات بڑھ رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں اپنی اسلامی شناخت، حیا اور عفت کی حفاظت کے لیے سیرتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے۔
قرآن کریم کی دو عظیم نمونہ شخصیات
مولانا گوہر حسین نے قرآن کریم کی روشنی میں حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں عفاف، پاکدامنی اور حیا کے روشن نمونوں کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان مقدس ہستیوں کی زندگی ہمارے لیے یہ درس رکھتی ہے کہ انسان ناموافق اور مشکل حالات میں بھی اپنی پاکیزگی، کردار اور حیا کی حفاظت کر سکتا ہے۔
خاندان اور معاشرے کی تعمیر میں عورت کا کردار
خطبۂ جمعہ میں عورت کے معاشرتی کردار کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ ایک عورت اپنے گھر کی تربیت کے ذریعے پورے معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ایک صالح، باحیا اور باکردار عورت بہترین نسل اور صالح معاشرے کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے، جبکہ اخلاقی اور معاشرتی اقدار سے دوری معاشرے پر منفی اثرات بھی مرتب کر سکتی ہے۔
اس سلسلے میں مولانا گوہر حسین نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بلعم باعورا سے متعلق تاریخی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ دشمن جب کسی معاشرے کو اخلاقی طور پر کمزور کرنا چاہتا ہے تو اس کے عفت و حیا کے نظام کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے معاشرے کی اخلاقی حفاظت اور خواتین کی عفت و حیا کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
قرآن کریم کی ہدایت
خطبے کے اختتام پر مولانا گوہر حسین نے سورۂ احزاب کی آیت 59 اور اس سے متعلقہ آیات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ قرآن کریم نے ہمارے لیے زندگی گزارنے کا واضح راستہ بیان کیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن کریم کی ہدایات کو اپنی انفرادی، خاندانی اور معاشرتی زندگی میں عملی طور پر نافذ کریں۔
انہوں نے کہا کہ خوشحال گھرانہ صرف مادی آسودگی سے وجود میں نہیں آتا بلکہ اس کے لیے باہمی احترام، عذر پذیری و خطاپوشی، عفاف و حجاب اور اسلامی اقدار کی پاسداری ضروری ہے۔ اگر خاندان قرآن کریم اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات اور سیرتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو اپنی زندگی کا نمونہ بنائے تو گھر میں سکون، محبت اور خوشحالی پیدا ہو سکتی ہے۔
مولانا گوہر حسین نے مزید کہا کہ مضبوط اور صالح خاندان ہی ایک باکردار اور صالح معاشرے کی بنیاد بنتا ہے، لہٰذا خاندان کی اخلاقی و دینی تربیت پر توجہ دینا درحقیقت پورے معاشرے کی اصلاح اور تعمیر کی بنیاد فراہم کرنا ہے۔









آپ کا تبصرہ